Photo Credit Naibaat Mag

عوام،اشرافیہ یا اگلی حکومت,”چھٹا بجٹ“کس کے لئے؟
07 مئی 2018 (23:13) 2018-05-07

 حافظ طارق عزیز :ہمارے ہاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ ایک ایسی حقیقت بن چکی ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ روزانہ مختلف ٹاک شوز، جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں یہ مشق دہرائی جاتی ہے۔ اہل اقتدارمعاملات کو اس حد تک بڑھا چڑھاکر پیش کرتے ہیں کہ ہرطرف خوشحالی کا دور دورہ نظرآنے لگتا ہے۔ جبکہ اپوزیشن معاملات کی اس قدر منفی تصویر کشی کرتی ہے قومی زندگی کے کسی پہلوکی کوئی کل سیدھی دکھائی نہیں دیتی۔

اورجب انتخابات قریب ہوں تو پھرتو یہ روش اپنی انتہاکو پہنچ جاتی ہے۔ اس کی حالیہ مثال حکومت کی جانب سے اپنا چھٹا بجٹ پیش کرنا، اس کے سب سے بہتر ہونے کی دلیلیں دینا اور اپوزیشن کا اس پر یہ موقف اختیارکرنا ہے کہ اس بجٹ میں سرے سے کوئی مثبت چیز موجود ہی نہیں ہے۔ وطن عزیز کے سیاسی حالات، حکومت کے دعوے اور حزب اختلاف کی تنقید سے پیجنابی زبان کی ایک کہاوت ذہن میں آرہی ہے، جو یوں ہے ”اُجڑیاں باغاں دے گالھڑ پٹواری“یعنی اجڑے ہوئے باغوں کا حساب کتاب گلہریاں رکھتی ہیں، وہ وہیں اچھلتی کودتی پھرتی ہیں۔اوراگر کوئی معاملہ بگڑ جائے تو اس کو سُدھارنے والا کوئی نہیں ہوتا....گلہری کی ایک خاص بات یہ بھی ہوتی ہے کہ اُسے”اُجاڑ“سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، بلکہ خزاں کے موسم میں جب درختوں کے سوکھے پتے زمین پر پڑے ہوں تو اُن کے بیچوں بیچ گزرنا اُسے بھلا لگتا ہے،اوروہ زیادہ لطف و اندوز ہورہی ہوتی ہے .... اس وقت ہمارے ملک کی معاشی حالت بھی اس اُجڑے باغ کی طرح ہے جس میں ”گلہریاں“مزے مزے سے اچھل کودکر رہی ہیں اور معاملات کو سدھارنے کے بجائے الٹا مخرفخر محسوس کر رہی ہیں۔ اسی کھیل کود میں انہوں (مسلم لیگ ن) نے چھٹا بجٹ بھی پیش کردیا، حالانکہ یہ بجٹ استعمال بھی یکم جولائی کے بعد اگلی حکومتوں نے کرنا ہے.... تو ایسے میں کیا مصیبت پڑی تھی کہ تین چارماہ پہلے ہی”عوام دوست“ بجٹ پیش کردیا جائے۔ اوراگر آنے والی حکومتیں اس میں ردو بدل کرےں تو اسے سیاسی طور پرکیش کروا لیا جائے۔


اس بھونڈی حرکت پر ہمارے پردھان منتری شاہد خاقان عباسی عجیب وغریب منطق پیش کرتے نظرآتے ہیں کہ چار ماہ بعد انہوں نے دوبارہ آتوجانا ہے، اس لیے وہ اس بجٹ کو پیش کرنے کے حقدار ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر انہوں نے اس یقین کی بنیاد پرکہ انہوں نے چار ماہ بعد آ تو جانا ہے ،اپنی رخصتی سے ایک ماہ پہلے ایک ایسا بجٹ پیش کردیا ہے جس کا عملی اطلاق ان کی حکومت سے رخصتی کے بعد شروع ہوگا تو انہیں یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہ اپنے اس یقین کی بنیاد پر مزید پانچ بجٹ بھی پیش کردیں کہ بقول ان کے چار ماہ بعد انہوں نے اگلے پانچ سال کے لیے آنا توہے ہی لہٰذا وہ اگلے پانچ سال کا ایک ہی بجٹ پیش کر دیتے تاکہ ان کے اس بہترین بجٹ سے ملک و قوم صرف ایک سال کے لیے نہیں بلکہ پانچ سال کے لیے مستفید ہو جاتے۔ اور پھر عباسی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بجٹ پچھلے پانچ بجٹوں میں سب سے اچھا ہے، بندہ پوچھے کہ پچھلے پانچ بجٹ کیا قرون اولیٰ کی حکومتوں نے پیش کیے تھے، اور اگر یہ بات سچ مان بھی لی جائے تو سمدھی جی کے خلاف کھلی بغاوت ہوگی کیوں کہ سمدھی جی یعنی اسحاق ڈار بھی کہا جاتا ہے، نے گزشتہ پانچ سال میں ہر بجٹ کو ”تاریخی“ قراردیا تھا۔ اور دل کے مریض بن کر دیار غیر میں بیٹھے ہیں تو ان کے کان میں عباسی صاحب کی یہ باتیں ضرور پڑی ہوںگی، جس نے بیرون ملک مغموم ومفرور پڑے ہوئے اسحاق ڈارکی کارکردگی کوگہنانے کی بھی پوری کوشش کی ہے۔ عین آخری وقت پر جناب مفتاح اسماعیل کو مکمل وزیرخزانہ بنا کر جہاں ایک طرف انہوں نے اسحاق ڈار کے دل پر چرکہ لگایا ہے وہیں انہوں نے یہ بیان دے کر پہلے سے دل کے مرض میں مبتلا اسحاق ڈار کے دل پر مزید وار کیا ہے جو ان کی صحت کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر نہایت ہی خطرناک ہے۔


بہرکیف بجٹ کیا تھا؟ عوام کے لیے کیا تھا؟ غریبوں کو کیا ملا؟ کچھ علم نہیںاور ویسے بھی جس طرح تھانے کچہری عدالتوں کی زبان عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے اور وہ قانونی موشگافیوں سے نا واقف ہوتے ہیں، اسی طرح مالی بجٹ میں استعمال کی گئی زبان یا اصطلاح بھی عام آدمی کے سر سے گزر جاتی ہے مگر اس کا بنیادی سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ تعلیم، روزگار اور صحت کی مناسب سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ریاست ہے۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ بجٹ خسارہ کیا ہوتا ہے یا ٹیکسزکی شرح میں رد و بدل سے کیا انقلاب آتا ہے۔ اسے صرف اس بات سے مطلب ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھرکا چولہا جلا سکے۔ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہوئے اپنے بچوں کو دو وقت کا کھانا کھلا سکے۔ تعلیم اور صحت اگر سرکاری سطح پرکہیں مل گئے تو کیا کہنے ورنہ زندگی کی گاڑی تو گھسیٹنی ہی ہے۔بقول شاعر


موت نے ساری رات ہماری نبض ٹٹولی
ایسا مرنے کا ماحول بنایا ہم نے


موجودہ بجٹ کے بارے میں بڑے وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ جاتے جاتے ایسا بجٹ پیش کرنا بالکل حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ دلوانے والا معاملہ ہے۔ ٹیکس کم کرکے انہوں نے قوم کو خوش کرنے کی کوشش توکی ہے لیکن خوش کرنے کی یہ جعلی حرکت بڑی بھونڈی ہے کہ اس کا سارا وزن آنے والی حکومت کو اٹھانا پڑے گا اور ٹیکس معافی، ایمنسٹی سکیم وغیرہ جیسی چھوٹ کا اثرآنے والے دنوں میں بجٹ خسارے کی شکل میں سامنے آئے گا اور آنے والی حکومت .... جانے والوں کی اس فیاضی کو اگر جاری رکھے گی تو مشکل میں پھنسے گی اور اگر اس بجٹ کو واپس لے گی یا اس میں تبدیلیاں کرے گی تو بدنامی مول لے گی۔ یعنی ہر دو صورتوں میں مشکل آنے والوں کے لیے ہوگی اور اس بجٹ کو مسلم لیگ (ن) والے آنے والے الیکشن میں اپنی کامیابی کا ڈھنڈورہ پیٹنے کے لیے استعمال کریں گے۔ یہی حال میاں شہبازشریف نے اورنج ٹرین والے معاملے میں کیا ہے۔ ایک سو پینسٹھ ارب روپے کی خطیر (بلکہ خطیراس کے لیے بڑا لفظ ہے) رقم سے ستائیس کلومیٹر لمبے ٹریک پر مشتمل اس ٹرین منصوبے کا افتتاح تو لشٹم پشٹم میاں شہبازشریف اپنی حکومت کے خاتمے سے قبل کر لیں گے اور اس منصوبے کی بنیاد پر لاہوریوں سے ووٹ بھی مانگیں گے لیکن یہ 165 ارب روپے کی رقم کی ادائیگی وہ کریں گے جو بعد میں آئیں گے۔


اس جعلی بجٹ میں کیا تھا، کیا نہیں تھا؟ کس کے لیے کتنے پیسے رکھے اورکتنا خسارہ ہونا ہے، گلہریوں کی اس بستی میں اچھے کی اُمید رکھی بھی نہیں جا سکتی جوگزشتہ پانچ سال کچھ نہ کرسکے وہ اس سال کون سا معرکہ مار لیں گے ۔ یہ بجٹ محض کسی کی خوش آمد، عوام میں اچھی شہرت بنانے اور کاروباری حضرات کو چند ایک نئے شوشے اور جھوٹے دعووں کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس طرح بجٹ میں فوج کو خوش کرنے کے لیے 11سو ارب روپے بھی بظاہر دھوکہ لگ رہے ہیں جو بادی النظر میں آنے والی حکومت کے لیے مسئلہ پیدا کر سکتے ہیں کیوں کہ اگلی حکومت نے اس میں سے قدرے کٹوتی کردی تو اسٹیبلشمنٹ کے نئی نویلی حکومت کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح97 ارب روپے تعلیم اور بنیادی صحت کے لئے 37 ارب روپے مختص کئے گئے۔ 97 ارب اور 37 ارب ملاکر 134 ارب روپے بنتے ہیں اب حساب کر لیجئے کہ 22کروڑکی آبادی والے ملک میں فی خاندان کیا نکلے گا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر نرم سے نرم الفاظ میں تبصرہ یہ ہوگا کہ بنیادی طور پر یہ بجٹ عوام کے نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقات کے لئے ہے۔ وہی مراعات یافتہ طبقات جو پچھلے پانچ وفاقی بجٹس سے بھرپور فیض پاتے رہے۔ یہ وہ الزام بھی ہو سکتا ہے جو ہر دور کی اپوزیشن حکومت کی طرف سے بجٹ پیش کرنے کے بعد لگاتی آئی ہے۔ دیہی آبادی کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں۔ لوگوں کو فقیر بنائے رکھنے کے خیراتی پروگرام میں اضافہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ اربوں روپے خیرات کرنے سے زیادہ بہتر نہیں کہ کاٹیج انڈسٹری کے لئے بلاسود قرضے دئیے جائیں تاکہ غربت و بیروزگاری کی شرح میں کمی کی جا سکے۔


سیاق و سباق کو دیکھا جائے تو بات واضح ہوجاتی ہے کہ جس طرح آخری ایام میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پیش کرنا پری پول رگنگ تھی، اسی طرح اس موقع پر بجٹ پیش کرنا بھی انتخابی فوائد سمیٹنے کے علاوہ کچھ نہیں۔ بجٹ میں عام آدمی کوکتنی عزت ملے گی، اس کا اندازہ بہت جلد ہوجائے گا کیونکہ حکمرانوں کا زور ابھی بھی ووٹ کی عزت پر ہے، ووٹرزکی عزت کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے۔


خیر عوام کواس”جعلی بجٹ “سے کچھ لینا دینا نہیں، انہیں محض یہ علم ہے کہ 2013ءمیں جب پیپلز پارٹی کی حکومت رخصت ہوئی تو قرضہ کی فی کس شرح 58 ہزار روپے تھی جو اب ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ہے یعنی (ن) لیگ کے پانچ برسوں میں67 ہزار روپے فی کس قرضے کا اضافہ ہوا تقریباً ساڑھے 12ہزار روپے سالانہ۔ انہیں یہ علم ہے کہ حکومت کی مدت ختم ہوجاتی ہے لیکن لوڈ شیڈنگ جیسی بلاختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ غریب کسان کا تو حال ہی مت پوچھیں۔ رمضان المبارک میں چینی 70 روپے کلو بکے گی جب کہ غریب کاشتکاروں کا گنا 120 روپے من لیا جا رہا ہے جس کی ادائیگی میں بھی شوگر ملزکے مالکان مہینوں لگا دیتے ہیں۔


موجودہ اقتداری طبقہ سے لاکھ اختلافات کے باوجود یہ بات مانے بغیرکوئی چارہ نہیں کہ (ن) لیگ کی حکومت کو ورثہ میں لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی، امن و امان، بے روزگاری اور معاشی ترقی میں تنزلی ملی تھی۔ حکومت نے اپنے دور میں مشکل حالات کے باوجود لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی سمیت کئی مسائل پر کامیابی سے قابو پالیا جبکہ برآمدات میں 12فیصد کا اضافہ بھی باعث اطمینان ہے۔ موجودہ بجٹ میں بھی تمام پہلو منفی نہیں بلکہ کچھ چیزیں حقیقت پسندانہ بھی ہیں۔ بجٹ میں دعویٰ کیاگیا ہے کہ ملکی اقتصادی ترقی میں ایک واضح پیش رفت ہوئی ہے۔لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود ملک کے اندر معیشت ابھی تک پائیدار راستے پرگامزن نہیں ہوپائی۔ معیشت کمزور اساس پر کھڑی ہے خاص طور پر بیرونی سیکٹر اورکرنٹ اکاﺅ نٹ خسارہ نیزحکومت کے پاس کوئی حکمت عملی بھی نہیں ہے کہ بیرونی اکاﺅنٹ کوکیسے سنبھال پائے گی۔ ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں باہمی چپقلش کا رویہ ترک کر کے مل بیٹھ کرایسی سیاسی ومعاشی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی جو حقیقت میں ترقی کی ضامن ہو۔


ای پیپر