افغانستان میں امن کی آشا
07 May 2020 (21:37) 2020-05-07

افغانستان اپنے حجم کے اعتبار سے چھوٹا سا ملک ہے مگر اس کی جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے، جس کی وجہ سے یہ ہمیشہ بڑی طاقتوں کی سازشوں اور آویزشوں کا مرکز رہا۔ اشتراکی روس اپنے فلسفے اور نظریات کو دنیا کے دوسرے کونے تک پھیلانے کے لئے اسے اپنا حلقہ بگوش بنانے کا آرزو مند رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے دوسرے حربے کامیاب نہ ہونے پر بالآخر روس نے براہِ راست حملہ کر دیا اور اور اپنی طاقت کے بل پر قبضہ کر لیا۔ امریکہ نے 2001ء میں افغانستان پر حملہ کر کے طالبان حکومت ختم کر کے قبضہ کر لیا۔ 20 سال پہلے جب امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا تو اس نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ آگے چل کر یہ جنگ اسے بہت مہنگی پڑے گی۔ امریکہ اورا س کے اتحادیوں کو اس سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ وہ گومگو اور بے یقینی کی کیفیت سے دوچار ہے۔ خود امریکی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس ہیں کہ افغان جنگ ان کی توقع سے زیادہ مشکل اور طویل ثابت ہوئی۔

گزشتہ سال دسمبر میں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے افغان جنگ کے حوالے سے خفیہ دستاویزات شائع کیں جن میں امریکی فوجی افسروں اور اہلکاروں کے انٹرویوز شامل تھے، جس میں ان کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں امریکی اربابِ اختیار ہمیشہ سچ چھپا کر یہ اعلانات کرتے رہے ہیں کہ وہ جنگ جیت رہے ہیں۔ امریکی جنگی ماہرین اور سیاسی حکام کے اعترافات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے طاقت کے غرور میں افغان سیاست و حکومت، معیشت اور قبائلی نظام ِ زندگی کو تباہ کر دیا۔ ان دستاویزات نے ثابت کر دیا کہ امریکی جنگ نری حماقت تھی جس نے دنیا کے امن کے لئے غیر ضروری مشکلات کھڑی کیں۔ دو ہزار صفحات پر مشتمل ان خفیہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ پر ایک ٹریلین امریکی ڈالر خرچ ہوئے ، خواتین سمیت 2300 فوجی ہلاک، 20 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ریٹائرڈ نیوی آفیسر جیفری ایگز جو سابق صدر بش اور اوبامہ کے ادوار میں وائٹ ہاؤس میں بھی کام کر چکے ہیں کا اپنے انٹرویو میں کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن ارواحِ عالم میں متحیر ہوں گے کہ امریکہ نے اس نام نہاد جنگ پر اتنی دولت خرچ ڈالی۔ اپنے انٹرویوزمیں اکثر فوجی ماہرین جو افغان جنگ میں شامل تھے ان کا کہنا ہے کہ ہر چیز کا ڈیٹا تبدیل کر دیا جاتا تھا، وہ افغانستان کے بارے میں بنیادی سوجھ بوجھ سے عاری تھے اور ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ ہم کیا کر رہے ہیں، امریکی فوج اپنے اصل دشمن سے ہی مکمل آگاہ نہیں تھی، کمانڈروں کو یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ ان کے دشمن طالبان ہیں، القاعدہ ہے، داعش ہے، یا غیر ملکی جنگجو ہیں یا سی آئی اے کے پے رول پر کام کرنے والے جنگجو سردار ہیں، اچھے طالبان کون اور برے کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں۔ امریکہ نے افغانستان میں سماجی نظام تبدیل کرنے کے لئے 138 ارب ڈالر خرچ کر ڈالے مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا بلکہ اس سے افغانستان میں کرپشن میں بہت اضافہ ہو گیا۔ یہ دستاویزات امریکہ افغان جنگ میں ناکامی کے اعترافات ہیں۔امریکی

رعونت اور جنگی پالیسی کو ہزیمت کا تاریخی سامنا کرنا پڑا۔ دیکھا جائے تو یہ دستاویزات اعترافِ جرم کی مانند ہیں کہ امریکی نے دو دہائیوں تک پوری دنیا میں بد امنی، جنگ و جدل کی سی صورت برپا کئے رکھی۔ انہی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کے محرکات اور عوامل کو ذہنوں میں رکھ کر ان کے خاتمے کے لئے مٔوثر اور قابلِ عمل حل تلاش کرنا چاہئے۔ محض طاقت کے استعمال سے کچھ نہیں حاصل ہو گا۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر خود امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ماہرین اور دانشور بہت کچھ کہہ اور لکھ چکے ہیں۔

پاکستان جو افغان قوم اور افغانستان سے واقف ہے عرصہ دراز سے خطے میں نبرد آزما قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہا تھا آخر کارا س کی کوششیں کامیاب ہوئیں اور دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین کامیاب مزاکرات کے بعد رواں سال فروری میںامریکہ اور افغان طالبان کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔معاہدہ ہو جانے کے بعد یہ سوال انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا یہ معاہدہ پایہ تکمیل تک پہنچ پائے گا اور افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ تین دہائیاں قبل ہونے والے " جنیوا امن معاہدے" کے بعد روسی افواج افغانستان سے نکل گئیں ۔ اس معاہدے کے دوسرے فریق افغان مجاہدین تھے اور معاہدے کو مجاہدین کی تاریخی فتح قرار دیا گیا، پاکستان اس میں بھی سہولت کار تھا۔ غیر ملکی افواج چلی گئیں اصل چیلنج مجاہدین اور افغان حکومت کے درمیان پاور شیئرنگ کا تھا۔ تاہم وہ اقتدار کی کش مکش میں کچھ ایسے دست و گریباں ہوئے کہ بھائی بھائی کو خون کا احترام نہ رہا اور ہم وطن ہی ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر تل گئے۔ اس جنگ میں اتنی ہلاکتیں اور تباہی ہوئی کہ روس کے ساتھ جنگ میں بھی نہیں ہوئی تھی۔

آج افغان امن معاہدے کے بعد بھی افغان حکومت اور طالبان کے سامنے بنیادی چیلنج یہی ہے کہ وہ تاریخ دہرائے جانے کا سامان نہ کریں۔ ماضی میں کیا ہوا؟ اس سب سے قطع نظر اہم کام اپنے وطن اور عوام کا تحفظ ہے۔ فریقین کے لئے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر فیصلوں کا وقت آن پہنچا ہے۔ اس حوالے سے افغان اجتماعی دانش اور اہلِ سیاست کو بہت کچھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کی جغرافیائی اہمیت اپنی جگہ لیکن امن کو اپنے فائدے میں کیسے استعمال کیا جائے؟ یہی افغان قیادت کی آزمائش ہے۔ وگرنہ جنگیں جیتنا اور کامیابیاں حاصل کرنا کوئی نئی بات نہیں ہیں، دنیا میں ہمیشہ سے ایسا ہوتا رہا ہے۔ انقلاب اور آزادی کی جد و جہد کے اختتام پر اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ اب مقابل اپنے ہی لوگ ہوتے ہیں انہیں کیسے مطمئن کیا جائے۔ اب تمام نظریں انٹرا افغان طالبان مذاکرات پر ہیں کہ طالبان اور حکومت اس سے کس طرح کامیابی سے ہمکنار کرتے ہیں۔ افغان قوم کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی موقع میسر نہیں آ سکتا کہ وہ اپنے ہاں امن کا بول بالا کرے۔ افغان طالبان اور بالخصوص افغان حکومت کو فائدہ اٹھانا چاہئے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے۔ اسے دیکھنا چاہئے کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا مفاد افغانستان میں قتل و غارت میں ہے۔ امن دشمن قوتوں اور ذاتی مفادات کو انسانی مفادات سے بالا سمجھنے والوں نے پہلے مزاکرات کی مخالفت کی اب امن معاہدے کو سبو تاژ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ فریقین کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ معاہدے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ عہد شکنی اخلاقیات کے قوانین کے خلاف ہے اور معاہدے میں جو بھی طے پایا ہے اس پر پوری طرح سے عمل کر کے خطے کو امن کا گہوارہ بنانا ہے۔ طالبان، حکومت اور دیگر سب کو اپنے ملک کو پر امن بنا کر اس میں سیاسی عمل کے اجرا کے لئے متحد ہونا ہو گا اسی میں سب کی بھلائی ہے۔

امریکہ طالبان سمیت خطے کے تمام شراکت دار اپنے عظیم تر تعاون، جمہوری سپرٹ اور مذہبی و شرعی اخلاص سے خطے میں امن کا پرچم بلند کریں۔ افغانستان میں مکمل قیامِ عمل سے افغانستان کا معاشی و اقتصادی استحکام ممکن ہو گا۔ اس لئے اپنی قوم کے مفاد کی خاطر افغان حکومت کو اس معاہدے کے خلاف کی جانے والی سازشوں کا حصہ نہیں بننا چاہئے۔ اس معاہدے سے افغانستان میں ترقی کی نئی راہیں ہموار ہوں گی، طالبان ماضی کی نسبت جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک ماڈریٹ قوت کے طور پر متعارف ہوں گے۔


ای پیپر