اسد عمر کا میڈ یا سے اہم خطا ب
07 May 2020 (21:37) 2020-05-07

پچھلے دنوں وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرنے نیشنل کما نڈ اینڈ آ پر یشن سنٹر میں اجلا س کے بعد میڈ یا بر یفنگ میں بتا یا کہ لا ک ڈا ئون سے ملک کو اب تک ایک سو انیس ارب رو پے کا نقصا ن ہو چکا ہے۔لہذا ملک ہمیشہ کے لئے بند نہیں کر سکتے۔ تاہم ان کا یہ کہنا ایک کمز ور دلیل ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے زیادہ ہلاکتیں ٹریفک حادثات میں ہوتی ہیں، اس کے باوجود ٹریفک کی اجازت ہوتی ہے۔ یعنی وہ کہنا یہ چا ہ رہے ہیں کہ چو نکہ ہم ہلا کتوں کی بنیا د پر ٹریفک کو بند نہیں کر سکتے لہذا ہلا کتو ں کی بنیا د پر ہمیں وبا ء کے پھیلا ئو کو رو کنے کے لیئے ز یا دہ تر دود کر نے کی ضر ورت نہیں۔بہر حا ل انہو ں نے مز ید بتا یا کہ موجودہ پابندیوں کا 9 مئی تک اطلاق رہے گا۔ اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ گزشتہ چند دنوں میں اموات میں اضافہ ہو اجو اچھی خبر نہیں۔ ہلاکتوں کی تین سرخ لکیریں عبور ہو چکیں۔ گزشتہ 6 روز میں روزانہ 24 اموات ہو رہی ہیں لیکن آبادی کے تناسب کے حساب سے یہ شرح کم ہے۔ روزگار میں بڑے پیمانے پر کمی آئی۔ 7 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے، ایک کروڑ 80 لاکھ افراد بے روزگار ہوسکتے ہیں، 10 لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہوسکتے ہیں۔ ہر چار میں سے ایک پاکستانی کے گھر میں خوراک کی کمی ہوئی۔ یورپ سمیت دیگر ممالک روزگار چلانے کے لیے بندشیں کم کر رہے ہیں۔ ملک ہمیشہ کے لیے بند کرکے بیٹھ نہیں سکتے۔ ہمارا ہدف نظام صحت مضبوط کرنا ہے۔ فوری طور پر ملک اس لیے نہیں کھول سکتے کہیں نظام صحت مفلوج نہ ہوجائے۔ بندشیں آہستہ آہستہ کم کریں گے، روزگار کے مواقع بڑھائیں گے۔کورونا کے وسیع تر تناظر میں ملکی معاشی صورتحال کا جو نقشہ اسد عمر نے اپنے بیان میںکھینچا ہے وہ گنجینۂ معنی کا طلسم ہے۔ لاک ڈائون تھیوری اور اس پر متذبذب عمل درآمد کے حقیقی مضمرات، زمینی حقائق اور حکومتی حکمت عملی پر اب بحث کے کئی دروازے کھل رہے ہیں۔ اس بات پر کسی کو شک نہیں کہ کورونا وائرس نے معیشت کو تباہ کیا، عالمی اقتصادی نظام میں دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ ہیلتھ سسٹم تتر بتر ہے، کوئی دوا نہیں جو کورونا کے مریضوں کو پلائی جائے اور انہیں شفا نصیب ہو۔ صحت کے نظام کی عالمگیر مضبوطی اور شفافیت اور اس سے حاصل ہونے والی شفاعت کا بھرم بھی دھڑام سے زمین بوس ہوچکا۔ امریکہ، اٹلی، برطانیہ، سپین، ایران سمیت دیگر ممالک کورونا کے صدمے سے نڈھال ہیں۔ ہلاکتیں وحشت ناک ہیں۔ کورونا ایک عالمگیر وبا ہے اور اس کے اثرات کے ابتدائی حصے پر وزیر منصوبہ بندی نے جن حقائق اور اندیشوں کا ذکر کیا ہے وہ اس اعتبار سے سوالیہ نشان ہیں کہ کیا یہ سب کچھ محض لاک ڈائون کا نتیجہ تھا، اور معاشی مسائل تسلسل سے پل رہے تھے یا یہ حادثہ ایک دم ہوگیا ہے یا یہ کہ کورونا کی ’’ہشت پائی‘‘ نے عوام تک ان حقائق کی رسائی کو ممکن بنایا ہے۔ حقیقت اور صورتحال کی سچائی کے اظہار کی روایت کے صائب پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت سے پوچھا جاسکتا ہے کہ 119

ارب روپے کے خسارے، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی بے روزگاری، دس لاکھ اداروں کی بندش، خواک کی کمی اور دیگر مسائل ایک ہی جھٹکے میںسامنے آگئے۔ یہ قابل فہم بات نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ غربت بڑھنے کی بات تو وزیراعظم اس سے پہلے بھی کرچکے تھے۔ وہ یہ حقیقت شرح صدر کے ساتھ بیان کر چکے تھے کہ ایٹم بم بنانے والا ملک وینٹی لیٹر نہیں بناسکتا۔ دوسری حقیقت 7 کروڑ کے لگ بھگ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے عزیزان وطن کی ہے۔ یہ حقائق بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ میڈیا غربت، بیروز گاری اور مہنگائی پر حکمرانوں کو بار بار متوجہ کرتا رہا ہے لیکن افسوس ہے کہ حکومتی ترجیحات میں مذکور حقائق کو ہمیشہ حزب اختلاف کا پروپیگنڈا قرار دے کر مسترد کیا گیا۔ جبکہ ضرورت عوامی جذبات اور معاشی صورتحال کے معروضی تجزیے کی ہے۔ اب بھی ضرورت ملکی معاشی حالات میں کسی ڈا ئنا مک تبدیلی کی ہے۔ اگر کوئی توقع ہوسکتی ہے تو وہ معیشت ، کورونا اور حکومتی انداز نظر میں عملیت پسندی کی ہے۔ لاک ڈائون کی منطقی بنیاد کو چیلنج کرنے کی کسی کی نیت نہیں، سب ملک کی خیر خواہی چاہتے ہیں لیکن یہ تو بدیہی حقیقت ہے کہ عوام کو لاک ڈائون کرکے اور روزگار اور خوراک سے محروم رکھا جائے، انہیں کوئی گزارا الائونس نہ ملے اور تنگ و تاریک گھرو میں ان پر سماجی فاصلہ کا جبر تھوپا جائے، تو ایسی صورت میں وہی کچھ ہوسکتا ہے جس کا اظہار وفاقی وزیر اپنے بیان میں کر چکے ہیں۔ ایسے میں تو کوئی جمہوریت معاشی عوامل سے ٹکرانے کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

سب سے ز یا دہ متا ثر ہونے والے ملک امر یکہ کے صدر ٹرمپ کی پوری کوشش رہی ہے کہ امریکہ میں معاشی بحالی جلد ہو۔ حکومت بھی اپنی ویو لینتھ درست کرے۔ حکومت، وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی ایئرکنڈیشنڈ کمروں اور ٹیبل ٹاک سے دور رہتے ہوئے عوام سے دکھ درد شیئر کریں۔ اگر ملکی معیشت کے آئندہ چند ماہ میں سنگین صورتحال سے دو چار ہونے کا خطرہ ہے تو اس خطرہ کو ٹالنے کی کوشش بے سود ہے۔ اس کے بر عکس عوام کو درپیش معاشی مسائل کا بہترین حل پیش کیا جائے۔ ماہرین کے مطابق عوام، تاجر برادری، اپوزیشن رہنما، اقتصادی ماہرین اور سول سوسائٹی کے مطالبہ پر لاک ڈائون میں زمینی حقائق اور حکمت عملی کے مطابق نرمی لائی جائے۔ کورونا کی روک تھام کے لیے جاری کردہ ایس او پیز پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تو صورت حال کا فرق لازمی طور پر نظر آجائے گا۔ پہلے دن سے ایک مربوط صحت میکنزم کی تقویت پر زور دینے کی ضرورت ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں لاک ڈائون سمیت کورونا سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل کو پارلیمنٹ میں ڈسکس کریں، ایک اتفاق رائے پیدا کریں۔ ملکی معیشت کی کمزوری اور بیروزگاری و مہنگائی کے معاملات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایسی پالیسیاں بنائی جائیں کہ کورونا وائرس سے پھیلے ہوئے خوف و ہراس کی شدت کم ہو اور ملک کے عوام کو اس وائرس سے بچائو میں کسی بڑے نقصان کا سامنا نہ ہو۔ عوام کے فہمیدہ حلقوں کو آج بھی توقع ہے کہ کورونا اپنے تمام تر منفی پہلوئوں اور ہوش ربا تباہ کاریوں کے باوجود ارباب اختیار کو ایک پیج پر ضرور لائے گا۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ عالمی تحقیق کے مطابق پاکستان میں 10 لاکھ افرادمیں سے یومیہ 2 اموات ہورہی ہیں جو دنیا اور بالخصوص خطے میں سب سے کم ہیں۔ اللہ کا کرم ہے یہاں بیماریاں اتنی مہلک ثابت نہیں ہوئی جتنی یورپ میں ہوئی۔ امریکہ میں 58 گنا اور برطانیہ میں 124 گنا زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔ بیماری کے پہلے 46 روز میں ہر 10 لاکھ شہریوں میں سے سپین میں سب سے زیادہ 414، اٹلی 305، فرانس 256، برطانیہ 248 اور امریکا میں 116 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ پاکستان میں صرف 2 افراد جاں بحق ہوئے۔ پاکستان میں کورونا سے اوسطاً روزانہ 24 لوگ اور ماہانہ 720 افراد ہلاک ہوسکتے ہیں۔ تا ہم اس بیماری کا معاشی نقصان زیادہ ہے۔کا لم کو سمیٹتے ہو ئے یہ کہنا مقصو د ہے کہ وقت کی ضرورت اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت ذہنی، سیاسی اور انتظامی محاذ پر مزاحمت، الزام تراشی، اپوزیشن سے تکرار اور تصادم سے گریز کرتے ہوئے کورونا کے خاتمہ پر ایک متفق علیہ اور نتیجہ خیز پالیسی پر کاربند ہو۔ بلیم گیم نے نقصان پہنچایا ہے۔ مزید کشیدگی اور تنائو سے نقصان پہنچنے کا زیادہ احتمال رہے گا۔ اس لیے قوم کا مفاد اسی میں ہے کہ تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز سنگین حالات کا ادراک کریں اور کورونا سے نمٹنے میں یکسوئی ناگزیر ہے۔ کورونا وبا کسی کی دوست نہیں۔


ای پیپر