کیا اسمبلیاں ٹوٹ سکتی ہیں ؟ 
07 May 2021 2021-05-07

بھلے اسد عمر نے منہ پر ماسک چڑھاتے ہوئے یہ بیان داغا کہ:”عمران خان اسمبلیاں توڑ سکتے ہیں“ گزشتہ چند روز سے اس بیان پر یار لوگ غور و فکر میں کھوتے ہیں۔ کیا یہ محض ایک دھمکی ہے یا سچ مچ عمران خان ایسا کر سکتے ہیں۔ کیا واقعتاً تین برسوں میں عمران خان کو کام کرنے نہیں دیا گیا....؟

عمران خان کی مقبولیت اور ان کے بڑے جلسے مسلسل حکومت میں رہنے والی دونوں سیاسی پارٹیوں کے لئے کسی حد تک تشویش کا پہلو ضرور لئے ہوئے تھے۔ ایسے میں پانامہ کیس اور پھر شاہد خاقان کی وزارت عظمیٰ کے دوران میں کچھ ایسی چالیں چلی گئیں کہ اگر عمران خان کی حکومت آ بھی جائے تو خالی خزانہ اسے کچھ بھی نہ کرنے دے ۔ اگر عمران خان ایک باقاعدہ سیاستدان ہوتا اور اس کے ساتھ قومی ہیرو کا ”دم چھلا“ نہ لگا ہوا ہوتا تو وہ سوچ سمجھ کر وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتا ، وہ جو لگاتار عوام کو تبدیلی کے خواب دکھاتا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت آتے ہی ایک نیا پاکستان وجود میں آ جائے گا اسے سوچنا چاہئے تھا کہ اس خالی خزانے اور تیس برس سے کرپشن زدہ نظام کو سنبھالنا کوئی آسان کام نہیں اسے وزیر اعظم بننے کی جلدی نہیں کرنی چاہئے تھی۔ صرف تین چار ماہ ہی دوسری پارٹیوں کو حکومت بنانے دیتا تو وہ کانٹے جو عمران خان کے لئے بچھائے گئے تھے خود ان پارٹیوں کے گلے پڑ جاتے اور بالآخر حکومت عمران خان ہی کو ملی جاتی یوں اپوزیشن کے پاس پی ٹی آئی کے خلاف باتیں کرنے کا کوئی جواز نہ رہتا ۔ مگر عمران خان جو فرماتے تھے کہ ان کے پاس بہترین ٹیم ہے جو حکومت سنبھالتے ہی سارے معاملات کو پہلے تین ماہ میں ہی سلجھا دے گی۔ سب کچھ ایک خواب نکلا۔ عمران خان نے زندگی میں کبھی کوئی ایڈمنسٹریشن کا شعبہ نہیں سنبھالا حتی کہ کوئی سرکاری ملازمت تک نہ کی۔ ایک کھلاڑی یا ہیرو کی سی زندگی بسر کی ۔ اگر گزشتہ دور میں وہ کے پی کے کا وزیر اعلیٰ ہی بن جاتا تو اسے اس نظام کو بنظر غائر دیکھنے کا موقع مل جاتا ، کچھ تربیت ہو جاتی مگر اسے حلف لینے تک کے معاملات میں بھی سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسے میں وہ کون سے لوگ تھے جو اسے یہ تک نہ بتا سکے کہ حلف لینے کے لوازمات کیا ہوتے ہیں؟ اور تو اور حلف نامے کی تحریر کو ہی دو تین بار پڑھ نکر پریکٹس کر لی جاتی تو بعض لفظوں کی ادائیگی میں شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اوپر سے وہ بہترین ٹیم بھی عوام نے دیکھ لی۔ اب تک کئی کئی بار وزارتیں تبدیل کی جا چکی ہیں۔ پنجاب میں کوئی ڈھنگ کی شخصیت وزیر اعلیٰ کے طور پر نہ لگائی جا سکی وہاں بھی بالکل نوآموز اور بہت شریف النفس انسان کو تعینات کیا جو اپنے منہ سے کہتا رہا کہ میں ابھی سیکھ رہا ہوں۔ یہاں پی پی ، مسلم لیگ نے افسر شاہی سے لے کر عدلیہ تک میں اپنے ایسے پودے لگائے ہوئے ہیں ، جنہیں کاٹ بھی دیں تو وہ دوبارہ اگ آتے ہیں۔ خالی خزانے کرپٹ افسر شاہی (چند دانے اچھے بھی ہوں گے ، اور یہ تو ہر شعبے میں ہوتا ہے) اور اسی ”دیانتدار“ عدلیہ کے ساتھ کوئی حکومت کیسے چلائی جا سکتی ہے؟ ایک اور اہم بات کہ عمراں خان نے ٹکٹ بھی انہی لوگوں کو دیئے جو پہلے سے دونوں پارٹیوں میں بھی رہے اور بعض تو پرویز مشرف کی باقیات تسلیم کی جاتی ہیں۔ ایسے میں ایک دیانتدار وزیر اعظم اکیلا حکومت کیسے چلا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی میں بیشتر وزراءکبھی نہ کبھی مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی میں رہے ہیں وہ سب پرانے عادی (پاپی) ہیں۔ عمران کو کون کامیاب ہونے دیتا۔ ہم نے تو کسی حکومت میں نہیں دیکھا کہ ضمنی انتخاب میں وہ ہر جگہ شکست سے دوچار نظر آتے۔ پی ٹی آئی کو ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کو اچھی ٹیم میسر نہ تھی تو عوام کو وہ خواب نہ دکھاتے۔ اتنے مشیروں کو فوج کا کیا فائدہ کہ ہر خبر (سانحہ) وزیر اعظم کو دوسرے تیسرے روز پتہ چلتی ہے پھر تردید شروع ہو جاتی ہے۔ ہر مقام پر عمران خان کو مصلحت پسندی کا سامنا تھا یہی سبب ہے کہ گورننس کہیں دکھائی نہیں دیتی ایک دو وزیروں کے سوا باقی سب فضل بٹیرے ہیں اور ابھی سے اگلی پارٹی جائن کرنے کی پلاننگ کئے بیٹھے ہیں۔ اسمبلیاں توڑ بھی دیں تو عمران خان کو کچھ نہ ملے گا۔ یہ نظام ہی ایسا ہے۔ بقول حسن نثار اسے واقعتاً تیزاب سے غسل دینے کی ضرورت ہے۔ کرونا ہی کو لے لیں۔ کسی بھی جگہ حکومت عوام کو اکٹھنے ہونے سے نہ رو سکی۔ حکومت بیچاری تو نام نہاد عاشقان رسول سے اپنی پولیس کو نہیں بچا سکی ۔ اپنے ٹریفک کے نظام کو مناسب نہیں چلا سکتی۔ تو اس کے کہنے پر مہنگائی کیسے کم ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ سب ناممکن تو نہیں۔ دو چار کرپٹ ، بددیانت تاجروں ، ٹیکس چوروں ملاوٹ کرنے والوں کو سرعام لٹکا دیں سب ٹھیک ہو جائیں گے۔ 

عمران خان سزا یافتہ کو ملک سے باہر جانے سے نہیں روک سکے سزاﺅں پر عمل درآمد نہیں کرا سکے۔ سبھی نیب زدہ ضمانتوں پر باہر آ گئے ہیں تو اسمبلیاں بھی توڑ دیکھیں۔

آپ کہتے تھے میں ٹیکس اکٹھا کر کے دکھاﺅں گا وہ آپ نے عوام کا فون نچوڑ کر خزانہ بہتر کر لیا کاش کوئی وزیر خزانہ بھی آپ کو مل سکتا۔ آپ نے عوام کو ناراض کر دیا ہے۔ اللہ نے آپ کو موقع دیا تھا مگر آپ (مجبوریاں کچھ بھی ہوں) ناکام رہے ہاں اپنے دوستوں کو ضرور نوازا۔ مگر عام آدمی کا جینا دوبھر ہو گیا۔ ہم تو آپ کے چاہنے والوں میں سے تھے مگر آپ نے ہمیں مایوس کیا کہ آپ دیانتدار ضرور ہیں مگر لیڈروں والی آپ میں کوئی بات نہیں۔ لیڈر کان کا کچا نہیں ہوتا۔ آپ کی بات تو آپ کے وزیر نہیں سنتے۔ سب اپنی اپنی ڈفلی بجاتے ہیں۔ سو مجھے آپ کی ناکامی پر افسوس ہے تین برس کم نہیں ہوتے اب مان لیں اوپر بندہ ٹھیک بھی ہو تو بعض اوقات کامیاب نہیں ہوتا۔ 

کتنے بددل ہیں اس نظام سے لوگ

جا رہے ہیں دعا سلام سے لوگ


ای پیپر