Riaz ch, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 May 2021 (11:13) 2021-05-07

 گزشتہ دنوں ہونے والے بھارت کی 5 ریاستوں مغربی بنگال، تامل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری کے ودھان اسمبلی کے انتخابات میں مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو 3 ریاستوں میں شکست کا سامناکرنا پڑا جبکہ دو ریاستوں میں انتخابی اتحاد کے باعث بہ مشکل سبقت حاصل کرسکی۔ 

 آسام اسمبلی انتخابات 2021 میں کل 336 مسلم امیدواروں نے حصہ لیا تھا، جس میں سے 31 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے۔آسام میں اسمبلی رکن کے طور پر منتخب ہونے والے زیادہ تر (15) مسلم اراکین اسمبلی آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ(اے آئی یو ڈی ایف)سے ہیں۔ اے آئی یو ڈی ایف نے کل 16 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اے آئی یو ڈی ایف نے 2016 میں انتخابات میں 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور اس  اسمبلی میں کل 30 مسلم ارکان اسمبلی تھے۔آسام اسمبلی میں منتخب ہونے والے دیگر مسلم ایم ایل ایز کانگریس سے ہیں۔ کانگریس سے بھی 15 مسلم امیدوار جیت کر اسمبلی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ایک دیگر مسلم امیدوار نومل مومن بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہیں۔ 2016 کے انتخابات میں 02 مسلم امیدواروں نے بی جے پی کی ٹکٹ پر جیت درج کی تھی۔

2019 میں بھارت کے لوک سبھا کے لیے22 مسلمان امیدوار کامیاب ہوئے۔ لوک سبھا میں مسلمانوں کی نمائندگی ان کی آبادی کے تناسب سے کم ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 14 فیصد سے زائد ہے اور لوک سبھا میں ان کی نمائندگی اس حوالے سے 5 فیصدسے بھی کم ہے۔اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ لوک سبھا کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کرنے والی بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے والا کوئی بھی مسلمان امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا۔بی جے پی نے مجموعی طور پر 6 مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیے تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی امیدوار کامیاب نہ ہو سکا۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی نے 

مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ صرف دکھاوے کے لئے دیئے تھے۔ ساتھ ہی اپنے کارکنوں کو ہدایت کر دی تھی کہ کوئی مسلمان امیدوار کامیاب نہ ہونے پائے۔ اس دھاندلی کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ بی جے پی نے جان بوجھ کر مسلمان امیدواروں کو ان حلقوں سے ٹکٹ جاری کئے جہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔  مثلاً بی جے پی نے مغربی بنگال میں 2 مسلمان امیدواروں اور وفاقی علاقے لکشادیپ میں ایک امیدوار جبکہ زیر تسلط جموں و کشمیر میں 3 مسلمان امیدواروں کو ٹکٹ دیے تھے۔

بھارت میں مسلمانوں کی سیاسی، سماجی، تعلیمی اور اقتصادی حالت خواہ بہتر نہ ہو اور بعض مبصرین کے مطابق آزادی کے بعد سے اب تک کی تمام حکومتوں نے انہیں نظر انداز کیا ہو لیکن انتخابات کے دوران انہیں نظراندازکرنا کسی بھی سیاسی پارٹی کے لئے ممکن نہیں ہے۔بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 14.5فیصد یعنی تقریباً ایک سو ساٹھ ملین ہے۔ لوک سبھا کے 543 میں سے 102 حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹ قابل لحاظ تعداد میں ہیں۔ 

مسلمان بالعموم انتخابات میں اپنی پسندیدگی یا ناراضگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ شمالی بھارت میں سیاسی لحاظ سے کانگریس کی کمزوری کی ایک بڑی وجہ مسلمانوں کی ناراضگی ہے۔ انیس سو نواسی کے بھاگلپور فسادات کے بعد بہار میں اور 1992 ء میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں مسلم ووٹروں نے کانگریس سے ناراض ہوکر اس کے خلاف جو ووٹ دیا اس کی مار سے وہ ابھی تک ابھر نہیں پائی ہے۔مسلمان ان انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ 1947کے بعد بھارت میں مسلمان اتحاد پیدا نہیں کرسکے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انہیں اپنی آبادی کے تناسب سے اقتدار میں کبھی حصہ نہیں ملا۔ اور یہ صورت حال ان انتخابات میں بھی قائم نظر آتی ہے۔ مسلم آبادی کے تناسب سے تجزیہ کیا جائے تو بھارتی لوک سبھا کی 543نشستوں میں سے 16ریاستوں کے 150حلقوں میں مسلم انتخابات ہوسکتا ہے۔ لیکن مسلمان تقسیم ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں اور مات کھا جاتے ہیں۔ لوک سبھا میں مسلمانوں کی 70سے زیادہ نشستیں ہونی چاہئیں لیکن اب تک بہت کم مسلمان لوک سبھا میں پہنچے ہیں۔

مسلمانوں کی بھلائی کی ترقی کی بہبود کی باتیں کہی جارہی ہیں لیکن کوئی سیاسی جماعت اور بالخصوص کوئی سیکولر جماعت یہ بتانے کے لئے تیار نہیں کہ وہ کتنے مسلمانوں کو پارلیمنٹ میں نمائندہ بنا کر بھیج رہی ہے۔ ساری سیکولر جماعتیں اس بات پر عمل کررہی ہیں کہ مسلمانوں کی پارلیمنٹ و اسمبلی میں سے نمائندگی کو کم سے کم کیا جائے۔ تاکہ مسلمانوں کو دل خوش وعدوں کے ذریعہ آئندہ برسوں تک بہلایا جائے اور ان کے ووٹوں پر حکمرانی کی جائے۔تقریباً تمام سیاسی سیکولر جماعتوں کو مسلمانوں کے ووٹ درکار ہیں مگر کوئی بھی مسلمانوں کو نمائندگی کا حق دینے کے لئے تیار نہیں۔

بھارت میں مسلم ووٹروں کی اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے بہت کم رہی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے گو کہ ان کی تعداد 76ہونی چاہئے لیکن آزادی کے بعد یہ اب تک 46 سے آگے نہیں بڑھ سکی۔مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مسلمانو ں کی فلاح و بہبود کے لئے ابھی تک کسی بھی حکومت نے خاطر خواہ توجہ نہیں دی جب کہ تمام سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو صرف مہرا بناتی ہیں۔ اگر کانگریس حکومت نے سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کیا ہوتا تو اس سے کچھ امید بندھتی لیکن اس نے صرف زبانی جمع خرچ کیا ہے۔

 یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے، لیکن لوک سبھا میں ان کی تعداد گھٹتی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کی پس ماندگی کے جہاں بہت سے اسباب ہیں، وہیں ان میں سے ایک مقننہ میں لگاتار گھٹتی ان کی نمائندگی بھی ہے۔حکومت ہند مسلمانوں کی فلاح و بہبود سے متعلق چاہے جتنے بھی دعوے کریں، یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاست میں ان کی متناسب نمائندگی کے بغیر مسلم معاشرے کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔


ای پیپر