Amira Ahsan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 مارچ 2021 (12:48) 2021-03-07

پاکستان کا عصری تعلیمی نظام بہت سے المیوں کا شکار ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں نصابی تبدیلیاں مسلسل نوجوان نسل کو نظریاتی اعتبار سے کھوکھلا اور بے جہت کرنے کے درپے رہیں۔ جو کسر باقی تھی شناخت تباہ کرنے کی وہ مخلوط تعلیم کے ذریعے پوری کردی گئی۔ ہر سطح پر مخلوط تعلیم نے فکر ونظر میں انتشار بونے اور مغرب کی اندھی تقلید میں نسلوں اور خاندانی نظام کو تباہ کرنے کی شاہراہ پر تعلیمی نظام رواں دواں کردیا ہے۔ برطانیہ سے منسلک او، اے لیول کے نصاب، بھاری بھرکم تعلیمی اخراجات نے والدین پر کمرتوڑ معاشی بوجھ ڈالا۔ دو نتائج نکلے۔ بچوں کی تعلیمی ضروریات یا ماں کی (گھر چھوڑکر) ملازمت سے پوری ہوں۔ یا باپ جیسے تیسے رشوت نوعیت کی حرام کمائی سے بچے پڑھائے۔ ایک تنخواہ تو گھر بچے چلانے اور دوسری کمائی ٹیوشن فیس کے لیے ضروری ہوگئی۔ جہاں سے بھی لائی جاسکے! گھر کی لڑکیاں بھی نوکریوں کی تلاش میں سپر اسٹوروں کی سیلز گرل نوعیت کی طرف چل دیں۔ (اس دوران بیوٹی پارلرز اور افزائش حسن کے رنگ برنگے اہتماموں کا خرچ مزید لاحق ہوچکا تھا۔) مذکورہ بالا ضروریات نے خاندانی منصوبہ بندی اور بچے کم کی ترغیب وتحریصی مہمات کی ضرورت ختم کردی۔ لوگ اخراجات دیکھ کر از خود ڈیڑھ دو بچوں پر اکتفا کرنے لگے۔ اس پوری کہانی میں ’تعلیم‘ مرکزی نکتہ ہے!

پریشانی یہ ہے کہ لڑکیوں کو مردانہ وار تعلیم دلانے کا شوق دیندار گھرانوں میں دنیادار گھرانوں سے کچھ کم نہیں۔ تسلسل سے یہ مسائل سامنے آ رہے ہیں کہ دینی مزاج رکھنے والی بچیاں والد صاحبان کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے لیے شدید دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔ ہر باپ گویا اپنی بیٹی کو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل بنانا، سی ایس ایس کروانا چاہتا ہے۔ نہایت مردانہ ڈگریاں، اکاؤنٹنگ، فنانس، بزنس ایڈمنسٹریشن نوعیت کی دلوانا چاہتا ہے۔ مخلوط جامعات کی دلدل میں بیٹیاں دھکیل دیں۔ اب وہ جس کشمکش، جذباتی آزمائشوں کا سامنا کریں، ہراسانی ہی کا شکار ہوں (جو اب معمولات کا حصہ بن چکی!) مگر اف تک نہ کریں۔ بس ایک ڈگری ہاتھ آجائے جسے بیک وقت رشتہ مارکیٹ اور جاب مارکیٹ سے کیش کروایا جاسکے۔ یہ ایک بنیادی اینٹ جب ٹیڑھی رکھ دی جاتی ہے تو زندگی کی پوری عمارت ہی پیساٹاور (اٹلی کا ٹیڑھا مینار جو عجائبات عالم میں شمار ہوتا ہے) نما بن جاتی ہے۔ پیش نظر اس وقت دین دار والدین کو متوجہ کرنا ہے بالخصوص والد کو جنہیں اصلاً اللہ نے قوام بنایا ہے۔ بچوں کی زندگی کے بڑے فیصلے شریعت کی بنیاد پر کرنا، نسلوں کو گمراہی سے بچانا، دوراندیشی سے کام لینا انہی کی ذمہ داری ہے۔ مسئول بھی عنداللہ بدرجۂ اولیٰ وہی ہیں۔ چہار جانب ڈگریوں کے ساتھ نتھی شوشا اور گلیمر شیطان کے وعدوں ہی کی ایک صورت ہے۔ 

اس نے غیرفطری زندگی کو مزین کر رکھا ہے۔ نظام تعلیم ڈگریوں کے حصول میں صرف بے پناہ پیسے کا اتلاف ہی نہیں، عمر کے قیمتی سال بھی ایک کاغذ (ڈگری) کے حصول میں گنوانے کا سامان کر رکھا ہے۔ پہلے جو دو سال میں بی اے، بی ایس سی کرکے بچی فارغ ہوجاتی تھی اب چار سال لگائے گی تو یہ کاغذ ہاتھ آئے گا۔ پہلے سادہ ڈاکٹری ایم بی بی ایس چل جاتی تھی۔ اب چار سال (ایف سی پی ایس) دل دماغ ہوش حواس گم کرنے کا سارا سامان ہسپتالوں کی گھن چکر روٹین میں ہوگیا ہے۔ ہر کس وناکس اسپیشلائز کرنے کی دیوانگی میں فیسیں بھربھر کر عمر عزیز کے قیمتی ترین 4,5 سال اس کی نذر کرے تو ڈاکٹری مانی جائے گی۔ اس پورے منظر نامے میں شادی، گھر آباد کرنا، صاحب اولاد ہونا اور اپنے ہاتھوں اس کی پرورش وپرداخت دیوانے کا خواب بن گیا۔ نہ اگلے بن پڑے نہ نگلے۔ والدین اور لیڈی ڈاکٹر طلب سسرال ابتداء میں تو جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بہت جلد حقیقت حال انہیں دن میں تارے دکھاتی ہے۔ جان ناتواں لیڈی ڈاکٹر جب شوہر، سسرال، میکہ اور بچہ، (اگر اس دوران وارد ہوجائے تو مامتا اور دودھ سے محروم رہے گا) ہسپتال کی دیوانی ڈیوٹیوں کے ساتھ نبھانے میں چڑچڑی، صحت خراب، ٹینشن کا گولا بنی پھرتی ہے۔ خواب چکناچور اور محبت ساتھ چھوڑنے لگتی ہے۔ یہ ٹریننگ خود ڈاکٹرز کی زبان میں غیرانسانی شب وروز کے گھن چکر کا نام ہے۔ 36 گھنٹے کی لگاتار ڈیوٹیاں (خصوصاً گائنی، سرجری جیسی فیلڈ میں) اس دوران سونے کو چند گھنٹے میسر آجائیں تو بڑی نعمت ہے۔ چکراتے دماغ اور پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ گھر آنے والی ڈاکٹر گھر والوں کو کیا سکھ دے سکتی ہے سمجھنا مشکل نہیں۔ دجالی فتنوں میں سے ایک یہ نظام کمرتوڑ گھر توڑ ایمان شکن ہے۔ ہسپتالوں کے ماحول میں شرعی حدود کی پامالی ایک بھاری المیہ اور علیحدہ موضوع ہے! سی ایس ایس کرواکر مردانہ وار دفاتر میں کام کرنے والی لڑکی کے شب وروز اس دیوانگی سے کچھ بہتر بھی ہوں تو یہ ضرور سوچیے کہ شریعت کے نکتہ نظر سے یہ بی بی کہاں کھڑی ہیں؟ ایک مرتبہ ایسی ہی ایک تازہ وارد کمشنری پر مامور لڑکی کو بھرے مظاہرین کے مجمع میں گھری کمزور نسوانی آواز میں مطالبات پر بھاشن دینے کا منظر ایک چوراہے پر دیکھا تھا جو قابل رحم بھی تھا اور شرمساری کا سامان بھی۔

یہ نظامہائے تعلیم، تربیت، ملازمت سب مغرب سے مستعار ہیں (لنڈے کی جینز اور ٹی شرٹ کی طرح جو لڑکیاں پہنے پھر رہی ہیں اب) جہاں عورت، مردانہ عورت ہے، نسوانیت سے عاری۔ مرد کی برابری میں اسے سبھی کچھ کرکے دکھانا ہے۔ شادی، گھر، خاندان، بچے اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ اسی لیے بہ سہولت پارٹنر شپ کا نظام آ چکا ہے جس میں نہ نکاح ہے نہ طلاق نہ اولاد نہ میکہ نہ سسرال، صرف ملازمت ہے۔ اور لے آئیںگے بازار سے گر ٹوٹ گیا۔ کے اصول پر یہ جام سفال ہے۔ صرف کچا نہیں سفلی بھی ہے۔ ہم اسپیشلسٹ بھی لائیں اور پراٹھے بھی پکوائیں، بچے بھی پلوائیں، برتن کپڑے بھی دھلوائیں یہ ممکن نہیں۔ ایک ایسی ہی ڈاکٹر صاحبہ کے شوہر کا آپریشن تھا تو ڈاکٹر کی باس (افسرانی) نے کہا۔ تمہارے شوہر کو پتا ہونا چاہیے کہ اس کی بیوی گھریلو خاتون نہیں جو اس کے سرہانے ڈیوٹی دے، یخنیاں پلائے نازبرداری کرے۔ یاد رہے کہ یہ افسرانی طلاق یافتہ تھی اور زیر تربیت خواتین کے لیے بھی یہی راہ ہموار کرنے پر کمربستہ رہتی تھی! سو عورت کی تعلیم کے حوالے سے غیرفطری، غیرشرعی میدانوں کا انتخاب کم ازکم باشعور دیندار گھرانوں کو زیبا نہیں۔ علامہ اقبالؒ نے ایک صدی پہلے جو کچھ بھانپ لیا تھا، نثر ونظم دونوں میں تنبیہات کردی تھیں انہیں عام بھی نہ کیا گیا اور ان پر کان بھی نہ دھرا گیا۔ آج کم وبیش دو نسلوں سے اس کے نتیجے میں (معاشرے سے ’فل ٹائم ماں‘ عنقا ہوجانے پر) ہم نتائج بھگت رہے ہیں۔ ’انسانم آرزوست‘ انسان کی تلاش میں چراغ لے کر نکل جائیے۔ خالی ہاتھ ہی لوٹیںگے۔ حکمرانی، سیاست، بیورو کریسی، ہر شعبۂ زندگی میں سیرت وکردار کا بحران ہے۔

اقبال کے چند فرمودات ملاحظہ فرمائیے جو براہ مغرب کے مشاہدے کے نتیجے میں رقم فرمائے گئے۔ ’میں اس خیال سے لرزہ براندام ہو جاتا ہوں کہ عورتیں قوت لایموت کا خود بندوبست کریں۔ اس طرز عمل سے نسائیت کا جوہر تباہ وبرباد ہوجائے گا۔‘ (تجلیات اقبال) 

اللہ نے عورت کو تخلیقی صفات دے کر ربوبیت پر مامور کیا ہے۔ عظیم ترین منصب! دنیا کی پوری آبادی عورت کی مرہون منت ہے اور یہی نسائیت کا جوہر ہے۔ مغربی نظام اسے مامتا سے محروم کرکے انسانیت کو موت کے گھاٹ اتار رہا ہے۔

’اقبال مرد وزن کی ترقی نشوونما اور تعلیم وتربیت کے لیے جداگانہ میدان عمل کے قائل تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جسمانی طور پر ایک دوسرے سے مختلف بنایا ہے اور فرائض کے اعتبار سے بھی۔ چنانچہ وہ عورتوں کے لیے ان کی طبعی وفطری ضروریات کے مطابق الگ نصاب تعلیم اور الگ نصاب چاہتے ہیں۔‘ (فقیر سید وحیدالدین، روزگارِ فقیر۔ جلد اول)

 مسلمانوںنے دنیا کودکھانے کے لیے دنیوی تعلیم حاصل کرناچاہی، لیکن نہ تودنیا حاصل کر سکے  اور نہ دین سنبھال سکے۔ یہی حال آج مسلم خواتین کا ہے جو دنیوی تعلیم حاصل کرنے کے شوق میں دین بھی کھو رہی ہیں۔‘ (اقبال اور بھوپال)

اقبال اسے کلیتاً مرد کی ذمہ داری قرار دیتے ہیں (قرآنی تعلیمات کے مطابق) کہ وہ تمام تر اخراجات مہیا کرے (اسی پر اسے قوام کا رتبہ دیا گیا ہے)۔ وہ عورتوں کی آزادی/ بے راہ روی کا ذمہ دار مردوں کو قرار دیتے ہیں۔ 

نے پردہ نہ تعلیم نئی ہو کہ پرانی

نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد

اس پر ان کے ہاں کوئی ابہام نہ تھا کہ عورت کی بے محابا آزادی قوموں کی موت کا سامان لاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’عورت پر قدرت نے اتنی اہم ذمہ داریاں (انسان سازی) عائد کر رکھی ہیں کہ اگر وہ ان سے پوری طرح عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے تو اسے کسی دوسرے کام کی فرصت ہی نہیں مل سکتی۔ اگر اسے اس کے اصلی فرائض سے ہٹاکر ایسے کاموں پر لگایا جائے جنہیں مرد انجام دے سکتا ہے تو یہ طریق کار یقینا غلط ہوگا۔ مثلاً عورت کا اصل کام آیندہ نسل کی تربیت ہے۔ اسے ٹائپسٹ یا کلرک بنا دینا نہ صرف قانون فطرت کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی معاشرے کو درہم برہم کرنے کی افسوس ناک کوشش ہے۔‘ (روزگارِ فقیر)

اقبال بروقت یہ سب کچھ کہہ لکھ کر رخصت ہو گیٔ۔آجہوتے تو عورت کی ہمہ نوع سرگرمیاں دیکھ کردل کا دور ہ پڑنے سے سدھارتے۔

یہ چند سطور باشعور خاندانوں سے مخاطب ہیں۔ شریعت سے انحراف صرف آخرت تباہ نہیں کرتا، دنیا میں بھی دربدر کر دیتا ہے۔ خسر الدنیا و الاخرۃ۔ اللہ ہماری رہنمائی فرمائے۔(آمین)


ای پیپر