یہ ملاقات اِک بہانہ ہے! ....(گیارہویں قسط )
07 May 2020 2020-05-07

میڈیا انڈسٹری کے حوالے سے وزیراعظم سے بہت سی باتیں ہوئیں، میں بولتا رہا وہ سنتے رہے ،حالانکہ اس معاملے میں ان میں اور شوبازشریف میں کم ہی فرق ہے ، دونوں بولتے زیادہ سنتے کم ہیں، بلکہ اکثر یوں محسوس ہوتا ہے سننے کی صلاحیت سے یہ دونوں پیدائشی طورپر محروم ہیں، تین سیاستدانوں کو اپنی زندگی میں، میں نے دیکھا جو بولتے کم تھے سنتے زیادہ تھے، ایک ان میں محمد خان جونیجو جو ہمارے انتہائی شریف النفس وزیراعظم تھے، دوسرے ملک معراج خالد جو نگران وزیراعظم رہے اور پوری سیاسی زندگی میں صرف عزت ہی کمائی، اور تیسرے ان دونوں سے ذرا مختلف کردار کے مالک میاں منظوراحمد وٹو ہیں جو پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے، وٹو صاحب سے آپ جب بات کررہے ہوں یوں محسوس ہوتا ہے وہ سوگئے ہوئے ہیں پر وہ پورے غور اور تحمل سے آپ کی بات سُن رہے ہوتے ہیں اور جب آپ کی بات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو ختم ہو جائے اس کا مختصر مگر ایسا مو¿ثر جواب دیتے ہیں آپ مطمئن ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے، .... باقی تقریباً سارے سیاستدانوں نے شیخ رشیدجیسا مزاج ہی پایا ہے ، جو سنتے کم ہیں، اور بولتے اتنے زیادہ ہیں لوگوں کو اس یقین میں مبتلا ہونا پڑتا ہے ایک تو ان کی کئی زبانیں ہیں اُوپر سے بڑی لمبی زبانیں ہیں جو وہ مختلف پاک اور پلید مقاصد کے لیے بکثرت استعمال کرتے رہتے ہیں، .... بہرحال وزیراعظم عمران خان نے میڈیا کے حوالے سے میری ”بکواس“ ختم ہونے کے بعد فرمایا ”تم یہ کہہ رہے ہو“ میں میڈیا کے حوالے سے اپنا دل بڑا کروں“ ....پچھلے دنوں ایک اینکر نے میرے سامنے بیٹھ کر میرا گریبان پکڑنے کی بات کی، میں نے اُس موقع پر بھی اپنا دل بڑارکھا، .... پھر انہوں نے چند اینکرز کے نام لے لے کر مجھے بتایا وہ کہاں بیٹھ کر کیا کیا سازشیں ان کے خلاف اور ان کی حکومت کے خلاف کرتے ہیں؟.... مجھے نہیں معلوم وزیراعظم کی معلومات کس حدتک درست ہیں؟ پر وہ اتنے لاعلم بھی نہیں تھے جتنا کچھ لوگ اُنہیں سمجھتے ہیں، اُنہیں سب معلوم ہے کس کس اینکر کی کتنی دولت اور جائیداد اندرون وبیرون ملک ہے اور یہ کیسے بنائی گئی ہے ؟۔ ان کے ذاتی کرداروں کے بارے میں بھی وہ آگاہ ہیں جس طرح کچھ اینکرز یہ دعوے کرتے ہیں وہ بھی وزیراعظم کے ”ذاتی کردار“ سے بخوبی آگاہ ہیں، .... انہوں نے فرمایا اگر میڈیا کے حوالے سے میرا دل بڑا نہ ہوتا، اور اس ضمن میں کچھ مجبوریاں حائل نہ ہوتیں آج کچھ بڑے نامور اینکرز جیلوں میں ہوتے، ....مجھے حیرت ہوئی جب ایک دو ایسے سینئر تجزیہ نگاروں کی انہوں نے تعریف کی جو کبھی اُن کے حق میں نہیں بولے، اُنہوں نے فرمایا اِس کے باوجودمیں ان کی دل سے عزت کرتا ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے وہ بدنیت نہیں ہیں، وہ سازشی نہیں ہیں،.... ایک اینکر جو پچھلے کئی برسوں سے وزیراعظم عمران خان کے حق میں بغیر یہ سوچے سمجھے بولے چلے جارہے ہیں کہ کوئی ان کی باتوں پر یقین کر بھی رہا ہے کہ نہیں؟ اُن کے بارے میں وزیراعظم نے مجھے بتایا چند روز پہلے اُس اینکر نے ہماری پارٹی کے ایک رہنما سے نئے ماڈل کی کروزرمانگی ....پارٹی رہنما نے جب اُس اینکر کی اس فرمائش کے بارے میں مجھے بتایا میں نے اس سے کہا تم صاف انکار کردو، پارٹی رہنما نے مجھ سے کہا ”وہ بڑا بے دید بڑا بے فیض، بدلحاظ شخص ہے فوراً ہمارے خلاف ہو جائے گا، بہتر ہے میں یہ ”ہڈی“ اُسے ڈال دیتا ہوں“ ۔....میں نے کہا ”ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کسی کو لفافے، گاڑیاں یا پلاٹ وغیرہ دے کر اپنے حق میں لکھوانے سے ہزاردرجے بہتر ہے ہم اپنے خلاف لکھوالیں“ .... اب چونکہ وزیراعظم کے بولنے کی باری تھی، میں ان کی ساری باتیں خاموشی سے سن رہا تھا ،اور اپنی برادری کے کچھ لوگوں کے کردار پر دل ہی دل میں شرمندگی بھی محسوس کررہا تھا، وزیراعظم نے فرمایا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی ہمارے حق میں لکھے یا خلاف لکھے، میری تمنا صرف یہ ہوتی ہے جھوٹ نہ بولا جائے، ہمارے غلط اقدامات پر کھل کر تنقید کی جائے، پر جو اقدامات درست ہیں اُنہیں درست قرار دینے میں ڈنڈی نہ ماری جائے، .... اُنہوں نے اس ضمن میں خاص طورپر میری مثال دی، اُنہوں نے فرمایا ”تم پچھلے کتنے ہی مہینوں سے مسلسل میرے اور میری کچھ پالیسیوں کے خلاف لکھ رہے ہو، اندرون وبیرون ملک تم کتنی ہی تقریبات میں اور ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر میرے خلاف بولتے رہے، تم اتنے ” بے دید“ ہو میرے خلاف کالم لکھ کر، میرے خلاف انٹرویو دے کر مجھے ہی واٹس ایپ پر بھیج بھی دیتے ہو، کیا تمہارے اورمیرے تعلقات میں کوئی فرق آیا؟ کیا ہمارا رابطہ ٹوٹا؟ جب بھی تم نے مجھے کوئی مسیج کیا میں نے جواب دیا؟ جب بھی بات کرنی چاہی میں نے بات کی، جب بھی کوئی مشورہ دیا میں نے اُس پر غوروفکر کیا، .... اِس لیے کہ مجھے پتہ ہے تم بدنیت نہیں ہو، تم سازش کرتے ہو نہ کسی سازش میں شریک ہوتے ہو، تمہارا کوئی ذاتی ایجنڈہ نہیں ہے ، لہٰذا میں دل سے تمہاری عزت کرتا ہوں، کچھ صحافی اور اینکرز محض ذاتی مقاصد پورے نہ ہونے کی وجہ سے مجھ سے ناراض ہیں، کسی کی سفارش پر الیکشن میں کچھ ٹکٹیں نہیں دیں وہ ناراض ہوکر بیٹھ گیا، کسی کا کوئی اور غلط کام نہیں کیا وہ منہ بناکر بیٹھ گیا، کسی کے کہنے پر کوئی افسر نہیں لگایا وہ خلاف ہوگیا، کسی سے اپنی بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے ملاقات نہیں کرسکا وہ موڈ خراب کرکے بیٹھ گیا، .... اُنہوں نے فرمایا یہ تا¿ثر اگر بقول تمہارے موجود ہے کہ میں یا میری حکومت مجموعی طورپر میڈیا کے خلاف ہیں تو یہ تاثر بالکل غلط ہے ، ہم صرف میڈیا کے سازشی عناصر کے خلاف ہیں، ہم صرف اُن کے خلاف ہیں جو مسلسل جھوٹ بولتے ہیں اور اپنے اِس عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے فخر کرتے ہیں، ہم صرف اُن کے خلاف ہیں جو سمجھتے ہیں سرکار ہرمعاملے میں اُن سے مشورہ کرے اور ان کی منظوری حاصل کرنے کے بعد پالیسیاں نافذ کرے،....وزیراعظم نے فرمایا پی ٹی آئی کی حکومت کے قیام کے بعد ہم نے ایک لمحے کے لیے بھی فراموش نہیں کیا کہ ہماری حکومت کو اقتدار میں لانے کے لیے ہمارے میڈیا کے کچھ دوستوں کی کتنی کاوشیں ہیں؟ ہم ان کی کاوشوں کو کسی صورت میں فراموش نہیں کرسکتے، البتہ حکومت میں آنے کے فوراً بعد ہمیں اس قدر مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہمارا میڈیا کے مخلص دوستوں کے ساتھ رابطے میں تعطل آگیا اُنہوں نے اِس ضمن میں بطور خاص مجھ سے کہا ”تم اِس تعطل کو ختم کرنے میں کردار ادا کرو“۔(جاری ہے )


ای پیپر