پاکستان میں مڈل کلاس سیاست کا فقدان!

07 مئی 2018 (23:18)

جاگیر اور سرمایہ داروں کی چودھراہٹ، بیوروکریسی کا غلبہ
چند خاندانوں کی حکمرانی نے سیاست کو موروثیت میں بدل دیا ہے
مقبول خان: پاکستان میں ہمیشہ سے ہی مڈل کلاس کی سیاست کا فقدان رہا ہے۔ اس ملک کی سیاست پر ابتداءہی سے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور بیروکریٹس کا غلبہ رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہمیں موروثی سیاسی قیادت کا تحفہ ملا ہے۔ اس تحفے کی کرامت نے ہی سیاست دانوں کی دوسری اورتیسری نسل کو ہمارے اوپر مسلط کر رکھا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹوکی سیاست سے بے نظیر بھٹو، بلاول بھٹو زرداری اورآصف علی زرداری ورثہ میں ملے، مولان مفتی محمودکا ورثہ مولانا فضل الرحمٰن، خان عبدالغفارخان کا ورثہ اسفندیار ولی، اور بیگم نسیم ولی، چوہدری ظہورالہٰی کا ورثہ چوہدری شجاعت حسین، چوہدری پرویزالہیٰ اورمونس الہٰی جب کہ میاں نوازشریف اور شہباز شریف کے ورثہ میں ہمیں مریم نوازاور حمزہ شہباز ملے ہیں۔

دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں موروثی سیاست ایک مستحکم سیاسی روایت بن چکی ہے۔ اگر ہم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سقوط مشرقی پاکستان کے وقت پاکستان کی سیاست میں موروثی سیاست کا وجود نہ ہونے کے برابر تھا۔ جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا سیاست میں عمل دخل بھی نمایاں نہیں تھا۔ جب کہ مڈل کلاس کی سیاست قدرے مستحکم تھی۔ لیکن سقوط ڈھاکہ کے ساتھ ہی پاکستان میں مڈل کلاس کی سیاست کا بھی سقوط ہوگیا۔


اس وقت پاکستان کی تینوں بڑی سیاسی جماعتوں: مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں بڑی تعداد میں جاگیردار، قبائلی سردار اور سرمایہ دارموجود ہیں۔ مسلم لیگ (ن( اورپیپلزپارٹی میں تو مورثی سیاست کا بھی راج ہے لیکن تحریک انصاف میں موروثی سیاست اب تک نہیں ہے۔ اسی طرح جماعت اسلامی، ایم کیو ایم سمیت کئی چھوٹی سیاسی جماعتوں میں مڈل کلاس خاصی تعداد میں موجود ہے۔ پاکستان میں مڈل کلاس کی سیاست کے فقدان کا غیرجانبدارانہ تاریخی جائزہ لینے سے ملکی سیاست میں اشرافیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا مو¿ثرکردارکھل کر سامنے آتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ مڈل کلاس کے طرزِ سیاست کواسٹیبلشمنٹ مناسب نہیں سمجھتی،اسی لئے وہ اس طرز سیاست کو ناپسند کرتی ہے،کیونکہ مڈل کلاس اورغریب طبقہ بالخصوص محنت کش فطری طور پر مزاحمت پسند ہوتے ہیں، اور اپنے حقوق اور قانونی مراعات کے لئے بالا دست طبقات سے مطالبات کرتے ہیں اوران کے حصول کے لئے جدوجہد بھی کرتے ہیں۔ اس جدوجہد کو ترقی پسند حلقے مزاحمت کی سیاست کہتے ہیں۔ دوسری طرف اشرافیہ کسی بھی صورت میں میڈل کلاس اور محنت کش طبقات کو ان کے حقوق دینے کے لئے تیارنہیں ہے۔کیونکہ اس طرح ان کی معاشرے پر بالادستی اور وسائل پر اجارہ داری کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔اسی پس منظرمیں محنت کشوں اورمڈل کلاس کے حقوق کی جدوجہد کو مزحمت کی سیاست کا نام دیا گیا ہے۔


مڈل کلاس اورغریب طبقے کی سیاست کواگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تویہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ برصغیر پاک وہند میں توحقوق کی یہ تحریک گزشتہ صدی کے چوتھے عشرے میں اُبھری تھی جوجلد برصغیرکے طول وعرض میں پھیل گئی، اوراسے کمیونسٹ پارٹی کی سرپرستی بھی حاصل ہوگئی، لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس تحریک کے ذریعے انقلاب کے نعرے لگائے گئے، نظم اورنثرمیں انقلاب کے بارے میں بہت کچھ لکھا بھی گیا، لیکن نا توانقلاب آیا اورنہ ہی کوئی بڑی عوامی بغاوت سامنے آئی، ماسوائے مشرقی پاکستان کے ، وہاں جو تبدیلی آئی اور مزاحمتی تحریک کامیاب ہوئی اس کے عوامل کچھ اور ہیں جو ہمارے موضوع سے متعلق نہیں۔


موجودہ دورمیں اسٹیبلشمنٹ اورعدلیہ کی فعالیت کی مخالفت کے حوالے سے جو بیانات سامنے آرہے ہیں، اسے فی الحال مزاحمتی تحریک کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی کامیابی کا امکان بظاہر نطرآتا ہے،کیونکہ میاں نوازشریف اوران پارٹی کے بیشتر رہنماو¿ں کا تعلق متوسط طبقے سے نہیں، نہ ہی اس سے قبل وہ نظریاتی سیاست کرتے تھے جبکہ ان کے کارکنوں کی بڑی تعد بھی نظریاتی نہیں ہے۔ دوسری طرف پاکستان کے عوام تشدد پسند نہیں ہیں، وہ پُرامن جدوجہد اورانتخابی سیاست پریقین رکھتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت نظراندازنہیں کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے عوام مزاحمتی شاعری، مزاحمتی ادب اور مزاحمتی سیاست کو پسندکرتے ہیں۔ پاکستان کی اب تک جو سیاسی تاریخ رہی ہے، اس کے مطالعہ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں مزاحمتی سیاسی جماعت کا وجود نہیں ہے۔ پاکستان کی سیاست کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب تک کوئی بھی پارٹی اقتدار سے باہر ہوتی ہے، وہ مزاحمت کی سیاست کرتی ہے اوراقتدار میں آنے کے بعد مراعات اور اقتدارکو مستحکم کرنے کی سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ایک زمانے میں کالعدم نیشنل عوامی پارٹی مزاحمت کی سیاست کرتی رہی، لیکن یہ عوامی نیشنل پارٹی اور نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی کے روپ میں مزحمت کی سیاست نہیں کرسکی۔ اسی طرح پیپلزپارٹی بھی جب اقتدار سے باہر رہی مزاحمت کی سیاست کے حوالے سے مشہور رہی، لیکن جب سے پیپلزپارٹی کی قیادت آصف زرداری کے زیراثر آئی ہے، پیپلزپارٹی اپنا نظریاتی اورسیاسی تشخص بھی کھوچکی ہے۔کیونکہ اب اس میں دو رائے نہیں پیپلزپارٹی اس وقت ایک موقعہ پرست جماعت کے طور پر سامنے آرہی ہے جس کا مقصد محض اقتدارکا حصول ہے۔


میاں نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ طویل عرصے تک اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کرتے رہے ہیں لیکن دوسری طرف یہ حقیقت بھی ہے کہ میاں نوازشریف نے جب بھی وزیراعظم کے مکمل اختیارات حاصل کرنے یا بالا دست قوتوں سے ڈکٹیشن لینے سے انکارکرنے کی کوشش کی،انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں میاں نواز شریف وہ واحد سیاست دان ہیں جو تین مرتبہ نادیدہ قوتوں کی مدد سے بر سراقتدار آئے اور تین مرتبہ اپنی آئینی مدت پوری کئے بغیر وزیراعظم ہاو¿س سے رخصت کردیئے گئے۔ اس مرتبہ وہ ناصرف وزارت عظمیٰ سے بر طرف کئے گئے ہیں بلکہ انتخابی سیاست اور پارٹی قیادت سے بھی عمر بھرکے لئے نااہل قراردے دیئے گئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس وقت نوازشریف جس طرح مزاحمت کر رہے ہیں، اس سے قبل انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ لیکن اس ناہلی کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اب پاکستان میں نوازشریف کی سیاست کا باب ہمیشہ کےلئے بند ہوچکا ہے۔ میاں نواز شریف کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ اب 90 کی دہائی والے حالات نہیں ہیں، ملکی اورعالمی سطح پرحالات تبدیل ہوچکے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ اورحکمت عملی بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوچکی ہے، سرحدوں پر بھی پاکستان کے ماضی جیسے حالات نہیں ہیں، پاکستان کے خلاف بھارت افغان گٹھ جوڑکسی خطرے سے کم نہیں، ایران کے ساتھ بھی پاکستان کے قابل رشک نہیں ہیں، جبکہ بھارت نے تو پاکستان کوکبھی دل سے قبول ہی نہیں کیا ہے۔اس کے ساتھ سیاسی اوردیگرمسائل کے ساتھ نوازشریف کے سامنے مشکلات کے پہاڑ بھی کھڑے ہیں۔ نوازشریف کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اب جذبات کے سہارے کامیابی ممکن نہیں، انہیں تدبرکا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سیاست کو اپنانا ہوگا جو پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کی پسندیدہ ہے۔ انہیں اب نہ صرف سیاسی حالات بلکہ عوام کے سیاسی شعورکو دیکھتے ہوئے اپنی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی، کیونکہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ان کے ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیدارتو چھتریاں تبدیل کر رہے ہیں۔ نوازشریف اب خودکونظریاتی سیاستدان کہتے ہیں، لہذا انہیں اس حقیقت کا ادراک بھی کرنا ہوگاکہ نظریاتی قیادت کاکام نہ صرف عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے بلکہ ان کے مسائل حل کرانے اور عوامی مطالبات کو تسلیم کرانے کےلئے عوام اورکارکنوں کو جدوجہد کی طرف لانا ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں نواز شریف پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں نچلے اورمڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کو اپنی سیاسی جدوجہدکے ساتھ جوڑنے میںکامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ موجودہ صورتحال میاں نواز شریف کے تدبرکا امتحان ہے، انہیں ہرقیمت پر اپنی تحریک کو پُرامن رکھنا ہوگی۔ اگر تحریک میں تشددکا رنگ شامل ہوا تواس کے منفی اثرات نہ صرف نظام پر مرتب ہوںگے بلکہ انہیں ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑے گا ، اورناکامی کی صورت میں وہ پاکستان کی سیاسی منظرنامے سے ہمیشہ میشہ کے لئے غائب ہو سکتے ہیں۔


اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ اس وقت جو سیاسی منظرنامہ ہے، جو سیاسی عمل جاری ہے، وہ عوامی خواہشات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ سیاسی جماعتوں کے جلسے تو ہو رہے ہیں لیکن ان میں عوام کے لئے کچھ نہیں۔ قائدین جلسوں میں مخالفین پرالزام تراشی اوراپنی کامیابی کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں اور عوامی مسائل کا ذکر وعدہ فردا کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ موروثی قیادت اور جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ مفادات کی سیاست ہے۔ عوام کے سیاسی عمل میں شامل نہ ہونے کی وجہ ملکی سیاست میں مڈل کلاس سیاست کا فقدان ہے۔


سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کی شکل میں مڈل کلاس کی قیادت سامنے آئی تھی لیکن اس کے ارکان اسمبلی اورعہدیدار اپنے اصل اہداف سے ہٹ گئے اورمنفی سرگرمیوں میں ملوث ہوکر اپنی قوت اورعوام کی پذیرائی سے محروم ہوتے چلے گئے۔ جس پر قانون نافذکرنے والے اداروں نے کارروائی کی، اس کارروائی سے کراچی میں جبر اورخوف کی سیاست کا خاتمہ ہوا اور شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ دوسری طرف ایم کیوایم کئی گروپوں میں تقسیم بھی ہوگئی۔ اس کے ساتھ سندھ کے شہروں میں مڈل کلاس کی سیاست کا تجربہ نا عاقبت اندیش لوگوں کی گروہی اورذاتی مفاد پرستی کے نتیجے میں ناکام ہوگیا۔


اب عام انتخابات قریب ہیں، نگراں سیٹ اپ آنے والا ہے، سیاسی جماعتیں نئی صف بندیوں میں مصروف ہیں، سیاسی جماعتوںکے قائدین کو بھی اندازہ ہوچکا ہے کہ جاگیرداراور صنعت کار سیاستدانوں سے وفاکی امیدکرنا فضول ہے،کیونکہ وہ ہوا کی طرح رخ بدلنے میں دیرنہیں کرتے۔ دوسری جانب مقتدر حلقوں کو بھی اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مڈل کلاس کو سیاسی دھارے میں لایا جائے۔ پہلے مرحلے میں ان کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ ملک سے بد عنوانی، اقربا پروری اوراختیارات سے تجاوز کرنے کی سیاست کا خاتمہ ہو سکے۔ دوسری طرف سیاسی قائدین کو بھی اس حقیقت کو سمجھ لینا چاہئے کہ سیاست ایک اہم اور مقدس عمل ہے اورملکی اقتدارحاکم اعلیٰ یعنی اللہ تعالی کی امانت ہے۔ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ہاتھوں میں کروڑوں لوگوں کا حال اور مستقبل ہوتا ہے، ان کی ایک لمحے کی غلطی قوم کوکئی سال پیچھے لے جاتی ہے، لہذا سیاستدانوں اور حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ سیاست کو خدمت خلق سمجھ کر کریں۔ اس طرح نہ صرف عوام کے مسائل حل ہوںگے بلکہ ملک بھی ترقی کی شاہرہ پر گامزن ہوگا۔ اگر اب بھی سیاستدانوں نے موروثی سیاست کو برقرار رکھنے کے لئے ایک دوسرے پر الزم تراشی کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا سلسلہ جاری رکھا توکسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔

مزیدخبریں