بھارت ’دفاعی اخراجات‘ کرنے والا تیسرا بڑا ملک
07 May 2020 (21:37) 2020-05-07

دنیا بھر میں فوج اور دفاعی معاملات پر ہونے والے اخراجات سے متعلق سویڈن کے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر کے ممالک نے 2019 میں ریکارڈ 1.9 کھرب ڈالر فوجی اخراجات کیے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 2019 میں عالمی سطح پر ریکارڈ فوجی اخراجات کیے گئے جن میں چین اور بھارت بھی پہلی مرتبہ شامل ہوگئے ہیں۔یعنی امریکا اور چین کے بعد بھارت دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جس نے گزشتہ سال سب سے زیادہ فوجی اخراجات کیے۔

دنیا بھر میں ہونے والے ان اخراجات کا 2018 سے موازنہ کیا جائے تو سالانہ 3.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو 2010 سے سب سے زیادہ اخراجات ہیں۔ممالک کی انفرادی بات کی جائے تو امریکا اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، جس نے 2019 میں اکیلے 732 ارب ڈالر خرچ کیے جو 5.3 فیصد اضافہ ہے۔چین اور بھارت نے 2019 میں بالترتیب 261 ارب ڈالر اور 71.1 ارب ڈالر خرچ کیا جو 5.1 فیصد اور 6.8 فیصد اضافہ ہے۔ بھارت کے اخراجات پاکستان اور چین دونوں حریف ممالک کے ساتھ کشیدگی کے باعث بڑھ گئے ہیں۔

جب سے مودی سرکار برسراقتدار ہے تب تو خطے میں آگ سی لگی ہے۔ بھارتی حکومت نے مسلمانوں اور دیگر تمام اقلیتوں پر اپنے ملک کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج نے آگ اور خون کاکھیل شروع کر رکھا ہے۔ متنازعہ بھارتی قانون شہریت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون کو 262 دن گزر چکے ہیں۔ پورے بھارت میں لوگ کرونا اور بھوک سے مرتے جا رہے ہیں لیکن بھارتی قیادت پاکستان دشمنی میں اپنی رعایا کو بھی زندہ درگور کر رہی ہے۔

بھوک ، افلاس اور وسائل کی عدم دستیابی سے بے حال جنتا کی فکر نہیں بلکہ خطے میں تھانیدار بننے کی پڑی ہوئی ہے جس میں وہ اپنے تمام وسائل بھی جھونکتا جا رہا ہے۔ امریکہ سے ساڑھے 15 کروڑ ڈالر کے میزائل اور تارپیڈوز خریدنے کامعاہدہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس سے پہلے بھی بھارت نے جدید ترین اسلحہ کے انبار لگا رکھے ہیں اور آئے دن اپنے فوجی بجٹ میںاضافہ کرتارہتا ہے حالانکہ بھارت کا فوجی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ سے بھی بڑھ کر ہے۔ ایسی صورتحال میں بھارت کی تمام مذموم کوششیں جنوبی ایشیاء میں اپنی تھانیداری کا سکہ جمانے اور بالخصوص خاکم بدہن پاکستان کو نشانہ بنانے کے لئے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کے خلاف بھارتی بالادستی کے خواب کی تعبیر حسرت و غم اور یاس کے سوا کچھ نہیں لیکن پھر عالمی طاقتوں کو برصغیر میںامن و امان کی صورتحال کو

روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کرنا چاہئے اور دفاعی سامان اور اسلحہ کی خرید و فروخت کے معاہدے کرتے وقت خطے میں امن اور انسانیت کی بقا کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے تاکہ مالی وسائل بھوک اور بیماریوں کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جا سکیں جس کے نتیجہ میںجنوبی ایشیا میں امن پھلے پھولے اور انسانیت خوشحال ہو۔

بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی بلا اشتعال خلاف ورزیاں بھی اسی جنگی مہم کا حصہ ہیں ۔ بھارتی فوج کی جانب سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں سیز فائر معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزیاں سامنے آئی ہیں۔ جس کے نتیجے میں 4 شہری زخمی ہو گئے۔لیکن یاد رہے کہ اس نازک صورتحال میں افواج پاکستان اور پاکستانی عوام دشمن کی سازش ناکام بنانے کے لیے ہر وقت تیار اور چوکس ہیں۔

مودی سرکار بھارت کو جدید اور روایتی ہر قسم کے اسلحہ اور جنگی سازوسامان سے لیس کرکے پاکستان کی آزادی‘ خودمختاری اور سلامتی پر اوچھے وار کرنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بھارتی

وزیر دفاع بھی واضح طور پر باور کراچکے ہیں کہ ہمیں اپنی دفاعی صلاحیتیوں میں اضافہ کیلئے بیرون ملک سے مزید اسلحہ خریدنا پڑیگا۔یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ بھارت کا اس خطے میں کسی دوسرے ملک کے ساتھ ایسا کوئی سنگین تنازعہ نہیں ہے جو اسکے ساتھ جنگ پر منتج ہو سکتا ہو۔ اس خطے میں صرف پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کے ساتھ اسکی تشکیل کے وقت سے ہی بھارت کی مخاصمت چل رہی ہے اور اس نے دانستہ طور پر کشمیر کا تنازعہ کھڑا کرکے اس ایشو پر بات بے بات اس پر جنگ مسلط کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ اسکے عزائم کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ سب تیاریاں پاکستان کی سلامتی پر شب خون مارنے کی ہی ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان سے فضائی لڑائی ہارنے کے بعد بھارت کی فوج پر سوالات کھڑے ہوگئے۔بھارتی فوج کو درپیش چیلنجز اب کسی سے مخفی نہیں لیکن خود سے آدھی فوج اور ایک چوتھائی بجٹ کے حامل پاک فوج کے ہاتھوں اپنا طیارہ گنوانا انتہائی اہم بات ہے۔ بھارتی حکومت کے اندازے کے مطابق اگر جنگ چھڑتی ہے تو انڈیا اپنی فوج کو صرف دس دن کا اسلحہ فراہم کر سکتا ہے جبکہ بھارتی فوج کے پاس موجود 68 فیصد ہتھیار اور دیگر جنگی سامان انتہائی پرانا ہے جسے آفیشل سطح پر قدیم تصور کیا جاتا ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے رکن گورو گوگوئی نے کہا کہ ہماری افواج کے پاس جدید سامان کی کمی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں 21ویں صدی کے فوجی آپریشن کرنا پڑتے ہیں۔ جن امریکی آفیشلز کو بھارت کے ساتھ اتحاد مضبوط بنانے کی ذمے داری سونپی گئی ہے وہ اپنے مشن کے بارے میں انتہائی مایوس کن باتیں کرتے ہیں کیونکہ بھاری بھرکم بیورو کریسی کی وجہ سے ہتھیاروں کی فروخت اور مشترکہ جنگی مشقوں میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

بھارتی قیادت اور فوجی سربراہ کی جانب سے جارحیت کی دھمکیوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ہماری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان پرامن ذمہ دار ایٹمی پاور ہے ۔ بھارت کئی مرتبہ ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے کوشش کر چکا ہے لیکن ہمیشہ افواج پاکستان اور قوم نے منہ توڑ جواب دیا۔اب بھی بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو پھر ہم بھول جانے میں حق بجانب ہوں گے کہ بھارت ہمارا پڑوسی اور دنیا کرونا وائرس سے بچائوکی جنگ لڑ رہی ہے۔ بھارت ، اسرائیل اور افغانستان گٹھ جوڑ دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان قومی سلامتی تحفظ کے لئے جو اقدامات اٹھارہے ہیںبحیثیت سچے پاکستانی ہم اس سلسلے میں نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے ہوئے حکومت کے اقدامات کوبھرپورمددفراہم کریں گے۔


ای پیپر