Raza Zahid Iqbal, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 مارچ 2021 (12:45) 2021-03-07

دنیا کے تمام ممالک میں میڈیکل سہولتوں کی فراہمی ایک بنیادی حق کے طور پر کی جاتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم اور علاج کو نا صرف ہر شہری کا لازمی حق سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ حق ہر شہری کو بلا امتیاز فراہم کیا جاتا ہے۔ مغربی ملکوں میں بھی عام علاج معالجے کے ہسپتالوں کے خصوصی فائیو سٹارہسپتال ہوتے ہیں لیکن عام شہری ان ہسپتالوں سے اس لئے رجوع نہیں کرتا کہ عام سرکاری ہسپتالوں میں بھی بہترین سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ پسماندہ ملکوں کی بدقسمتی ہے کہ یہاں علاج معالجے کا ایسا بدترین دہرا نظام قائم ہے ، جس میں عام آدمی علاج کے لئے سسکتا رہتا ہے اور اہلِ ثروت بڑی بے فکری سے شاندار مہنگے فائیو سٹار سہولتوں سے مزین ہسپتالوں میںعلاج معالجہ کراتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ مغربی ملکوں کے بڑے ہسپتالوں سے بھی جب دل چاہتا استفادہ کرتے ہیں۔

ہمارے نظامِ صحت میں ایک بد ترین خرابی یہ بھی ہے کہ یہاں مرض کی تشخیص کو سرے سے اہمیت ہی نہیں دی جاتی ہے، جب کہ ترقی یافتہ ملکوں میں علاج اس وقت تک شروع نہیں کیا جاتا جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو جائے۔ اس طریقۂ کار کی وجہ سے مریض جلد شفا حاصل کر لیتا ہے بلکہ غیر ضروری اخراجات اور غیر ضروری پریشانیوں سے بچ جاتا ہے۔ ان حالات میں شوکت خانم ہسپتال کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کیلئے غریبوں کو جدید اور مفت طبی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ جہاں بیماری کی تشخیص جدید مشینوں پر کی جاتی ہے اور اس میں نہ تو امیر کو کوئی فوقیت حاصل ہے اور نہ ہی غریب کو دھکے کھانا پڑتے ہیں یعنی یہ فائیو سٹار سہولتوں والا ہسپتال تمام طبقات کو یکساں نوعیت کی علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ شوکت خانم ہسپتال اپنی بساط کے مطابق قابلِ علاج مرض کو ناقابلِ علاج بننے سے روکنے میں مددگار ہو رہا ہے۔ بلا شبہ ایسے ادارے قابلِ تحسین کہلانے کے مستحق ہوتے ہیں۔

کینسر ایک ایسی بیماری ہے جو لاحق ہو جائے تو اس سے ایک تو انسان دہشت کا شکار ہو جاتا ہے دوسرا اس کا علاج بہت مہنگا ہے جس کے اخراجات برداشت کرنا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں ہے۔ پاکستان میں کچھ عرصہ قبل تک اگر کسی کو کینسر لاحق ہو جاتا تھا تو وہ زندگی سے مایوس ہو جاتا تھا لیکن شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال جس میں کینسر کے مریضوں کا علاج ترقی یافتہ ممالک کے ہسپتالوں میں مروجہ اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق ہی کیا جاتا ہے۔ اس کے قیام کے بعد لوگوں میں یقین پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے کہ کینسر کا علاج ممکن ہے۔ مزید بہتر علاج کے لئے ریسرچ کی اشد ضرورت ہے لیکن اس کام کے لئے کثیر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال اپنے وسائل کے مطابق کینسر پر تحقیق کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور اسے خاطر خواہ کامیابی بھی ہوئی ہے۔

شوکت خانم ہسپتال میں تشخیص اور علاج کے لئے بالغ مریضوں میں سب سے زیادہ تعداد بریسٹ کینسر کے مریضوں کی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کی کچھ غلط روایات کی وجہ سے بریسٹ کینسر کی مریضہ اپنے مرض کو چھپاتی ہے اور کچھ تو علاج نہیں کراتیں یا ان کو علاج کے لئے اس وقت لایا جاتا ہے جب مرض کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔ کینسر لا علاج نہیں اگر اس کی تشخیص اور علاج بروقت ہو جائے۔ عالمی سطح پر کی گئیں نئی تحقیقات کے سبب کچھ نئی ادویات اور تھراپی متعارف ہوئی ہیں جو کہ بریسٹ کینسر کی ابتدائی سٹیج کے ساتھ ساتھ تیسری اور چوتھی سٹیج میں مبتلا مریضوں کے لئے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں اور ان کی متوقع زندگی میں کافی بہتری نظر آئی ہے، اگر چہ یہ ادویات کافی مہنگی ہیں۔ ہسپتال نے علاج کے ساتھ ساتھ کینسر کے حوالے سے آ گہی مہم بھی بڑے زور و شور سے شروع کر رکھی ہے جس سے عوام میں کینسر اور خصوصاً بریسٹ کینسر کے بارے میں آ گاہی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے۔ بریسٹ کینسر پوری دنیا میں خواتین کی صحت کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ پاکستان میں اکٹھی کی گئی محدود معلومات کے مطابق پاکستانی خواتین ایشیا بھر میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر کے خطرے سے دو چار ہیں۔ بریسٹ کینسر مختلف ماحولیاتی اور موروثی عناصر کا مرکب ہے۔ نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہونیوالی ترقی سے کینسر کے سیل کا بہت قریب سے مشاہدہ ممکن ہوا ہے۔کینسر سیل کے ڈی این اے کی بناوٹ اور بریسٹ کینسر کی بیالوجی اور جینیٹکس کے تجزئیے سے اس بیماری کو سمجھنے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ ان جدید سائنسی معلومات کے سبب بریسٹ کینسر کے علاج کیلئے مختلف طریقۂ کار متعارف ہوئے ہیں جن سے اس بیماری کے علاج میں کافی بہتری آئی ہے اور مریضوں کی زندگیاں بہتر ہوئی ہیں۔ صرف امریکہ اور یورپ میں 1990ء کے بعد سے اب تک بریسٹ کینسر سے مرنے والی خواتین کی تعداد میں 25 فیصد کمی ہو چکی ہے اور سب کچھ بروقت میمو گرافی،  سکریننگ اور جدید طریقہ علاج کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ نئے طریقہ علاج میں کیمو تھراپی اور جدید ٹارگٹ تھراپی شامل ہیں۔ بریسٹ کینسر کے علاج میں متعارف ہونے والے نئے طریقوں سے اس بیماری سے ہونیوالی اموات میں قابلِ ذکر کمی تو آئی ہے لیکن اس بیماری کے لاحق ہونے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لئے مسلسل تحقیق جاری ہے۔ پھر بھی کچھ خطرات ایسے ہیں جن کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ جیسے جیسے عورت کی عمر بڑھتی ہے اس کو بریسٹ کینسر ہونے کا خطرہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح مخصوص ایام کا بہت جلد شروع ہونا یا مینو پاز دیر سے آنے ہونے سے بھی بریسٹ کینسر کا خطرہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ بے اولاد خواتین اور 30 سال کی عمر کے بعد پہلی زچگی ہونا بھی اس بیماری کے ہونے کا خطرہ ہو سکتی ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق موٹاپا بریسٹ کینسر کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے اور خاص طور پر وہ خواتین جو مینو پاز سے کچھ عرصہ قبل موٹی ہو جاتی ہیں۔ زیادہ چکنائی والی غذائیں بھی بریسٹ کینسر کا موجب ہوتی ہیں اس لئے بہتر ہے کہ غذا میں سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں۔ موروثی طور پر بریسٹ کینسر کی شکایت کا تناسب تمام بریسٹ کینسرز کا 25 فیصد ہے۔ ایسی خواتین جن کے خاندان میں خصوصاً ماں، بہن، خالہ وغیرہ کو یہ بیماری لاحق ہو چکی ہو کو بہت محتاط رہنا چاہئے کیونکہ ان کو بریسٹ کینسر ہونے کا شدید خطرہ رہتا ہے۔

سب سے پہلے شوکت خانم ہسپتال اور ریسرچ سینٹر لاہور میں قائم کیا گیا جو پورے ملک کے کینسر کے مریضوں کی تعداد مقابلے میں ناکافی تھا اسی بنا پر دوسرے شہروں میں ہسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پشاور میں دوسرا شوکت خانم ہسپتال قائم ہو چکا ہے اور اب کراچی میں پاکستان کے تیسرے اور سب سے بڑے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے ۔ یہ منصوبہ 13ارب روپے کی لاگت سے تین سال سے بھی کم عرصے میں مکمل ہونے کی توقع ہے ۔ اس حوالے سے گزشتہ دنوں ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے ایک ملک گیر فنڈ ریزنگ مہم شروع کی گئی ہے تا کہ پاکستانی عوام اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد عاصم یوسف نے گزشتہ دنوں ایک میڈیا بریفنگ میں اس منصوبے کی تفصیلات اور ضرورت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ''پاکستان میں ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد نئے کینسر کے مریض سامنے آتے ہیں جبکہ مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کے مقابلے میں علاج کی سہولیات انتہائی نا کافی ہیں۔ کینسر کا علاج اکثر ایک طویل اور صبر آزما عمل ہوتا ہے اور دوران ِ علاج بہت سارے مریضوں کو دور دراز کے علاقوں سے جسمانی ، جذباتی اور معاشی طور پر مشکلات برداشت کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً ہسپتال تک کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ مریضوں کی ان تکالیف کو کم کرنے کیلئے ہی پشاور میں دوسرا کینسر ہسپتال تعمیر کیا گیا تھا اور اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب ہم کراچی میں تیسرا شوکت خانم ہسپتال تعمیر کرنے جا رہے ہیں۔ کراچی میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اورریسرچ سنٹرکی تعمیر سے کینسر کے علاج کیلئے ملک کی مجموعی صلاحیت میںخاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ہر سال مریضوں کی اس مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے میں آسانی ہو گی ۔یہ پاکستان کا سب سے بڑا کینسر ہسپتال ہو گا جہاں کینسر کی تشخیص و علاج کی تمام جدید ترین سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی۔ یہ ہسپتا ل خاص طور پر تمام سندھ اور بلوچستان کے جنوبی حصے کی آبادی کو ان کے گھر کے قریب ہی کینسر کے علاج تک آسان رسائی فراہم کرے گا۔"


ای پیپر