Photo Credit Yahoo

پاکستان کا ہمسایہ ہر وقت پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا رہتا ہے،جنرل زبیر محمود
07 مئی 2018 (16:15)

اسلام آباد: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا ہے کہ پاکستان کا ہمسایہ ہر وقت پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا رہتا ہے، پاکستان کے خلاف جعلی خبریں منظم انداز میں پھیلائی جارہی ہیں،مضبوط اور مستحکم مستقبل پاکستان کا منتظر ہے،سی پیک خطے میں گیم چینجر ثابت ہونے جارہا ہے، پاکستان 2020 میں دنیا کی اٹھارہویں معیشت بننے جارہا ہے،دنیا کو بتائیے کہ پاکستان کی مثبت فہرست منفی فہرست سے کہیں زیادہ طویل ہےپاکستان نے 83 ہزار شہدا اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی قربانی دے کر القاعدہ کو خطے سے نکال باہر کیا۔

پیر کو اسلام آباد میں پاکستان سمٹ سے خطاب کے دوران چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ پاکستان سمٹ درست وقت میں درست اقدام ہے، آج کے دور میں اطلاعات، سفارتکاری، فوج اور معیشت 4 بنیادی ستون بن چکے ہیں، اطلاعات آج کی طاقت ضرور ہے مگر اس کا غلط استعمال بھی ہورہا ہے، پاکستان کے بارے میں جان بوجھ کا غلط تاثر قائم کیا گیا، پاکستان کے خلاف منظم انداز میں جعلی خبریں پھیلائی جارہی ہیں، دنیا کا کوئی مجرم کوئی جرم کرے عالمی ہیڈ لائنز نہیں بنتی لیکن پاکستانی مجرم کچھ کرے تو شہ سرخیاں کیوں بنتی ہے۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے کہا کہ مضبوط اور مستحکم مستقبل پاکستان کا منتظر ہے، سی پیک خطے میں گیم چینجر ثابت ہونے جارہا ہے، پاکستان 2020 میں دنیا کی اٹھارہویں معیشت بننے جارہا ہے، پاکستان کا چہرہ ڈاکٹرعبد الستارایدھی، ڈاکٹر رتھ فا، ملالہ یوسف زئی اور ارفع کریم جیسے لوگ ہیں۔

آگے آئیے اور دنیا کو بتائیے کہ پاکستان کی مثبت فہرست منفی فہرست سے کہیں زیادہ طویل ہے۔جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ پاکستان کچھ اعلی طبقات کے لیے نہیں بنا تھا، پاکستان اپنے قیام سے ہی دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے اور پاکستان کا ہمسایہ ہر وقت پاکستان کو بدنام کرنے میں لگا رہتا ہے۔ سرد جنگ کے بعد پاکستان کو سیاسی و ثقافتی عالمگیریت کا سامنا ہے، پاکستان نے 83 ہزار شہدا اور ڈیڑھ سو ارب ڈالر کی قربانی دے کر القاعدہ کو خطے سے نکال باہر کیا، دنیا کا کوئی ملک ہماری کامیابیوں کے قریب سے چھو کر بھی نہیں گزرا۔ پاکستان کو انتہا پسندی، گورننس اور سیکیورٹی کے کچھ مسائل ہیں مگر کیا یہ بھارت کو نہیں، بھارت میں صرف گینگ ریپ کیسز کو ہی دیکھ لیں تو سمجھ آجائے گی۔


ای پیپر