آئی ایس آئی کے سابق آفیسر کا چوہدری نثار سے متعلق اہم انکشاف
07 May 2020 (21:40) 2020-05-07

اسلام آباد : آئی ایس آئی کے سابق آفیسر میجر (ر) محمد عامر نے کہا ہے کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان2014 میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کو اسلام آباد آنے کی اجازت دینے کے ذمہ دار نہیں تھے ۔

میاں جاوید لطیف کی جانب سے چوہدری نثار علی خان پر دھرنے کے سہولت کار کا الزام عائد کیا جانا قابل مذمت ہے،جمعرات کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے میجر (ر) محمد عامر نے کہا کہ 2014 ءمیں چوہدری نثارعلی خان نے بطور وزیر داخلہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے دھرنے کو وفاقی دارالحکومت میں آنے کی اجازت دینے کی مخالف کی تھی چوہدری نثار نے اس بات کا برملا اظہار اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے سامنے کیا تھا اور کہا تھا کہ قانون کی پاسداری کو یقینی بناتے ہوئے میں اس دھرنے کو وفاقی دارالحکومت میں آنے سے روکنے کی پوری ذمہ داری لیتا ہوں اور کسی صورت بھی اس دھرنے کو اسلام آباد نہیں آنے دیا جائے گا ۔

میجر(ر) محمد عامر نے کہا کہ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے دھرنے کو اسلام آباد آنے کی اجازت میاں نواز شریف نے دی تھی اور اسی بناءپر چوہدری نثار علی خان نے وزارت داخلہ سے استعفیٰ بھی دے دیا تھا تاہم وزیر اعظم کے پرسنل سیکرٹری فواد حسن فواد اور کچھ سینئر ممبران قومی اسمبلی نے انہیں استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کیا تھا ۔ میجر (ر) محمد عامر نے مسلم لیگ ن کے سابق رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کی جانب سے چوہدری نثار علی خان پر دھرنے کے سہولت کار کا الزام عائد کیے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کہنا کسی طور پر بھی درست نہیں اور میں اس بات کا گواہ ہوں کہ چوہدری نثار علی خان 2014 کے دھرنے کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دینے کے سخت مخالف تھے ۔ دھرنے کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے دی تھی۔


ای پیپر