Rana Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 May 2021 (11:07) 2021-05-07

مہنگائی بہت زیادہ ہے جب بھی کسی موضوع پر کچھ لکھتے ہیں تو مہنگائی سامنے آ جاتی ہے کیونکہ میں بھی انہی کروڑوں پاکستانیوں میں سے ہوں جو زندگی کو بہت مشکل پا رہے ہیں اور کئی ایک کے لئے تو نا ممکن ہو گئی ہے۔ قومی سطح پر فاقہ کشی پر حیرت ہوتی ہے کیو نکہ ہمارا ملک اتنا غریب بالکل نہیں ہونا چاہئے۔ کسی چیز کی کمی نہیں دو وقت کی روٹی تو اس ملک میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہی لیکن آج حالات بہت مخدوش ہیں۔  یہ بھی درست ہے کہ گزشتہ تین، پونے تین برس کے اس زمانے میں جس میں یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے، عوام کی مشکلات بالخصوص مہنگائی اور بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اپوزیشن کا خیال ہے کہ حکومت کی نااہلیت اس کی بنیادی وجہ ہے مگر یہ امر بھی غور طلب ہے کہ اس کے اسباب حکمرانوں کی نا اہلیت کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں۔ لوگوں کی مشکلات کوئی صرف آج کی ہی بات نہیں ہے بلکہ یہ رونا تو ہم شروع سے ہی سنتے آ رہے ہیں۔ اکثر لوگ ان دنوں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا موازنہ مسلم لیگ (ن) کے پچھلے دورِ اقتدار کے زمانے کی قیمتوں سے کرتے ہیں اور اس بنیاد پر ان کی تعریف کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں عام اشیاء کی قیمتیں وہ نہیں تھیں جو اس کے اقتدار میں آنے سے قبل پیپلز پارٹی کے دور میں تھیں، ان میں یقیناً اضافہ ہوا تھا۔ اسی طرح مشرف دور میں بھی مہنگائی کا بہت واویلہ تھا لیکن پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار میں کہا جانے لگا تھا کہ آمر مشرف کا دور اس سے بہت بہتر تھا مہنگائی کی وہ شرح نہیں تھی جو زرداری کے دورِ حکومت تھی۔ اسی بنیاد پر مشرف کی تعریف و توصیف کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ مشرف کے دور میں عام اشیاء کی قیمتیں وہ نہیں تھیں جو اس کے اقتدار میں آنے سے قبل نواز شریف اور بے نظیر کے پہلے دو دو دورِ اقتدار میں تھیں ان میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ جنرل ضیاء کے عہدِ اقتدار میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورحکومت کے مقابلے میں بھی قیمتیں بڑھیں 

اور بھٹو کی حکومت کے دوران ایوب خان کے دس سالہ عہدِ اقتدار کے مقابلے میں قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ایوب کے دور میں تو آٹا 20 روپے فی من تھا جس کی قیمت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ایوب دور کے 20 روپے میں ملنے والا ایک من آٹا اب اس رقم میں تین سو گرام کی مقدار میں بھی دستیاب نہیں ہے۔

اس اضافے کی وجہ در اصل ہماری معیشت کا زوال ہے جس میں ہماری حکومتوں کی کوتاہیوں کے ساتھ ساتھ اس نظام کا دخل سب سے زیادہ ہے جس میں ملکی وسائل پر ایک محدود طبقے کا قبضہ ہے۔ ہمارے ملک کی پوری تاریخ میں امیر زیادہ امیر اور غریب، غریب تر ہوتے گئے ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس عرصے میں ملک کی 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کی لکیر کے نیچے غرق ہو گئی ہے۔ حکومتی پالیسیاں بھی ایسی رہی ہیں جن کی بدولت امراء کی دولت میں دن دگنا رات چوگنا کے حساب سے اضافہ ہوتا رہا ہے جب کہ غریب کے لئے ہر دورِ اقتدار میں مسائل و مشکلات بڑھتی ہی رہی ہیں۔اس عرصہ میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک طرف تو لوگوں کو رہنے کے لئے چھت میسر نہیں اور نہ سفر کے لئے کوئی معقول سواری جب کہ امراء کے لئے محل نما گھر بن گئے ہیں اور سفر کرنے کے لئے مہنگی لگژری گاڑیوں کے آئے روز ماڈل بدلتے رہتے ہیں۔ میں کہیں موجود تھا وہاں پر ایک شخص بتا رہا تھا کہ اس کے پاس 7 گاڑیاں ہیں سب کی سب ایک سے ایک بڑھ کر سہولیات سے مزین۔ اگر ٹیکس کی بات کریں تو اس طبقے پر یہ بات گراں گزرتی ہے جب کہ غریب لوگ بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں کا مسلسل بڑھتا ہوا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہیں لیکن اصل مسئلے پر غور کرنے کی بجائے ہمارے وہ سیاسی رہنما جو اقتدار کی کئی کئی باریوں سے لطف اندوز ہو چکے ہیں اکٹھے ہو کر حکومت پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کا بے دریخ استعمال کر کے افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے کوئی بھی واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کے ٹائم فریم کا ذکر شروع ہو جاتا ہے۔ پی ڈی ایم کے قائدین کی ملک میں جاری حکومت کے خاتمے کی کوشش میں تال میل واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس کا مقصد اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر موجودہ حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ 

حکومت مدت پوری نہ کر سکے اور مڈ ٹرم الیکشن کرانا پڑ جائیں تو یہ جمہوری عمل کا حصہ ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ہمارے ملک میں جب تک سیاسی حکومتیں ایک لمبے عرصے تک اپنی آئینی مدت پوری نہیں کریں گی حالات بہتر نہیں ہو سکتے ہیں۔ لیکن من حیث القوم ہم میں صبر کی بہت کمی ہے، بہت جلد اکتا جانے والے ہیں اور ہم ہمیشہ معجزوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔ ہر نئی حکومت سے امیدیں باندھ لیتے ہیں اور جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ ہمارے سارے مسائل کا حل یہ ہے کہ موجودہ حکومت چلتی بنے اور نئی حکومت آ کر ہمارے خوابوں میں حقیقت کا رنگ بھرے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس حکومت کو گرا کر اقتدار نئی حکومت کو سونپ دیا جائے تو سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس کا جواب میرے خیال میں نفی میں ہے بلکہ اگر حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جائے تو وہ زیادہ نہیں تو اقتدار مکمل ہونے سے سال ڈیڑھ سال قبل ایسے کام کرنے کی کوشش ضرور کرتی ہے جن کے بل پر وہ پھر سے عوام سے ووٹ مانگنے کے قابل ہو سکے۔ دوسرا اگر کسی حکومت کو منتخب کیا گیا ہے تو اسے اپنی مدت ضرور پوری کرنی چاہئے تا کہ اس کو اپنی آئینی مدت کے دوران تمام کوششیں کرنے میں کوئی قدغن نہ ہو ویسے بھی جتنے بھی لوگ جتن کر رہے ہیں وہ بھی تو اقتدار میں رہے ہیں انہیں بھی اکثر مدت پوری کرنے کا ہی مسئلہ رہا ہے۔تسلسل قائم ہو گا تب ہی بہتری کا کوئی امکان پیدا ہو گا۔ بالفرض حکومت گر بھی جائے تو حالات میں بہتری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ معیشت کا پہلے ہی بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ رہی سہی کسر غیر یقینی کی صورت حال نکال دے گی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کو چاہئے کہ اب نئے انتخابات میں دو سال رہ گئے ہیں اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں اور آنے والے انتخابات میں بہترین حکمتِ عملی سے کامیابی کی کوشش کریں تا کہ ملک کو سنوارنے کی کو ئی صورت نکل سکے۔


ای پیپر