احسن اقبال پر حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں : نواز شریف
07 مئی 2018 (15:03)


اسلام آباد : سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ احتساب کا عمل اب سب کے گرد چلے گا، نیب کو غیر موثر کرنے کیلئے وزیراعظم سے بات ہوئی تھی، میں تھوڑا تذبذب کا شکار تھا کہ کہیں ایسا نہ سمجھا جائے کہ میری ذات کے حوالے سے ہو رہا ہے تاہم میرے خلاف کیس کا فیصلہ ہونے دیں، پھر نیب قانون کو بھی دیکھیں گے،الیکشن کسی صورت ملتوی نہیں ہونے چاہئیں،اس ملک میں احتساب صرف سیاستدانوں اور سول سرونٹس کا ہی ہوتا ہے، لیکن اب احتساب کا عمل سب پر لاگو ہوگا اور سب کی باری آئے گی، احسن اقبال پرحملہ کو ئی معمولی واقعہ نہیں ، یہ اسی کا نتیجہ ہے جو ایک ہزار روپے بانٹ گیا تھا ۔ دھرنے کے بعد ایک ایک ہزار روپے نہ بانٹا جاتا تو شاید آج یہ نوبت نہ آتی ۔


احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ احسن اقبال پر حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،یہ بہت ظلم اور زیادتی ہے،یہ صورتحال تشویشناک ہے ۔ صرف ہماری پارٹی کیلئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے تشویشناک صورتحال ہے ۔آج ہماری 62 ویں پیشی احتساب عدالت میں ہے ۔ 61 پیشیاں ہوچکی ہیں ۔ پہلے چھ ماہ گزرے پھر دو ماہ کی توسیع کروائی گئی آج وہ دو ماہ بھی پورے ہو گئے ہیں ۔ کل آٹھ ماہ ہو گئے ہیں اور اس کے بعد پتہ نہیں مزید کتنی توسیع چاہیے ہو گی ۔ میرا خیال ہے کہ کیس میں کوئی حقائق ہوتے اور جان ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی مواد ہوتا اور الزامات صحیح ہوتے تو پھر آٹھ ماہ کیس کو نہ لگتے اور آٹھ ہفتوں میں فیصلہ ہو جاتا ۔ آٹھ ماہ کے بعد بھی فیصلہ نہیں ہو پا رہا ۔ آج تک ایک بھی ایسا گواہ نہیں آیا ۔ ایک بھی ایسا کاغذ یا دستاویز نہیں جس سے وہ یہ ثابت کر سکتے کہ اس کیس میں کوئی حقیقت ہے ۔ گواہ بھی جھوٹے پڑتے رہے بشمول غیر ملکی رابرٹ ریڈلے ۔ وہ بھی الٹا ہمیں ہی تقویت پہنچا کر گیا ہے ۔ یہ اتنا کمزور کیس ہے دنیا ساری جانتی ہے بار بار ہو رہا ہے ۔ میں اپنے وکیل سے مشورہ کر رہا تھا کہ کیا وقت آ نہیں گیا کہ آپ بریت کی درخواست دیں کہ اس درخواست میں ہمیں بری ہونا چاہیے ۔ کیس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ جتنا مرضی آپ لمبا کھینچتے چلے جائیں آپ کب تک کھینچتے چلے جائیں گے ۔ کیا آپ اس وقت تک کھینچتے چلے جائیں گے جب تک کوئی چیز سامنے نہیں آتی جس سے آپ نواز شریف کو سزا دیں ۔ اگر نہیں ہے تو تسلیم کر لیں نہیں ہے، الحمد اللہ نہیں ہے ۔


انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی کرپشن ، کوئی خورد برد اور لوٹ مارکا کیس نہیں ۔ لوٹ مار کے جن کے خلاف کیسز ہیں بڑے آرام سے اپنے گھروں میں سکھ کی نیند سو رہے ہیں اور میں آج 62 ویں پیشی بھگت رہا ہوں اور انہوں نے گزشتہ پانچ ، پانچ ، دس دس سالوں میں دو دو تین تین پیشیاں بھی نہیں بھگتی ہوں گی ۔ یہ سب یکطرفہ چل رہا ہے اور آج کل معاملات کے یکطرفہ چلنے والا زمانہ نہیں ہے اس کا فیصلہ قوم بہت جلد کر دے گی ۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ جو مقدمہ چل رہا ہے کیا یہ میرے لیے پیغام نہیں ،ہائیکورٹ کے جج نے متعلقہ سوال پوچھے مگر ان کا جواب نہیں آیا، جسٹس قاضی فائزعیسی کے سوالوں کا جواب بھی نہیں دیا گیا، یہ ملک ہم سب کا ہے، قوم اس ملک کی مالک ہے مزارع نہیں ۔ بہت ہوچکا، 70 سال سے مزارع رہے اب مستقبل سنوارنا چاہیے، عوام کو احساس ہوچکا ہے کہ وہ مالک ہیں، اب فیصلہ بھی قوم کا ہوگا جب کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کو عوام نے مسترد کردیا۔ پیپلز پارٹی کے خلاف جو کیسز بنے ہوئے ہیں ان کا فیصلہ ہی نہیں ابھی ہورہا اور وہ بڑے بڑے عرصہ سے چل رہے ہیں کیا فیصلہ ہوا ۔ ان کا بتائیں پانچ پانچ ، دس دس سال سے کیس زیر التوا ہیں ان کی پیشیاں ہی نہیں ہوتیں اور ہماری پیشی روز ہوتی ہیں ہفتے میں پانچ پانچ مرتبہ پیشیاں ہوتی ہیں ۔ میں مانسہرہ سے ہوں ۔ میں دو روز قبل رات کو صادق آباد میں 500 میل دور تھا اور صبح آٹھ بجے یہاں ہوتا ہوں میں کہتا ہوں ہمارا دامن صاف ہے۔ آپ کے پلے کچھ نہیں تو کرنا ہے آپ نے جو کر لیں۔ وہ بھی نہیں کر سکتے وہ بھی نہیں ہوتا ان سے، اب بتائیں کوئی جائے تو کدھر جائے۔ ان کو کیس سے بری ہونے کی اتنی ہی امید ہے جتنی میڈیا کو۔ نوازشریف نے کہا کہ الیکشن کسی صورت ملتوی نہیں ہونے چاہئیں اور نہ ہم ہونے دینگے۔ میڈیا قوم کا جذبہ دیکھ رہا ہے۔ میڈیا زیادہ سمجھدار اور باخبر ہے۔ میں اتنا باخبر نہیں ہوں اور ہی اتنا سمجھدار ہوں، بھاگ دوڑ بھی میڈیا زیادہ کرتا ہے اور دیکھ بھال بھی رہے ہیں سب کچھ اور قوم کا موڈ بھی دیکھ رہے ہیں۔ پہلے کبھی میڈیا نے قوم کا موڈ ملک کی 70سالہ تاریخ میں ایسا دیکھا ہے۔ عوام بار بار پکار کر کہہ رہے ہیں ووٹ کو عزت دو، ووٹ کو عزت دو۔ یہ گھر گھر سے نعرہ اٹھ رہا ہے اتنے جذباتی ماحول میں جب کہ لوگ اب جاگ چکے ہیں۔ لوگ اپنے ووٹ کی توقیر کو سمجھ چکے ہیں۔ اپنے ووٹ کی عزت کو سمجھ رہے ہیں۔ الیکشن ملتوی ہوں گے کیوں اور کون انتخابات کو ملتوی کرے گا۔ 22 کروڑ عوام سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ان کے سامنے کھڑی ہو گی۔


نواز شریف نے مزید کہا کہ اس ملک میں احتساب صرف سیاستدانوں اور سول سرونٹس کا ہی ہوتا ہے، لیکن اب احتساب کا عمل سب پر لاگو ہوگا اور سب کی باری آئے گی نوازشریف نے کہا کہ وہ عمران خان کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو میڈیا اور پوری قوم کہتی ہے۔ 2011ء اور آج 2018ء عمران خان کے حوالے سے فرق لوگ جانتے ہیں۔ اگر عمران خان کہہ رہے ہیں کہ 2013ء کا الیکشن فوج نے نوازشریف کو جتوایا تو پھر جن کے خلاف عمران خان بات کر رہے ہیں ان کو پھر عمران خان سے پوچھنا چاہئے کہ آپ کیسے یہ بات کرتے ہیں۔


ای پیپر