ثمن رائے اور پنجاب کی ثقافت 
07 مارچ 2021 2021-03-07

 آنکھوں کو ابھی رنگ بھرے عرصہ نہیں گزرا کہ پچھلے نقوش پھر خود میں رنگ بھروانے کے لیے پلکوں کی چوکھٹ پر ڈیرے لگائے ہوئے ہیں ۔ یہ زندگی کا رنگ ہے یا پھر ہماری جستجو جوہمیں پھر ان دریچوں کو واہ کرنے پر اکساتی ہے۔ نجانے کاغذ کے ٹکڑوں سے ہم کیا لذت کشید کرتے ہیں کہ زندگی بھر اسی کے خمار میں رہتے ہیں۔ آج بھی ورق گردانی ہماری آنکھ میں کاجل لگاتی ہے۔ ہماری دھرتی میں بھی اپنے وجود کے یقین کے لیے شاید ایسا ہی کوئی کاجل آنکھ میں لگاتی ہو۔ یہ ساری باتیں میں نہ جانے کیوں کسی سحر میں مبتلا ہوکر اس ثقافت میں رچی بسی دھرتی کی بیٹی سے کررہا تھا کہ جس کے چہرے کا تبسم قدیم تہذیبوں پر حملہ آورہونے والے کسی پھنے خاں سے چرایا جانا ممکن نہ تھا۔ رنگ، خوشبو صداقت اور اپنے ہونے کا جو بھرپور یقین اس جہاں دیدہ خاتون کی آنکھوں میں مجھے دکھائی دے رہا تھا کہ جس کی پلکوں کی چوکھٹ سے کوئی بھی سوال خالی ہاتھ نہیں گیا۔ میںمبہوت سا تھا کہ ہاتھوں کی پوریں میری آنکھوں کی بے بسی پر مجھے بلا رہی تھیں۔ Are you OK Mr. Jaral?جرال صاحب کدھر گم اوں؟ اپنی پشیمانی کو چھپانے میں مجھے کوئی دوسے تین سیکنڈ کا وقت لگا ہو گا مگر میں کئی ثقافتی نوری سالوں کا رنگ اپنی آنکھوں میں بھرچکا تھا۔ جی!جی! میڈم ثمن ! بس ٹھیک ہی ہوں۔ چھوڑیں آپ کی ثقافتی ذمہ داریاں جو بطور دھرتی کی بیٹی کے آپ نے گودلے رکھی ہیں، جرال صاحب چھوڑیں۔ ثقافت نے مجھے گودلیا ہوا ہے۔ یقینا میں پنجاب کی اسی ہونہار بیٹی کا ذکر کررہا ہوں کہ جس نے مقابلے کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کرنے کے باوجود بھی اپنی زمین سے وابستگی کو اونچی پگڑیوں سے مقدم جانا۔ عجیب، فطین، جنونی اور ذہین خاتون ثمن رائے سے جو بھی ملے، میرا نہیں خیال کہ وہ ان کی ثقافت پر دسترس سے متاثر ہوئے بغیر رہ سکے۔ بانٹنے پر آئے تو بلاتخصیص خوشبو ہر سمت پھیل جائے۔ 2018ءکے کسی پہر کی بات ہے جب ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب آرٹس کونسل کے کمرے میں ان سے ملاقات ہوئی۔ تب تک وہ کئی دریا عبور کرچکی تھیں اور ان کے حاسدین تھے کہ وہ اسے کسی جادوسے تشبیہ دیتے رہے۔ 1975ءمیں قائم ہونے والا اس وقت کا سب سے بڑا بانجھ ثقافتی ادارہ ایک کھنڈر کے سواکچھ بھی نہ تھا۔ جہاں ثقافت کے افق پر کسی بھی معجزاتی قوس قزح کو وہاں کے باسی اپنی کرامت سے تشبیہ دیتے تھے مگر جب ثقافت کو ہماری بیٹی اپنی گود میں لوری دیتی ہے تو اس کے خواب بھی پورے ہوجاتے ہیں۔ ادارہ پنجاب آرٹس کونسل نے کچھ ہی عرصے میں ملازمین کی فلاح کے ساتھ ثقافت کے وہ باب رقم کیے کہ جس کی حسرت ہردوسرے ثقافتی ادارے اور ثقافتی اکائیوں میں شدت اختیار کرگئیں ۔ پنجاب کے طول وعرض کے رنگوں کو اپنی آنکھ کی پتلیوں سے سمیٹ کر پنجاب کے سب سے بڑے ثقافتی پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔ ابھی بہت کچھ کرنے کو باقی تھا کہ ادارہ پنجاب آرٹس کونسل کو پھر کسی کی نظر لگ گئی۔ اس بار اگلاپڑاﺅ ماں بولی کے تحفظ کی قسم کھانے والے ادارے میں تھا۔ پلاک کی ڈی جی اور ماں بولی کی یہ مٹیار ایک دوسرے کا حصہ معلوم ہوتے تھے۔ مجال ہے کسی ملازم کے ساتھ درشتی سے پیش آنا کبھی ان کا وطیرہ رہا ہو۔ کام کرنے والے لوگ ہمیشہ ہی نمایاں نظرآتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کی ثقافتی حدود کو وسیع کرتے ہوئے پھر اس ثقافت میں گندھی روح کو لاہور آرٹس کونسل کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر لگادیا گیا۔ جہاں کبھی کبھار اپنی آنکھوں میں رنگوں کے اندھے پن سے نجات کے لیے میں بھی چلا جاتا تھا۔ گفتگوایسی کہ جیسے بہتا ہواپانی۔ انگریزی ادب کے کردار اپنی انگلیوں کی پوروں پر سوار کرکے انہیں اس دھرتی کے ادب کی سامنے سربسجود کرنے پر مجبور کردیتیں۔ کلچرل ڈپلومیسی کے وہ وہ درکھولتیں کہ جس کی سمجھ بوجھ شاید ہی اس بیوروکریسی میں کسی افسر کو نصیب آئی ہو۔ کبھی نوجوانوں کی ثقافتی تربیت کے محاذ پر ، کبھی پرفارمنگ آرٹ اکیڈمی اور نئی فنون لطیفہ کی کلاسوں کے اجرا پر، وہ ہمیشہ ہی پرانی روایات کو جدید دور سے جوڑتی نظرآئیں گی۔ اس کا ایک واضح ثبوت فنون لطیفہ کے بارہ شعبوں میں جدید دور کے مطابق آرٹ کی تعلیم و تربیت میں ان کے کردار سے عیاں ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں ان کی تعیناتی ڈی جی ڈی جی پی آر ہوئی ہے مگر وہی ہوا جس کا ڈر پہلے سے ہرثقافت مخالف کردار کو تھا۔ گونا گوں مصروفیت سے وقت نکال کر ہمیں ثم رائے اسی رنگوں میں ڈھلی اپنے عہدے سے بے نیاز اپنی ثقافت کو لوری دیتے بلوچ کلچرل ڈے پر نظرآئیں جہاں ان کی ثقافت سے وابستگی کا عالم ہمیشہ کی دیدنی رہا۔ شاید اس میں راجہ جہانگیر کا بھی ایک حدتک کردار ہے کہ اس نے ثقافت کے محاذ پر ان بیٹیوں کے ہاتھ ہمیشہ مضبوط کیے۔ دوسری طرف ہمیں معلوم نہیں اور معلوم بھی ہے کہ 7مارچ کو ہونے والی سرائیکی بولی کے دن اور 14مارچ کو پنجاب کے ثقافتی دن کے موقع پر محترمہ ثمن رائے ہمیں ان ثقافتی رنگوں کو اپنے ماتھے پر سجائے رنگ بانٹتی نظر آئے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب یقینی طورپر داد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے ایسی محنتی، ذہین اور ثقافت کے لیے جنونی آفیسر کو نہ صرف ثقافت کی آبیاری کے لیے چنا ہے بلکہ انہیں محکمہ اطلاعات کے ایک بڑے ادارے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ اس بت میں بھی وہ روح پھونکی جائے گی کہ جہاں اس چوکھٹ پر آئے ہوئے کسی بھی سوالی کو خالی ہاتھ لوٹنا نہیں پڑے گا ایسا لگتا ہے کہ نقوش اب بھی رنگ بھروانے اسی چوکھٹ پر ٹھہر چکے ہیں۔


ای پیپر