امریکہ طالبان مذاکرات ۔۔۔بھارت سبق سیکھ سکتا ہے
07 مارچ 2019 2019-03-07

جمہوریت، آزادی اور انسانی اقدار کے خلاف اکیسویں صدی کی پہلی عالمی جنگ شروع کرنے والے اور نیو ورلڈ آرڈر کے خالق امریکہ کو شائد ماضی کا یہ حوالہ اچھا نہ لگے لیکن دنیا اس حوالے کے آئینے میں ایک عظیم سپر پاور کا چہرہ ضرور دیکھ سکے گی۔ نائن الیون کے بعد صدر جارج بش نے افغانستان پر حملہ کرنے سے قبل کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ کا آغاز القاعدہ سے ہوتا ہے لیکن یہ وہاں پر ختم نہیں ہو جائے گی۔ یہ اس وقت ختم ہو گی جب تک دنیا کا ہر دہشت گرد گروپ تلاش نہیں کر لیا جاتااورا سے شکست سے دوچار نہیں کر دیا جاتا۔ دنیا کے ہر ملک کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ہمارا ساتھی ہے یا پھر دہشت گردوں کا۔ طالبان دہشت گردوں کو ہمارے حوالے کر دیں یا پھر انہی کے ساتھ موت کے تیار ہو جائیں۔ صدر بش کی اشتعال سے بھری تقریر اکیسویں صدی کی اس تاریخ کا دیباچہ تھی جو امریکہ اپنی اقتصادی و عسکری طاقت کے بل پر رقم کرنا چاہتا تھا۔ امریکہ دھونس، دھاندلی اور ترغیب کے ہتھیاروں کے ساتھ ساری دنیا کو ساتھ لئے ایک ایسی قوم پر چڑھ دوڑا جس نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے بارود کی مالک قوت دنیا کی سب سے غریب اور پسماندہ قوم کو کچلنے جا رہی تھی۔ اگر غور کیا جائے تو گزشتہ دو دہائیاں میں ساری دنیا نے دیکھا ہے کہ امریکہ اور مغرب نے مسلمان اور اسلام کو ہدف بنائے رکھا حتیٰ کہ اس عرصہ میں مغربی ذرائع ابلاغ جب بھی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کی تصویر کشی کرتے ہیں پس منظر میں قرآن کریم کی تلاوت چل رہی ہوتی اور سجدہ ریز مسلمان دکھائی دیتے۔ مسلم امہ نے امریکہ کو یہ بات سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ وہ اپنے جذبہ انتقام کو یہ رخ نہ دے۔ پاکستان نے گزشتہ سالوں میں ہر ممکن کوشش کی کہ طالبان اورا مریکہ کے درمیان مزاکرات کی کوئی صورت پیدا ہو جائے لیکن امریکہ اپنی رعونت میں کسی صورت آمادہ ہی نہیں تھا۔ اتنا خون بہانے اور افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کرنے کے باوجود طالبان کو جھکا نہیں سکا اور آج 19 سال کے بعد امریکہ طالبان سے جنگ بندی کے لئے قطر میں مزاکرات کر رہا ہے ۔ امریکہ کے مقاصد تو تھے کہ وہ وہاں ایک ایسا اڈہ تعمیر کرے جو فوجی اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہو گا۔ امریکہ حملہ کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ خلیج کے بعد اب وسطِ ایشیا کہ معدنی وسائل بھی اس کی مٹھی میں آ گئے ہیں۔ جب کہ طالبان کی جنگ لڑنے والے کسی طبقے یا گروہ کی کی جنگ نہیں لڑ رہے تھے بلکہ وہ ایک فلسفۂ حیات کی جنگ لڑ رہے تھے۔ وہ طاقتور اقوام کی منہ زور قوتوں کی نا انصافی کے مقابلے میں حق و صداقت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ آج انہی طالبان کے ساتھ ا مریکہ مزاکرات کر رہا ہے جو فاتحانہ اندازمیں امریکہ کے ساتھ مزاکرات کی میز پر براجمان ہیں اور اس خواب کی تعبیر ہیں کہ کوئی قوم مستقل مزاجی کے ساتھ ثابت قدم رہے تو بڑی سے بڑی کوئی طاقت انہیں زیر نہیں کر سکتی۔ طالبان نے ثابت کیا ہے کہ وہ کسی صورت شکست تسلیم نہیں کریں گے وہ خالی ہاتھ نہتے ایک بڑی سپر پاور کو جھکانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو پاکستان سے طالبان کے ساتھ مزاکرات کرنے کی درخواست کر رہی ہے ۔ آج سے 19 برس قبل مسئلہ اسامہ بن لادن کی تلاش نہیں تھی جس کو طالبان نے بغیر معقول ثبوت کی فراہمی کے امریکہ حوالے کرنے سے انکار کیا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ کمیونزم کی شکست کے بعد اسلام کو سب سے بڑا خطرہ قرار دینے اور تہذیبوں کے فیصلہ کن تصادم کی تھیوری پیش کرنے والوں نے کروسیڈ کا آغاز ایک ایسی قوم سے کیا تھا جو فاقہ کش ہونے کے باوجود موت سے نہیں ڈرتی۔ طالبان کے عزم کے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ کوئی قوم ہر اعتبار سے ترقی کر لینے کے بعد کوئی ایسا فولادی قلعہ تعمیر نہیں کر سکتی جو اسے ہر خطرے سے محفوظ کر سکے۔ امریکہ زبردست ٹیکنالوجی کے حصول کے باوجود اپنے دفاعی اور عسکری مراکز تین مسافر طیاروں سے کیوں نہیں بچا سکا؟ کیا یہ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ جذبے ٹیکنالوجی سے کہیں زیادہ قوی ہوتے ہیں اور ایسی قوتوں کو بھی جھکا دیتے ہیں جن کے گودام ایٹمی اسلحوں سے لبا لب بھرے ہوئے ہوں۔ علمی ترقی تو کوفہ و بغداد جیسے علمی مراکز کو بھی اجڈ تاتاریوں سے نہیں بچا سکی تھی۔ آج امریکہ طالبان مزاکرات کے بعد ثابت ہو گیا ہے کہ دہشت گردی کے نام سے منسوب کی جانے والی جنگ علم اور جہالت کی کشمکش نہیں بلکہ اپنی غیرت کے تحفظ کی جنگ ہے ۔ امریکہ اپنے آپ کو کتنا ہی معتبر کیوں نہ سمجھے لیکن دنیا بھر کے لوگوں سے پوچھا جائے تو سب سے زیادہ نفرتیں اسی کے حصہ میں آئیں گی۔ جس طرح دنیا کا بڑا حصہ امریکی پالیسیوں کا نقاد ہے اسی طرح طالبان کے فہمِ اسلام اور ان کی حکمتِ عملی سے اختلاف رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں لیکن اس کا کیا جواز ہے کہ ایک سامراجی قوت سات سمندر پار سے آ کر افغانستان کو راکھ کا ڈھیر بنا دے۔ یہ کسی بھی قوم کی غیرت کا سوال ہے ۔ جب ظلم اور جبر کی قوتوں کا ہاتھ گریبان تک آ پہنچے تو پھر صرف ایک ہی بات ذہن میں ہوتی ہے عزت کی موت۔ بھارت کو بھی اس بات سے سبق سیکھنا چاہئے کہ امریکہ کو دو دہائیوں کے بعد بھی ایک نہتی قوم کے ساتھ مزاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑ رہا ہے ۔ ہند و پاک جنگ بھی بعد میں مزاکرات کی میز پر ہی حل ہونی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے اتنا ناحق خون بہانے کی ابتداء مزاکرات سے کیوں نہ کر لی جائے۔ بھارت نے خود ہی اپنے بارے میں طاقتور ہونے کا فیصلہ کیا ہوا ہے ۔ اس ناطے وہ خطے میں اپنی بات منوانا چاہتا ہے لیکن وہ یہ بھول رہا ہے کہ پاکستان بھی ا یک ایٹمی طاقت ہے اور مسلمانوں کا تو یقینِ کامل ہے کہ ایسے مقتل سجتے رہنے چاہئیں کہ ان کے بغیر کائنات درندوں کی شکار گاہ بن جاتی ہے ۔


ای پیپر