حکمران،اپوزیشن ، مہنگائی اور عوام !
07 May 2019 2019-05-07

ایک عجیب کھیل اِس ملک میں گزشتہ کئی برسوں سے کھیلا جارہا ہے، اِس کھیل میں ہرکسی کو کامیابی حاصل ہورہی ہے، سوائے غریب، مظلوم اور بے بس عوام کے، عوام کی ”شکست“ اب باقاعدہ اذیت میں بدلتی جارہی ہے، سوائے باتیں بنانے کے عوام کے لیے کوئی کچھ نہیں کررہا۔ اور تو اور خود عوام بھی اپنے لیے کچھ نہیں کررہے، سب نے سب کچھ اللہ پر چھوڑا ہوا ہے، مگر اللہ فرماتا ہے ”خدا نہیں بدلتا اُس قوم کی حالت نہ ہو آپ جِسے اپنی حالت کے بدلنے کا خیال“،.... عوام کے اِسی رویے نے حکمرانوں کو یہ اجازت دے رکھی ہے وہ عوام کے مسائل کو اور ان کے دُکھوں کو جوتی کی نوک پر لکھیں، اگلے روز میں نے ایک بڑے حکومتی منصب پر فائز شخص سے کہا ” عوام کی بے بسی دیکھی نہیں جاتی، اُن کی تکلیفیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں، اُن کی اذیتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، یہ بھی ایک اذیت ہی ہے اب اُن کے پاس کوئی ”اُمید“ نہیں رہی، یا یوں کہہ لیں اُن کی اُمید ٹوٹتی جارہی ہے۔ اُن کے پاس صرف ایک عمران خان تھا جو وزیراعظم بن گیا ، اب اُن کے پاس کوئی عمران خان نہیں رہا “،.... وہ فرمانے لگے ”کچھ صحافیوں کو بات بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی عادت ہوتی ہے، اب تمہارا شمار بھی اُنہی صحافیوں میں ہونے لگاہے ، عوام نئی حکومت کے مسائل سمجھتے ہیں، اِسی لیے وہ پرانی حکومتوں کی ڈالی ہوئی گندگیوں کی وجہ سے ہونے والی بدترین مہنگائی پر موجودہ حکومت کے خلاف کوئی احتجاج نہیں کررہے، عوام کو پتہ ہے موجودہ حکومت اِس معاملے میں بالکل بے قصور ہے لہٰذا عوام نے اِس مہنگائی کے مطابق خود کو ایڈجسٹ کرلیا ہے، مہنگائی کے خلاف کہیں کوئی ہڑتال نہیں ہورہی، کہیں احتجاج نہیں ہورہا، تم ایسے ہی عوام کے مامے بنے ہوئے ہو“،.... بات ایک لحاظ سے اُن کی بھی درست تھی، ایک زمانہ تھا جب حکومتیں کوئی فیصلہ ملک یا عوام کے مفاد کے خلاف کرتی تھیں، یا حکومت کے کسی فیصلے سے عوام کو تکلیف ہوتی تھی لوگ فوراً سڑکوں پر نکل آتے تھے، ہڑتالیں ہوتی تھیں، دکانیں اور مارکیٹیں بند کردی جاتی تھیں، احتجاجی کیمپ لگتے تھے، بھوک ہڑتالیں ہوتی تھیں، جس کے نتیجے میں حکومتیں اپنے عوام دُشمن فیصلے واپس لینے پر مجبور ہو جاتی تھیں، اب حکومت کے کسی عوام دُشمن فیصلے کے خلاف کہیں کوئی ہڑتال نہیں ہورہی، کہیں کوئی احتجاجی کیمپ نہیں لگ رہا، جس کے نتیجے میں حکومت یا حکمران بُری طرح اِس یقین میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ اُن کا ہرناپسندیدہ فیصلہ عوام دل وجان سے نہ صرف قبول کررہے ہیں بلکہ پسند بھی کررہے ہیں، عوام کا سارا احتجاج زبانی کلامی یا سوشل میڈیا تک محدود ہوکر رہ گیاہے، ....ایک زمانے میں اپوزیشن بھی بڑی تگڑی ہوتی تھی، عوامی یا ملکی مفاد کے خلاف جب بھی کوئی فیصلہ ہوتا اپوزیشن پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کرتی، پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے بائیکاٹ ہوتے، عوام اپنے مفاد کے برعکس کیے جانے والے کسی حکومتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکلتے تو اپوزیشن کی صورت میں اُنہیں ایک لیڈر شپ میسر ہوتی تھی، موجودہ اپوزیشن بھی ”حکومت“ ہی بن کررہ گئی ہے، وہ سوائے بیانات دینے کے یا ون سونی باتیں کرنے کے کچھ نہیں کررہی، بلکہ سچ پوچھیں اپوزیشن کا وجود ہی کہیں نظر نہیں آتا، ....پنجاب کا سابق ”وزیراعلیٰ“ اور موجودہ اپوزیشن لیڈر ویسے ہی باہر بھاگ گیا ہے، اب لندن کی سڑکوں پر وہ ڈرامے کرتا پھرتا ہے، کیونکہ پاکستان میں اُس کے سارے ڈرامے بُری طرح فلاپ ہوگئے ہیں، عوام کو وہ بے یارومدد گار چھوڑ گیا ہے، عوام تو دور کی بات ہے اپنے بیمار بھائی کو بھی بے یارومددگار چھوڑ گیا ہے، اس وقت اُسے ہر حال میں پاکستان میں ہونا چاہیے تھا، موت کا ایک دن مقرر ہے، بیماری کے علاج کے لیے بیرون ملک فرار ہونا محض اک بہانہ ہے، یا کسی نئے ”این آراو“ کا حصہ بھی ہوسکتا ہے، وزیراعظم عمران خان لاکھ کہتے رہیں ”کسی کو این آر او نہیں ملے گا“۔ مگر جنہوں نے این آراو دینا ہے، یا اگر دیا ہے وہ وزیراعظم عمران خان سے پوچھنے کی ضرورت ہی شاید محسوس نہیں کریں گے۔ اُنہیں صرف ”اطلاع“ دی

جائے گی، جو شاید دے بھی دی گئی ہو اور ممکن ہے اسی لیے وزیراعظم کے چہرے سے مسکراہٹ بالکل ہی غائب ہوگئی ہے، اُن کے غصے کی شدت بھی بڑھنے لگی ہے، اگلے روز بے ساختہ ایک یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر یہ بھی اُن کے منہ سے نکل گیا ”فوج نہیں عوام ملک کو متحد رکھتے ہیں “....اُن کی بات درست ہے مگر یہ بات وہ اس طرح بھی کہہ سکتے تھے ”صرف عوام ہی ملک کو متحد رکھ سکتے ہیں “ ....پھر ”روحانیت“ کو وہ پہلے ”رعونیت “ پھر ”رحونیت“ کہتے رہے، وہ ہمیشہ ”پرچی“ کے بغیر تقریر کرتے ہیں اور ٹھیک کرتے ہیں، شاید پہلی بار اُنہوں نے ”پرچی“ کا سہارا لیا اور پھِسل گئے ، برادر محترم رو¿ف کلاسرا بھی اگلے روز یہی بتارہے تھے وہ خاصے دباﺅ میں محسوس ہوتے ہیں، .... جہاں تک سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا علاج کے بہانے بیرون ملک فرار ہونے کا تعلق ہے کوئی اُن سے پوچھے آپ اور آپ کے بھائی کئی برسوں تک اس ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ آپ کی مرضی کے بغیر چڑیا پر نہیں مارتی تھی ، بیوروکریسی مکمل طورپر آپ کی ”غلامی“ میں تھی، اس دوران کوئی ایک ایسا ہسپتال ایک ایسا ادارہ نہیں بناسکے جہاں اپنی اصلی ومصنوعی بیماریوں کا علاج کرواسکتے؟، اور پھر آپ کو اپنی بیماریاں عوام کی محرومیوں سے زیادہ عزیز ہیں ؟۔ میں سوچ رہا تھاممکن ہے اپوزیشن لیڈر نے بیرون ملک جانے کا فیصلہ صرف یہ سوچ کر ”ملکی مفاد“ میں کیا ہو کہ اس ملک سے گندگی کم یا ختم کرنے کے لیے میں سوائے اس کے کیا کرسکتا ہوں کہ بیرون ملک چلا جاﺅں؟ جہاں تک پیپلزپارٹی کا تعلق ہے عوام کی روز بروز بڑھتی ہوئی اذیتوں اور تکلیفوں کے خلاف کوئی قابل ذکر احتجاج وہ شاید اس لیے نہیں کرتی کہ اِن تکلیفوں اور اذیتوں میں اس کا اپنا کردار بڑا اہم ہے، ....ایک زمانے میں دینی اور مذہبی جماعتیں بھی عوام کے مسائل سے بہت حدتک جڑی ہوتی تھیں ، اب ان جماعتوں کے اپنے جھگڑے اور مسائل ختم نہیں ہوتے عوام کے مسائل پر وہ کیا توجہ دیں گی؟۔.... کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے اس ملک میں کوئی نہ کوئی ” قوت“ ضرور ایسی ہے جس نے پورے معاشرے کو کوئی نہ کوئی ایسی ” گولی“ ضرور دی ہوئی ہے کوئی بولتا ہے، دیکھتا ہے نہ سنتا ہے، ان حالات میں پیٹرول پانچ سو روپے لیٹر ہوجائے، ڈالر ایک ہزار روپے تک پہنچ جائے ، کیا فرق پڑتا ہے ؟؟؟


ای پیپر