دور انصاف ....اخراجات عدل بھی دے دو
07 May 2020 2020-05-07

بابا بلھے شاہ کی دھوم عارفانہ وعاشقانہ، قصور سے نکل کر کتنا عرصہ پہلے سرحدوں سے باہر آکر مقام حضرت خضرؑکے ملاب آسمان و زمین تک روشنی سے تیز سرعت سے دنیا بھر میں گونجنا شروع ہوگئی ہے اور سکھ گلوکار بھی یہ کہنے پہ مجبور ہوگئے ہیں، کہ ”کتے تیں توں اُتے “بابا بلھے شاہ کے خیالات وجد آفرین کے محبت کے پھیلاﺅ ، کو ارشادات الٰہی تک پھیلایا جائے، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے، کہ ”انسان ناشکرا ہے، حالانکہ باری تعالیٰ سورة رحمن میں بار بار فرماتا ہے، کہ اور تم اللہ کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاﺅ گے، سیدھے الفاظ میں اپنے مالک کی وفاداری جو ایک جانور کے حصے میں آئی ہے، کیا اس کا ذکر کتاب الٰہی میں سورة الکہف میں نہیں آیا، کہ جس کی بدولت وہ اصحاب کہف کے ساتھ صدیوں، ان کے ہمراہی رہا ہے بزرگان دین اور اولیائے کرام نے کتے کی دس خصلتیں بیان فرمائی ہیں، ان میں سے ایک صفت ایسی ہے، کہ جس کے بارے میں انسان سن کر مبہوت ہوجاتا ہے، اور اس کے بارے میں سوچ کر وہ پریشان ہوجاتا ہے، کہ اُس نے اپنی زندگی اتنے عرصے سے لایعنی اور بے معنیٰ مصروفیات میں بتا کر اس کو نہ تو جلا بخشی اور نہ اپنے آپ کو امر کرسکے، اُس کی یہ انتہائی قابل قدر صفت یہ ہے کہ وہ صرف اور صرف مالک کا وفادار ہوتا ہے، اسے اپنے گھر سے بالکل پیار نہیں ہوتا ہے، اس کا مالک اسے جس جگہ اور جس بھی گھر میں رکھتا ہے، وہ بلا چون وچرا اس کے ساتھ چل پڑتا ہے، اور وہاں رہنا شروع کردیتا ہے۔

قارئین کرام، اب آپ خود غور کریں، کیا ہم اپنے مالک و خالق کے وفادار ہیں، اُس کا حکم فوراً مانتے ہیں، انسانی گومگوں کیفیت کے بارے میں سید مظفر شاہ کتنی دل لگتی بات کرتے ہیں ، فرماتے ہیں

کوشش ضرور کی ہے دل بے قرار نے

جانے دیا نہ اس کو تمہارے حصار نے

سچ پوچھیں اب انسان تو ہم ایسے ہیں، کہ جنہیں اپنے گھر سے اتنا پیار ہے کہ مالک کی کوئی ایک بات ماننے کو بھی ہم تیار نہیں، یہ تو ہمارے دل وجان سے پیارے نبی کا اعجاز ہے، ورنہ ہماری قوم، اور دنیا بھر کی اقوام، قوم عاد وثمود، قوم نوح جیسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، اللہ سبحانہ و تعالیٰ، ہمیں صفحہ ہستی سے مٹاکر کسی اور قوم کو وجود میں لے آتا، رسول پاک ، دنیا میں بھیجے گئے، سب سے پہلے، اور آخری نبی ہیں، ان کے بعد کسی نبی نے نہیں آنا، یہی وجہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سابقہ نافرمانوں کی طرف، جبار وقہار والی سزا نہیں دی، اسے اپنے پیارے محبوب ، سے اتنا پیار ہے، کہ جب بھی امت مسلمہ کی بات ہوتی ہے، تو اس کی صفت رحمت وکرم، باقی تمام صفات پہ حاوی ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں میرے خیال میں عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہوگی، جن کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں، میں نے اپنے سابقہ کالم میں بات کی تھی کہ ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں میں سے کوئی بھی ایسا مسلمان نہیں کہ جس نے اپنے نبی کی تقلید میں ان جیسا گھر بنایا ہو، نہ تو کسی سیاسی قائد نے، اور نہ ہی کسی دینی جماعت کے سربراہ نے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، کی ایک فرمائش کہ کاش اے اللہ، آپ مجھے کم ازکم حضور کا امتی بنادیں، مگر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کی یہ بات نہیں مانی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس خواہش کا بھی شدید اظہار فرمایا تھا ، کہ میں حضور کی نعلین مبارک کے تسمے باندھتا، قارئین آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، جیسے جلیل القدر نبی نے جس کے اربوں پیروکار ہیں، انہوں نے ساری عمر نہ اپنا گھر بنایا، نہ جھونپڑی بنائی، بلکہ جہاں رات، اور جب رات آجاتی، تو سر کے نیچے اینٹ رکھ کر سو جاتے، بعد میں انہوں نے سرہانے رکھی اس اینٹ کو بھی رکھنا مناسب نہ سمجھا، اور بغیر کچھ سرہانے رکھے سونا شروع کردیا، مگر ان سب باتوں کے باوجود ہمارے حضور سے جب بوقت معراج ، حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات ہوئی، تو وہ فرماتے ہیں کہ وہ اتنے خوبصورت تھے، کہ یوں دکھائی دیتا تھا، کہ ابھی ابھی حما سے نہا کر نکلے ہیں، کیونکہ وہ سرخ و سفید رنگت کے تھے، قارئین ، یہ باتیں کرنے کا مقصد میرا محض اتنا ہے، کہ گو میں خود اس جرم میں شریک ہوں مگر گھر نہایت سادہ اور مختصر ہونا چاہیے، جب حضرت ابراہیم بن ادھم بادشاہ تھے، اور حالت فقر بعد میں اختیار کی، تو انہوں نے صرف یہ سن کر کہ یہ دنیا محض ایک سرائے ہے، کیونکہ پہلے ان کے والد بادشاہ تھے، اور ان سے پہلے ان کے دادا بادشاہ تھے، انہوں نے یہ سن کر بادشاہی پہ لات ماردی، قارئین فرمان الٰہی ہے، کہ میں جس کی بھلائی چاہتا ہوں، اسے دین کی سمجھ عطا کردیتا ہوں، مگر ہم سب تو اگر ملازمت پیشہ ہیں، تو ریٹائرمنٹ کے بعد ساری عمر کی پونجی پراویڈنٹ فنڈ، گھر بنانے پہ یا بچیوں کی شادی پہ فضول رسومات پہ خرچ کردیتے ہیں، گھر پہ اس لیے کہ مناسب گھر نہ ہونے کی وجہ سے مناسب رشتے نہیں آتے، دنیا میں اربوں بسنے والے لوگ، یا تو حضرت عیسیٰؑ کے پیروکار ہیں، یا نبی عربی حضرت محمد کے، مگر حضرت عیسیٰؑ کے امتی ٹرمپ ایکڑوں میں بنے ” وائٹ ہاﺅس“ میں اور حضور کے امتی شاہ سلمان زمین کے علاوہ، سمندر میں بنے محلات میں رہتے ہیں، جدید ریاست مدینہ کے کیا کہنے، عرب اور خلیجی ریاستوں کے عربی و عجمی حکمرانوں کے گھر بھی نافرمانی رسول کی زندہ مثال ہیں، جہاں نہ تو کوئی زنجیر عدل ہے .... اور نہ ہی نقرس انصاف

چاند تاروں نے سنی شوق سے پھر ڈوب گئے

دل بے تاب کی روداد زبانی شب کی !


ای پیپر