Dr. Azeem Ibrahim, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 May 2021 (11:04) 2021-05-07

کرہ ارض اس وقت متعدد ماحولیاتی مسائل سے نبرد آزما ہے۔ فضائی اور پانی کی آلودگی دنیا کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں؛ بدیسی جانور، پودے اور دیگر جاندار دنیا کے ایسے خطوں میں دکھائی دے رہے ہیں جہاں انہیں قدرتی مدافعت حاصل نہیں؛ ادھر ماحولیاتی تبدیلیوں کی باتیں شہ سرخیوں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ماحولیات سے متعلق اچھی خبریں مشکل سے ہی سننے کو ملتی ہیں، ماہرین ماحولیات اور سائنسدانوں نے اب تک صرف ایک روشن پہلو کی نشاندہی کی ہے، وہ یہ کہ تمام ممالک اوزون کی کمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ایک ہو رہے ہیں۔

کرہ ارض پر اوزون کی حفاظتی تہہ سطح زمین سے لگ بھگ سے 15سے 35کلو میٹر اوپر کرہ ہوائی میں پائی جاتی ہے۔ کرہ ہوائی پر اوزون کی تہہ کا کمزور پڑنا اس لئے تشویش ناک ہے کہ اوزون کی تہہ بنفشی رنگ سمیت دیگر اقسام کی تابکاری شعاعوں کو سطح زمین پر آنے سے روک دیتی ہے جو کہ جانداروں کو ہلاک یا زخمی کر سکتی ہیں۔ گزشتہ 30سال سے دنیا بھر کے ملک کلوروفلوروکاربن سمیت اوزون کو تباہ کرنے والے دیگر کیمیکلز کا استعمال ختم یا پھر اسے کم کرنے کے حوالے سے مل کر کام کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود سائنسدان یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ان کی کوششیں نتائج دے رہی ہیں کہ نہیں۔ کیا اوزون کی تہہ خود کو مندمل کر رہی ہے؟

اس سوال کا جواب جاننے سے قبل ہمیں اس مسئلے کا پس منظر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ 1974ء میں 

امریکی کیمیا دانوں ماریو مالینو اور شیرووڈ رولینڈ اور ایک ڈچ کیمیا دان پال کرٹزن نے دریافت کیا کہ انسان کا بنایا ہوا کلوروفلورو کاربن کرہ ہوائی میں کلورین کی موجودگی کا بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ بنفشی تابکاری کے ذریعے کلوروفلورو کاربن سے خارج ہونیوالی کلورین اوزون کی تہہ کو تباہ کر سکتی ہے۔ اس کے بعد سے سائنسدانوں یہ کھوج لگائی کہ کلوروفلورو کاربن نے کیسے اوزون کی تہہ کو متاثر کرنا شروع کیا، جو کہ 1928ء میں اپنی تخلیق کے بعد ریفریجریشن کے علاوہ کلینرز، بالوں کے سپرے، پینٹ اور ایروسول سپرے میں استعمال ہوتی رہی ہے۔ برطانوی انٹارکٹک سروے نے 1985ء کے اپنے پیپر میں انکشاف کیا کہ بحیرہ منجمد جنوبی کے اوپر 1970ء کے بعد سے کرہ ہوائی میں اوزون کی تہہ تیزی سے گر رہی ہے، جو کہ کرہ ارض کے دیگر علاقوں کی نسبت 60فیصد زیادہ ہے۔ 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں سیٹلائٹس اور دیگر آلات کے ذریعے مشاہدوں اور پیمائشوں سے ظاہر ہوا کہ انٹارکٹیکا کے اوپر ’’ایک گڑھا‘‘ ہر سال بتدریج پھیل رہا ہے، اسی طرح کا ایک اور گڑھا بحیرہ منجمد شمالی کے اوپر بھی پیدا ہو رہا ہے، دنیا بھر میں کرہ ہوائی پر اوزون کی تہہ کا غلاف 1970ء سے 1990ء کے عشرے کے دوران پانچ فیصد تک کم ہو گیا، اس کے بعد بہت کم تبدیلی دیکھنے میں آئی۔

اس بڑھتے مسئلے سے نمٹنے کے لئے 1987ء میں دنیا نے مل کر مونٹریال پروٹوکول پر دستخط کئے، جو کہ اوزون کی تہہ کو متاثر کرنے والے مادوں سے متعلق تھا۔ اس معاہدے کے بعد دنیا نے بتدریج کلوروفلورو کاربن سمیت کاربن، فلورین اور کلورین کے ایٹم رکھنے دیگر مادوں کے استعمال اور تیاری پر پابندی لگانا شروع کر دی۔ بعدازاں، 1990ء کی دہائی اور 2000ء کے بعد ہونے والے اجلاسوں میں مونٹریال پروٹوکول میں متعدد ترامیم کی گئیں، جن کا مقصد ہائیڈرو برومو فلورو کاربن (ایچ بی ایف سیز)، میتھائل برومائیڈ، کاربن ٹیٹرا کلورائیڈ، ٹرائی کلورو ایتھین اور دیگر او ڈی سیز کی تیاری محدود، کم یا مکمل طور پر ختم کرنا تھا۔ دیکھا جائے تو دنیا بھر کی حکومتیں اس مشترکہ ہدف کے حصول کے لئے پوری تندہی کے ساتھ کام کر رہی ہیں، جو کہ ایک اچھی خبر ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ ان کی بے مثل کوششوں کے کوئی نتائج برآمد ہو رہے ہیں کہ نہیں۔

2014ء میں سائنسدانوں نے اس موضوع پر پہلی اچھی خبر سنائی کہ گزشتہ 20سال کے دوران کرہ ہوائی اوزون کی تہہ میں قدرے بہتری دیکھی جا رہی ہے، فضا میں کاربن، فلورین، کلورین سمیت دیگر نقصان دہ مادوں کا تناسب 10سے 15فیصد تک کم ہو چکا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے کہا کہ محتاط رہیں۔ دو سال بعد سائنسدانوں نے اعداد و شمار کی بنیاد پر انکشاف کیا کہ اوزون کی تہہ مندمل ہونے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ 2016ء کی سٹڈی میں بحیرہ منجمد جنوبی پر اوزون کے گڑھے کے سائز کے بارے میں کہا گیا کہ وہ نصف رہ چکا ہے۔ سٹڈی کے مصنفین نے اس امید کا اظہار بھی کہا کہ 2040ء سے 2070ء کے دوران اوزون کی تہہ مکمل طور پر مندمل ہو چکی ہو گی۔

(بشکریہ: ڈیلی ٹائمز)


ای پیپر