کیالاک ڈائون میں کھلنے پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی چل پڑے گی ؟
07 May 2020 (17:27) 2020-05-07

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ہفتے سے لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملک بہت مشکل میں ہے ،چھوٹے دکاندار مشکل میں ہیں، ہمیں چھابڑی والوں اورمزدوروں کابھی خیال رکھناہے، پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک کی طرح کوروناکوعروج نہیں آیا، آج ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوروناکاعروج کب ہوگا،کوئی نہیں کہہ سکتاکہ لاک ڈاؤن کھولنے پردوبارہ کورونانہ ہو۔

عمران خان نے کہا وقت آگیا ہے کہ ذمہ دار شہری بن کر وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے سب ایس او پیز پر عمل کریں، امید ہے ایک قوم بن کر اگلے مرحلے میں جائیں گے ، پبلک ٹرانسپورٹ پر ہمارا پوری طرح اتفاق نہیں ہے، میرا خیال ہے اسے کھلنا چاہیے کیونکہ یہ عام آدمی استعمال کرتا ہے، اسد عمر سے کہا ہے کہ صوبوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے پر مشاورت کریں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے موجودہ صورتحال پراظہارخیال کرتے ہوئے کہا 26 فروری کوپہلاکیس آیا،13مارچ کولاک ڈاؤن کیا، ہم ملک بھرمیں لاک ڈاؤن کردیا، جہاں لوگ جمع ہوسکتے تھے ان کوبندکردیا۔

عمران خان نے بتایا کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر ہمارا پوری طرح اتفاق نہیں ہے، میرا خیال ہے اسے کھلنا چاہیے کیونکہ یہ عام آدمی استعمال کرتا ہے، اسد عمر سے کہا ہے کہ صوبوں سے پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے پر مشاورت کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ وائرس کسی بھی وائرس کی نسبت بہت تیزی سے پھیلتاہے، پوری دنیاکی طرح پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن کیا، ہمارے حالات چین اوریورپ سے مختلف ہیں، ہمیں چھابڑی والوں اورمزدوروں کابھی خیال رکھناہے، ہمیں خیال تھاکہ روزکمانیوالوں کاکیاہوگا۔عمران خان نے کہا کہ کوروناکے باعث ہم نے کرکٹ میچز،پریڈ،تعلیمی ادارے بندکردیے، کوروناوائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے، امریکا میں روز2 ہزار ،برطانیہ میں روز 7سے8سولوگ مررہے تھے، ایک ایک ملک میں ہزارہزارلوگ مررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے نیشنل کمانڈاینڈآپریشن سینٹرکھول دیا،اسدعمرکوانچارج بنایا، نیشنل کمانڈآپریشن سینٹر فعال کیا،اسدعمرکوانچارج بنایا، این سی او سی میں پاکستان بھرکاڈیٹالیاجاتاہے،تجزیہ کیاجاتاہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں ترقی یافتہ ممالک کی طرح کوروناکوعروج نہیں آیا، یورپ کے حالات دیکھیں،وہاں پراسپتال بھرگئے، جیسے یوکے پروائرس سے دباؤ پڑا ویساپاکستان پر نہیں پڑا، اللہ کاشکرہے، ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان پردباؤنہیں آیا۔عمران خان نے کہا کہ یہ بھی سوچتے ہیں ملک میں لاک ڈاؤن کم کرنا شروع کریں، لاک ڈاؤن سے متعلق جو فیصلے کئے ہیں اس کی تفصیل سے ٓاگاہ کریں گے، ہماری مشاورت کوروناکے حوالے سے چلتی رہی، مشترکہ طورپرفیصلہ کیاگیاکہ آسانیاں پیداکرنی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کوروناسے اموات کی تعدادمیں اضافہ ہورہاہے لیکن آ ہستہ آہستہ، ملک میں کوروناسے اموات تیزی سے بڑھنے کاخطرہ تھا، ہمیں ڈرتھاکہ پاکستان میں اموات تیزی سے نہ بڑھیں، یہ بھی خطرہ تھاکہ اسپتالوں میں کہیں جگہ ختم اور سہولتیں کم نہ ہوجائے۔

وزیراعظم نے ہفتے سے لاک ڈاؤن کھولنے کااعلان کرتے ہوئے کہا ملک بہت مشکل میں ہے،چھوٹے دکاندارمشکل میں ہیں، ، آج ہم نہیں کہہ سکتے کہ کوروناکاعروج کب ہوگا،کوئی نہیں کہہ سکتاکہ لاک ڈاؤن کھولنے پردوبارہ کورونانہ ہو۔عمران خان نے کہا کہ ہم نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑاریلیف پیکج دیا، کئی ملکوں میں یہ ممکن نہیں تھاجتنی جلدی ہم نے ریلیف دیا، ہماری برا ٓمدات اورٹیکس وصولی کم ہوچکی ہیں، اس وقت ملک میں سارے شعبے مشکل میں ہیں، شہروں میں کام کرنے کیلئے آنیوالے واپس دیہات میں چلے گئے ہیں، ہماری معیشت پہلے ہی مشکل سے دو چار تھی۔

وقت آگیا ہے کہ ذمہ دار شہری بن کر وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے سب ایس او پیز پر عمل کریں، امید ہے ایک قوم بن کر اگلے مرحلے میں جائیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ سوا لاکھ پاکستانی اس وقت باہر پھنسے ہوئے ہیں، جب وہ لوگ پاکستان آ تے ہیں تو انہیں ٹیسٹ کرنا پڑتا ہے اور پھر قرنطینہ میں رکھنا پڑتا ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ صوبوں سے بات کریں اور سیلف قرنطینہ کریں، ہمارے پاس کبھی قرنطینہ کی سہولیات اتنی نہیں ہوں گی کہ لوگوں کو لاکر قرنطینہ کریں، بہتر ہوگا لوگ خود گھروں پر آئسولیٹ ہوں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مغرب میں اصل تباہی اولڈ ہومز میں پھیلی ہے اور وہاں ہلاکتیں بہت ہوئیں لیکن ہمارا فیملی سسٹم ہے، ہم بزرگوں کی ذمہ داری لیتے ہیں، خطرہ یہ ہے کہ مثبت ا?نے والے نوجوان کی وجہ سے بزرگ کی جان خطرے میں پڑسکتی ہے۔


ای پیپر