تیراجسم، میری نہیں مرضی!
07 مارچ 2020 2020-03-07

کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے ہم پاکستانی بہت فارغ بہت ہی ویلے ہیں فضول کاموں فضول باتوں میں اُلجھے رہتے ہیں، میں نے سوچا تھا” میرا جسم میری مرضی “ پر ہونے والی بحث میں نہیں اُلجھوں گا پر اس پر بڑے بڑے کالم نویسوں ، تجزیہ کاروں کی تحریریں پڑھ کر، اور ٹیلی وژن پر اِس موضوع پر اُن کی گفتگو اور تبصرے سُن کر یوں لگاجیسے میں اِس پر نہیں لکھوں گا اچھے کالم نویسوں کی فہرست سے فارغ ہو جاﺅں گا، میرے واٹس ایپ پر کئی دوستوں کے مجھے مسیجز آئے، بے شمار کے فون بھی آئے کہ مجھے اِس پر کچھ لکھنا چاہیے، سو مجبوراً مجھے لکھنا پڑ رہا ہے ورنہ ”اور بھی غم ہیں زمانے میں”میرا جسم میری مرضی “ کے سوا“ میرے نزدیک یہ ایک بیہودہ نعرہ ہے عورت کو گالی یقیناً نہیں دی جانی چاہیے، عورت کو کیا کسی کو بھی گالی نہیں دینی چاہیے۔ مہذب معاشروں میں تو جانوروں کی بھی عزت ہوتی ہے، میں نے شاید پہلے بھی لکھا تھا تین چار سال پہلے میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے چڑیا گھر گیا وہاں جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے بورڈ دیواروں پر لٹکے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا ”Please respect our animals“(ہمارے جانوروں کی عزت کریں )۔ ایک ہم ہیں انسانوں کی عزت نہیں کرتے، ہمارے ہاں تو ”خون کے رشتوں“ کی عزت بھی نہیں رہی۔ ایک زمانے میں کہا جاتا تھا ”مائیں بہنیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں“ ....میرے والد محترم کا تو یہ باقاعدہ ” تکیہ کلام“ ہوا کرتا تھا، وہ جب بھی ہم بھائیوں کو اکٹھا بیٹھے ہوئے دیکھتے، بہت زور دے کر کہتے ”بیٹا دوسروں کی بہنوں کو ہمیشہ اپنی بہن سمجھنا“ .... میں اپنی بارات پر اپنی دلہن کو لے کر گھر آیا، ڈرائنگ روم میں ابو جی ہمارے سامنے صوفے پر بیٹھے تھے، میں اُن کے پاس جاکر بیٹھ گیا، ازرہ مذاق اُن سے پوچھا ” ابو جان آپ نے ہمیشہ ہمیں یہ درس دیا ”دوسروں کی بہنوں کو ہمیشہ اپنی بہن سمجھنا ہے، آج میں نے کیا سمجھنا ہے ؟“....اُنہوں نے زبردست قہقہہ لگایا پھر مجھے گلے سے لگالیا۔....پتہ نہیں کیوں ہمارے ہاں کچھ لوگ خصوصاً کچھ خواتین خود کو گالی کا باقاعدہ مستحق سمجھتی ہیں، اُ نہیں گالی نہ دی جائے یا اُن کے ساتھ مہذب زبان میں بات کی جائے وہ سمجھتی ہیں اُن کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے ،....بازار حُسن کی ایک طوائف ہرلحاظ سے

فارغ ہوگئی، یعنی وہ جب بہت بوڑھی ہوگئی، وہ جان بوجھ کر ایسی حرکتیں کرتی تھی راہ چلتے لوگ اُسے گندی گندی گالیاں دینے پر مجبور ہوجاتے تھے، وہ اِن گندی گندی ننگی ننگی گالیوں کو باقاعدہ انجوائے کرتی تھی کیونکہ انجوائے کرنے کے لیے اُس بے چاری کے پاس اور کچھ بچا ہی نہیں تھا، .... کچھ لوگ ایسے ہی ہاتھ دھوکر خلیل الرحمن قمر کے پیچھے پڑ گئے ہیں کہ اُس نے ماروی سرمد کو گالیاں دیں، کوئی ماروی سرمد سے بھی پوچھ لے خلیل الرحمن قمر کا اُسے گالیاں دینا، خود اُسے بُرالگایا اچھا لگا؟ ۔ یہ اِن دونوں کی ”ملی بھگت“ بھی ہوسکتی ہے کہ ایسے لوگ شہرت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حدتک جاسکتے ہیںماروی سرمد اپنی طرف سے خواتین کے حقوق کی علم بردار بنی ہوئی ہے، بہرحال اُنہوں نے خواتین کے حقوق کے عَلم بیچنے کی جو دکان کھول لی ہے ، خلیل الرحمن قمر نے یہ دکان بند کرنے کی ناکام کوشش کی، اِس کوشش پر کچھ لوگ اگر اُس کے حق میں اُس کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں تو اِس پر اُسے شکر ادا کرنا چاہیے ورنہ عورت پسند اِس معاشرے کی حالت یہ ہے کسی سڑک پر کوئی عورت کسی مرد کو سرعام پیٹ رہی ہو، یا اُسے گالیاں دے رہی ہو، یہ جانے بغیر اصل قصور کس کا ہے وہاں موجود سارے لوگ عورت کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں، اِس کے باوجود ماروی سرمد اگریہ سمجھتی ہے معاشرے میں عورت کی عزت نہیں ہے تو یہ صرف اپنے بارے میں وہ ٹھیک سمجھتی ہے، .... جہاں تک (صفحہ 6 پر بقیہ نمبر 1)

اُس کے اس نعرے” میرا جسم میری مرضی “ کا تعلق ہے، کچھ عورتیں اپنے کچھ مخصوص اور مذموم مقاصد کے لیے اِس سلوگن کا پرچار اِس انداز میں کررہی ہیں جیسے اُن کا جسم اللہ نے نہیں اُنہوں نے خودبنایا ہے، .... ممکن ہے کل کلاں وہ یہ نعرہ بھی لگا دیں ” میری زندگی میری مرضی “ .... جس کا مطلب یہ ہو” مجھے اللہ نے پیدا نہیں کیا میں خود بخود پیدا ہوگئی تھی، لہٰذا جب تک میرے مرضی ہوگی میں زندہ رہوں گی، میری مرضی کے بغیر مجھے کوئی نہیں مارسکتا ،.... عورتوں کے اِس گروہ کو شاید معلوم نہیںمرضی صرف اللہ کی چلتی ہے“، انسان بے چارہ اتنا کمزور ہے وہ اِرادہ نہیں کرسکتا، فیصلہ کیسے کرسکتا ہے؟ مجھے یاد ہے ایک بار اپنے والد محترم سے کوئی بات کرتے ہوئے میں نے کہا ”ابوجی میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ “....اُنہوں نے بیچ میں مجھے ٹوک دیا، فرمایا ” بیٹاآپ کون ہوتے ہو فیصلہ کرنے والے؟ آپ تو اِرادہ نہیں کرسکتے کہ بقول حضرت علیؓ ”میں نے اپنے رب کو اپنے بنتے ٹوٹتے ارادوں سے پہچانا“ آپ فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں؟، یہ اختیار صرف اللہ کا ہے، آپ صرف سوچ سکتے ہیں، دعا کرسکتے ہیں .... ماروی سرمد اور اُس جیسی کچھ اور عورتیں اپنے حقوق کے لیے ، جو کم ازکم میرے خیال میں اِس معاشرے میں اُ نہیں پہلے ہی کچھ زیادہ ملے ہوئے ہیں، کوئی اور سلوگن بھی مارکیٹ میں لے کر آسکتی تھیں، جس سے عورت کی عزت میں اضافہ ہوتا، پر اپنا ”بوڑھا سودا“ بیچنے کے لیے وہ جان بوجھ کر ایسا سلوگن مارکیٹ میں لے کر آئیں جس سے کم ازکم میں یہی سمجھ رہا ہوں وہ عزت بنانے کے بجائے تھوڑی بہت عزت جو اُن کے پاس بچی ہے وہ بھی لُٹانا چاہتی ہیں، ویسے میں حیران ہوں اِس بیہودہ سلوگن کے ساتھ یا اِس کی حمایت میں اتنی عورتیں کھڑی نہیں ہوئیں جتنے مرد کھڑے ہوگئے ہیں، اِن میں ہمارے میڈیا کے کچھ ”مرد“ بھی شامل ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے اُ نہیں شاید اپنے مردہونے پر افسوس ہے، ممکن ہے وہ احتجاجاً ایسا کررہے ہوں، کیونکہ مرد کئی لحاظ سے کمزور ہوسکتا ہے، عورت کم ازکم ایک لحاظ سے نہیں ہوسکتی، عورت کا جاتا کیا ہے؟ .... عورتوں کے حقوق کی ٹھیکیدار ماروی سرمد کو چاہیے اپنے نام کے ساتھ جو ایک مردکانام اُس نے جوڑرکھا ہے اپنی مرضی سے وہ بھی اُسے ہٹادے، پتہ نہیں ”سرمد“ اُن کے والد محترم کانام ہے، خاوند محترم کا ہے یا کسی اور کا ہے؟۔ جس کسی کا بھی ہے دعا ہے اللہ ماروی سمیت اُس کے سب گناہ معاف فرمائے!

توفیق بٹ


ای پیپر