چیف جسٹس وہ کام کر رہے ہیں جو حکومتیں نہ کر سکیں : عمران خان
07 مئی 2018 (20:31) 2018-05-07

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس وہ کام کررہے ہیں جو حکومتیں نہ کرسکیں، چیف جسٹس غیر جانبدار ماہرین کی ٹیم بنائیں جو صوبوں میں ہونیوالے کاموں کا جائزہ لے یہ معاملات عوام کے سامنے آنے چاہیں

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صحت ہے، چیف جسٹس ثاقب نثار (کل) منگل کو خیبر پختو نخوا جارہیے ہیں ، چیف جسٹس وہ کام کررہے ہیں جو حکومتیں نہ کرسکیں، میں چیف جسٹس سے کہتا ہوں کہ آپ غیر جانبدار ماہرین کی ٹیم بنائیں جو (کے پی کے) اور دیگر صوبوں میں ہونے والے کاموں کا جائزہ لے اور یہ معاملات عوام کے سامنے آنے چاہیں، ہم اشتہارنہیں دے سکتے جبکہ ہمارے مخالفین اربوں روپے کے اشتہارات دے رہے ہیں ، چیف جسٹس کے پی کے میں پولیس ، اسپتالوں کے حالات اور دیگر معاملات دیکھیں۔

عمران خان نے کہا کہ لوگ کیوں سرکاری اسپتالوں میں علاج نہیں کراتے؟ عالمی ادارے شوکت خانم کینسر اسپتال کی خدمات اور سہولیات کو سراہتے ہیں ، (کے پی کے) میں ہم نے ڈاکٹر کمیونٹی کو مطمئن کیا اور صحت کی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے۔ چیف جسٹس (کے پی کے) کے اسپتالوں کا نوٹس لیا، چیف جسٹس کے اقدامات کو خوش آمدید کہتے ہیں ، چیف جسٹس وہ کام کررہے ہیں جو حکومتی نمائندے نہیں کررہے ، حکومت کے اسپتالوں کو ٹھیک کرنا سب سے مشکل کام ہے، ہم نے (کے پی کے )کے اسپتالوں کیلئے باہر کے ممالک سے ڈاکٹر کو بلایا، جنہوں نے اسپتالوں کے حالات بہتر کیے، اور یہ ماہرین ڈاکٹرز مفت کام کررہے ہی، میں چیف جسٹس کے سامنے کچھ چیزیں رکھنا چاہتا ہوں یہ مسائل ہمیں درپیش ہیں ، 100میں سے 23دل کے مریض مرجاتے ہیں ، جس نے علاج کرنا ہے وہ ڈاکٹر 6ماہ سٹے آرڈر لیئے بیٹھا ہے ایسی صورت میں سرکاری اسپتال نجی اسپتالوں کا کس طرح مقابلہ کرسکتا ہے، ایک ڈاکٹر موسیٰ کلیم کو کام نہ کرنے پر نکالا گیا وہ بھی 6ماہ سٹے آرڈر پر بیٹھے ہیں ، بچوں کے وارڈ میں ایک بچے کی موت پر اس وارڈ کا ہیڈ کہتا ہے کہ میں ذمہ دار نہیں ہوں، کچھ ڈاکٹرز نجی پریکٹس کر رہے ہیں ، ان کو جب نکالا گیا تو وہ سٹے آرڈر لے آئے، ینگ ڈاکٹرایسوسی ایشن ہماری ریفارمز کے خلاف کمپین کررہا ہے، آج کے پی کے میں 8ہزار ڈاکٹرز کام کررہے ہیں ، جبکہ پہلے 3ہزار ڈاکٹر کام کررہے تھے ،ہم صحت کا بجٹ 5سال میں 30ارب روپے سے 80ارب روپے پر لے کرگئے،، اب تک 30ڈاکٹر بیرون ملک سے پاکستان واپس آگئے ہیں ، لوگ پہلی مرتبہ سرکاری اسپتالوں میں آ رہے ہیں ۔

عمران خان نے کہا کہ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ سڑکیں اور پل بنانے سے حالات بہتر ہوتے ہیں ، اگر ایسا ہے تو بحریہ ٹائون کے چیئرمین ملک ریاض کو وزیراعظم بنادو، وہ آدھے پسیوں میں اور زیادہ بہتر کوالٹی کی چیزیں بناتا ہے ، قومیں تعلیم اور صحت پر زور دیتی ہیں ، یہ نہیں ہو سکتا کہ تمام اسپتال بہتر ہوگئے ہیں ۔ ڈاکٹرز نجی اسپتالوں میں پیسہ بنا رہے تھے ، اور سرکاری اسپتال میں مشین خراب پڑی تھی، ہم مافیا کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میڈیا بھی جاکر دیکھے ، نیب بھی تحقیقات کرے، غریب آدمی سرکاری اسپتالوں میں دھکے کھاتا ہے، شریف خاندان تو ویسے بھی باہر ممالک میں علاج کرانا ہے،اب زمینوں کے مقدمات ایک سال میں حل ہورہے ہیں ، جبکہ پہلے ان مقدمات میں سالوں لگے جایا کرتے تھے، ہم نے یہ اقدامات چیف جسٹس کے ساتھ مل کر کیئے، چیف جسٹس 5برس پہلے اور آج کے حالات کا موازنہ کریں۔ غریب کے پاس علاج معالجہ کیلئے پیسے ہی نہیں ہوتے ، 69فیصد گھرانوں کے پاس ساڑھے 5لاکھ روپے کا ہیلتھ کارڈ ہے، اس ہیلتھ کارڈ اسکیم کے تحت (بی آئی ایس پی) کے تحت تمام غریب گھرانوں کے نام اس میں شامل ہیں ۔


ای پیپر