Dr Ibrahim Mughal, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 May 2021 (11:17) 2021-05-07

ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے وقت سے ہی وطنِ عزیز میں ہونے والے تقریباً ہر الیکشن کے بعد ان کے دھاندلی زدہ ہونے کے الزامات لگتے رہے۔اب موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ میں اپوزیشن کو دعوت دیتا ہوں کہ انتخابی اصلاحات پر ہمارے ساتھ بیٹھیں، ہماری حکومت انتخابی اصلاحات لانے کے لیے پُرعزم ہے، ٹیکنالوجی کے استعمال سے انتخابی نظام میں شفافیت آئے گی۔ انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے 2020ء کا امریکی الیکشن متنازع بنانے کی ہرممکن کوشش کی، لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے کوئی انتخابی بے ضابطگی ثابت نہ ہوسکی، ایک سال سے اپوزیشن کو کہہ رہے ہیں انتخابی اصلاحات میں ہمارا ساتھ دے۔لیکن اس بارے میں پہلا اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتخابی اصلاحات کے بعد دھاندلی کے الزامات سے پاک الیکشن ممکن ہوپائیں گے؟ اگرچہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں ای وی ایم کے ذریعے ہی انتخابات کرائے جاتے ہیں۔ ای ووٹنگ میں صاف شفاف انتخابات کے لیے دو بنیادی ترین چیزیں جن میں ووٹ کی درست گنتی اور سسٹم ہیک نہ ہونا انتہائی ضروری ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے تحت ووٹ کی ٹریل کا سسٹم بنانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اگر دھاندلی کا کوئی الزام لگاتا ہے تو آپ کیسے ثابت کریںگے کہ دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں؟ جیسا کہ 2018ء کے عام انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم متعارف کروایا گیا اور وہی ٹیکنالوجی پورے انتخابات کے متنازع ہونے کی وجہ بن گئی۔ ایک رائے یہ بھی سامنے آتی ہے کہ بجائے پرانی ٹیکنالوجی کی طرف جانے کے انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے الیکشن ہونے چاہئیں تاکہ اس سارے عمل میں اعتماد بحال رہے۔ مثال کے طور پر بھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کروائے جاتے ہیں جبکہ بنگلہ دیش میں بھی گزشتہ انتخابات میں اس نظام کو آزمائشی طور پر استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی ترقی یافتہ ممالک میں بھی ای وی ایم کے ذریعے ہی انتخابات کرائے جاتے ہیں جبکہ امریکا میں ووٹوں کی گنتی مشین کے ذریعے کی جاتی ہے۔کسی بھی ملک کے نظام کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے اور اسے عوامی خواہشات کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اصلاحات کی ہمیشہ گنجائش ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی آئینی، انتظامی، قانونی، انتخابی، عدالتی اور معاشی اصلاحات کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وقت کے ساتھ تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں انہیں مزید بہتر بنایا جاسکے۔ 1973ء کے آئین میں صاف شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات یقینی بنانے کی ضمانت موجود ہے مگر طریق کار پر اختلافات رفع نہیں ہوسکے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعد پھر ضرورت محسوس کی جارہی ہے کہ جامع انتخابی اصلاحات کے ذریعے یہ مسئلہ حل کیاجائے۔ اگرچہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی وسیع خلیج حائل ہے، یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم کی پیشکش پر فوری ردّ عمل دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی ساکھ انصاف، شفافیت اور قانون کی حکمرانی سے بہتر ہوتی ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے نہیں۔ انتخابی اصلاحات تمام فریقین کی مشاورت، عوام کی رائے کی روشنی اور اتفاق رائے سے ممکن ہوتی ہیںپاکستان میں عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات ایک روایت بن چکی ہے، جو انتخابی عمل کو نہ صرف مشکوک بناتی ہے بلکہ اس کی شفافیت پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔ لیکن اصلاحات کے عمل کو کسی حکومت نے سنجیدگی سے سرانجام نہیں دیا، سب نے وقت گزاری کے چلن کو اپنایا ہے، جس کی وجہ سے موجودہ انتخابی نظام میں خرابیاں جڑ پکڑ چکی ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے اختیارات، وسائل اور فنڈز انتہائی 

محدود ہیں۔ سب کے علم میں ہے کہ الیکن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے۔ الیکشن کمیشن پر حکومتی وزیروں کی نکتہ چینی اداروں کو متنازع بنانے کے مترادف ہے۔انتخابی نظام میں تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے۔ دراصل پاکستان کا موجودہ انتخابی نظام 12 ویں صدی کا قدیم ترین نظا م ہے جس کے لیے فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ کی اصطلاح یعنی ایف پی ٹی پی استعمال ہوتی ہے۔ ایف پی ٹی پی سسٹم میں زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار فاتح کہلاتا ہے، ووٹر صرف اپنے انتخابی حلقے میں اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام پر مہر لگاتا ہے اور سب سے زیادہ ووٹ لینے والا امیدوار جیت جاتا ہے۔ یہ نظام قانون سازی کے عمل کی شفافیت کے لیے ایک واضح 

اپوزیشن تشکیل دیتا ہے۔ حلقہ بندیوں اور ان کے نمائندوں کے مابین روابط کو فروغ ملتا ہے۔ ووٹرز جماعتوں کے بجائے لوگوں کے درمیان انتخاب کرسکتے ہیں جبکہ مقبول آزاد امیدواروں کے منتخب ہونے کا امکان پیدا ہوتا ہے گو کہ یہ نظام سادہ اور سمجھنے میں آسان لگتا ہے، لیکن اس میں خامیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ جیسا کہ چھوٹی جماعتوں کو ’منصفانہ‘ نمائندگی کا موقع کم ملتا ہے۔ ایک اصول کے مطابق اقلیتوں کو منصفانہ نمائندگی سے خارج کیا گیا ہے۔ خواتین کے براہِ راست منتخب ہونے کے مواقع انتہائی کم اور مسدود ہیں۔ موجودہ انتخابی نظام برادری سسٹم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ جہاں ایک پارٹی کسی صوبے یا علاقے کی تمام سیٹیں جیت لیتی ہے، اگر کسی جماعت کو کسی ملک کے کسی خاص حصے میں زبردست حمایت حاصل ہے تو وہ کثیر تعداد سے ووٹ حاصل کرتی ہے تو وہ اس علاقے کی تمام یا قریب قریب تمام سیٹیں جیت لے گی۔ بے شمار ووٹ غیرواضح ہونے کی وجہ سے مسترد کرکے ضائع کردیئے جاتے ہیں۔ اس نظام سے ووٹ تقسیم ہونے کا سبب بن سکتا ہے جہاں دو جماعتیں یا امیدوار مقابلہ کرتے ہیں۔ ملک کی انتخابی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو 1970ء سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لیے ہونے والے ہر انتخابات ایف پی ٹی پی نظام کے ماتحت ہوئے ہیں اور ہمیشہ پاکستان میں کم ٹرن آؤٹ نے انتخابات کو متاثر کیا ہے۔صرف چار انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا عمل 50 فیصد سے زیادہ تھا، جبکہ دیگر انتخابات میں رائے دہندگان کی تعداد 35 سے 45 فیصد تک ہے۔ رائے دہندگان کی عدم دلچسپی کی بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ووٹرز کو یقین ہے کہ ان کے ووٹ سے نتائج پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ انتخابی عمل سے الگ ہوگئے ہیں جیسا کراچی کے حلقہ قومی اسمبلی 249 کے انتخابات کے دوران ووٹنگ کی شرح انتہائی کم ترین رہی اور اس پر تنازعات نے بھی جنم لیا۔ اصولی طور پر ووٹنگ کی شرح انتہائی کم رہنے پر الیکشن کے عمل کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخاب کا انعقاد کروایا جانا چاہیے کیونکہ قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والا امیدوار صرف سولہ ہزار ووٹ لے کر جیتے تو یہ بھی ایک مذاق سے کم نہیں ہے، جبکہ مخالف امیدواروں کے کل ووٹ کئی سو گنا زائد ہوں۔ یہ حقیقی نمائندگی سے عاری نظام محسوس ہوتا ہے۔ اس کا حل ترکی طرز پر دو سب سے زائد ووٹ لینے والے امیدواروں کے درمیان دوبارہ مقابلہ کروانا اور پچاس فیصد ووٹوں کا حصول بھی لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔دوسری جانب یہ امر بھی انتہائی پریشان کن ہے کہ فاتح جماعتوں نے کل رجسٹرڈ ووٹوں میں سے 15% سے 20% تک ہی ووٹ حاصل کیے۔ مزید 20% سے 25% رائے دہندگان نے دوسری پارٹیوں کو ووٹ دیا جبکہ 55% سے 65% نے ووٹ ڈالنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ کل ووٹوں میں سے صرف 15 سے 20 فیصد ووٹ لینے والی جماعت کا پوری 100% آبادی پر حکومت کرنا مضحکہ خیز ہے۔ انتخابی نظام کو لوگوں کے حقیقی مینڈیٹ کی عکاسی کرنی چاہیے اور صرف حقیقی اکثریت حاصل کرنے والے کو ہی ملک پر حکمرانی کرنی چاہیے۔ اگر موجودہ انتخابی نظام پر مزید بات کی جائے تو اس نظام نے قوم پرستی، علاقائیت اور قبائلی ازم کو فروغ دیا ہے۔ پاکستان میں موجودہ انتخابی نظام نے قوموں اور برادریوں کو فرقوں میں تقسیم کردیا ہے۔ لہٰذا یہ بات وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے کہ موجودہ انتخابی نظام اور عمل میں انقلابی تبدیلیاں لائی جائیں تاکہ عوام اپنے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کرسکیں۔


ای پیپر