Shafiq Awan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 مارچ 2021 (12:56) 2021-03-07

وزیر اعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ مل گیا جو کہ ملنا ہی تھا ان کو مبارک ہو۔ 

 یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیر اعظم کو جن 178 اراکین نے اعتماد کا ووٹ دیا ان میں ان 16 اراکین اسمبلی کے آلودہ ووٹ بھی شامل تھے جنہیں عمران خان نے ضمیر فروش قرار دیا تھا اب شفافیت کے دعویدار عمران خان ہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے اس آلودگی کو گلے کیوں لگایا۔

پارلیمنٹ کے اندر تو وزیر اعظم اور اتحادی جشن منا رہے تھے لیکن باہر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کر کے اس جشن کو ماتم میں بدل دیا۔ پی ٹی آئی حکومت نے وہی کیا جو ٹرمپ نے جاتے وقت کیپٹل ہل پر حملہ کروا کر کیا تھا۔

 پارلیمنٹ کے سامنے عمران خان کے حامیوں نے مسلم لیگ نواز کی خاتون ممبر قومی اسمبلی مریم اورنگ زیب کو بھی نہیں بخشا۔ جہاں بات ماں بہن تک پہنچ جاے تو یہ مخالف کی انتہائی کمزوری کی دلیل ہے۔

یہی نہیں بلکہ ملک کے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی پر بھی پارلیمنٹ کے احاطے پر تشدد کیا۔ اس کے علاوہ اپوزیشن کے دیگر منتخب نمائندوں اور قائدین پر حملہ کیا۔ یاد رکھئے آج اپوزیشن ارکان پر حملہ اسلام آباد جیسے شہر میں ہوا۔ جب اسلام آباد جیسا شہر پی ٹی آئی کی غنڈہ گردی سے محفوظ نہیں تو باقی شہروں کا کیا حال ہوگا۔ اس پر مریم نواز شریف نے بھی سندھ ہائوس میں پی ٹی آئی کی اس بدتمیزی کا جو جواب دیا وہ بھی قابل غور ہے۔کل کلاں اس ایکشن کا ایکشن ری پلے بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف جب وزیراعظم عمران مخالفین کو غدار کہیں گے تو پھر ان کے کارکنوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ مخالفین سے غداروں والا سلوک کریں جس کی ابتداآج قومی اسمبلی میں ہوئی ہے اور بدقسمتی سے مستقبل میں یہ سلسلہ رکتا ہوا نظر نہیں آتا۔

 عمران خان ہمیشہ شفافیت کی بات کرتے ہیں بہتر ہوتا کہ وہ اپنے بیانیے کے مطابق ان 16 اراکین کو نکال کر اعتماد کا ووٹ لیتے۔ لیکن انہوں نے یہ اصولی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ اس سے ان کی حکومت جاتی ہے۔ آج ثابت ہوا کہ عمران خان کی سیاست بھی شفافیت کے لیے نہیں اقتدار کے لئے ہے۔عمران خان کی آج کی تقریر میں کچھ نیا نہیں تھا وہی این آر او نہیں دوں گا اور اپوزیشن کرپٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن انہوں نے اپنے ان 16 اراکین کا ذکر تک نہیں کیا جنہیں انہوں نے این آر او دے کر ان سے اعتماد کا ووٹ لیا۔ پاکستان میں صرف ایک بار 1989 میں اپوزیشن نے محترمہ بینظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی تھی جو ناکام ہوئی۔ اس کے بعد قومی اسمبلی میں بینظیر بھٹو شہید نے اپنی تقریر میں کہا سب کو مل کر جمہوریت مستحکم کرنا چاہئے۔ لیکن عمران خان کی تقریر اس کے بالکل برعکس تھی بلکہ ماضی کی نسبت سخت موقف تھا۔

لیکن پارٹی ابھی ختم نہیں ہوئی عمران خان نے از خود اعتماد کا ووٹ لے تو لیا لیکن اس سے ان کی حکومت کو سیاسی استحکام نہیں ملے گا۔ ان کے سر پر عدم اعتماد کی تلوار ہمیشہ لٹکتی رہے گی اور وہ اتحادیوں کی بلیک میلنگ کے شکار رہیں گے۔ اس کے علاوہ جب بھی خفیہ ووٹنگ ہوئی یہ 16 ضمیر فروش 32 ہو جائیں گے تب عمران خان کیا کریں گے۔ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ان ضمیر فروشوں کو نکال باہر کریں تا کہ سسٹم پاک ہو۔ویسے بھی آنے والے 6 ماہ تک ان کا اقتدار محفوظ ہے۔

دوسری طرف جو کچھ پارلیمنٹ کے باہر حکومت کے ایماء پر ہوا اس نے پارلیمنٹ کے چہرے پر کالک مل دی۔ سپیکر قومی اسمبلی کا فرض ہے کہ وہ ایوان کے تقدس اور ممبران کا تحفظ کریں لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ کہنے کو جوتا احسن اقبال کو پڑا لیکن حقیقت میں یہ سپیکر قومی اسمبلی کے سر پر پڑا ہے۔ 

افسوس کا مقام یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اعتماد کے ووٹ کے بعد بھی وہیں کھڑے ہیں۔ ان کی آج کی تقریر یہی ظاہر کرتی ہے۔ عمران خان یہ جانتے ہیں کہ سینیٹ میں ان کی اکثریت نہیں لیکن پھر بھی وہ چیئرمین سینیٹ کا امیدوار لا رہے ہیں۔ یہ ان کے ڈبل سٹینڈرڈ ہیں۔ تقریر میں وزیراعظم عدلیہ سے کہہ رہے ہیں اپوزیشن کو سزائیں دیں۔ کیا کوئی سیاسی رہنما اپنے مخالفین کو سزا دلوانے عدلیہ کو کہہ سکتا ہے۔ اگر یہ ڈکٹیشن نہیں ہے تو پھر بھی عدلیہ کواس کا نوٹس لینا چاہیے۔ 

کارکنوں کو پارلیمنٹ ہائوس میں لا کر مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں پر حملے کروانے یا گالیاں نکلوانے کی روش چل نکلی تو سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کا ہو گا۔ پتا نہیں کون بے وقوف عمران خان کو ایسی بیہودہ اور گھٹیا حرکتوں پر اکساتا ہے۔ کل اس روش کا نشانہ کوئی بھی بن سکتا ہے۔ خاکم بدہن قومی اسمبلی کے باہر کے واقع کا ایکشن ری پلے جلد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کے ڈنڈا بردار کارکنوں کو ریڈ زون میں داخلے اور اپوزیشن راہنماؤں کے ساتھ بد سلوکی کی اجازت کس نے دی؟ اسلام آباد پولیس بھی برابر کی مجرم ہے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے ٹویٹ کیا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ بغیر کسی کال کے پی ٹی آئی کے ٹائیگرز اپنے تئیں اپنے لیڈر عمران خان سے اظہار یکجہتی کرنے اظہار محبت کرنے پہنچ رہے ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکن کیسے اسمبلی کے باہر پہنچے۔ 

صدر ٹرمپ کی شکست پر ایک مبصر نے تبصرہ کیا کہ ٹرمپ جا رہا ہے مگر جھوٹ اور نفرت کی جو مشین اس نے کھڑی کر دی ہے اس کا امریکی معاشرے کو کئی برسوں تک سامنا رہے گا۔ آج PTI کے غنڈوں کو دیکھ کر یہی پاکستان کے لئے سچ نظر آیا۔ عمران جا رہا ہے مگر اس کی جھوٹ اور نفرت کی مشین ہم برسوں بھگتیں گے۔

عمران خان جیت کر بھی اپنا مستقبل محفوظ نہیں بنا سکے وہ اعتماد کا ووٹ لے کر آج بھی اتنے ہی غیر محفوظ ہیں جتنا کہ حفیظ شیخ کی شکست نے انھیں غیر محفوظ بنا دیا تھا سیاست وہ عمل ہے جس میں ایک بار پاؤں اکھڑ جائیں تو پھر سنبھلا نہیں کرتے۔

محترمہ فہمیدہ مرزا قومی اسمبلی میں کہتی ہیں کہ پارلیمنٹ کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے سپیکر کی کرسی کو عزت دلوائی۔ عہدوں کی عزت کریں۔ لیکن شایدوہ بھول گئیں کہ اسی سپیکر کرسی پر بیٹھ کر محترمہ 84 کروڑ روپے کے بنک قرضے پہلے معاف کراچکی ہیں۔ لیکن غالباً خان صاحب کی ادھر والی آنکھ اور کان شاید بند ہیں۔ 

اپوزیشن کے ان مہاتمائوں کو بھی سو سو فرشی سلام ک جو کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہو گئی۔ آج مریم نواز صاحبہ نے بھی اعتماد کے ووٹ کو کامیاب کروانے میں ایجنسیوں کے کردار کا ذکر کیا۔ کم از کم اپنے بیانیہ تو ایک رکھا کریں وہ اسٹیبلشمنٹ ہی کیا جو نیوٹرل ہو جائے۔

قارئین سے التماس ہے کہ اپنی رائے کے اظہار کے لیے (03004741474) کے واٹس ایپ، سگنل اور ٹیلیگرام پر دے سکتے ہیں


ای پیپر