Image Source : File Photo

وزیر اعظم عمران خان نے پہلی دفعہ نواز شریف سے متعلق زبردست اعلان کر دیا
07 مارچ 2019 (19:43) 2019-03-07

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کیہے کہ نوازشریف کوبہترین طبی سہولتیں دی جائیں، وہ جس ڈاکٹریااسپتال سے علاج چاہتے ہیں وہاں منتقل کیاجائے اور میڈیکل بورڈکی سفارشات پرمکمل عملدرآمد کیاجائے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراطلاعات فواد چوہدری نے گزشتہ روزسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے نواز شریف کو بہترین طبی سہولتیں دی جائیں، نواز شریف جس ڈاکٹر یا اسپتال سےعلاج چاہتے ہیں وہاں منتقل کیا جائے اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ نوازشریف کو علاج کی بہترین سہولتیں دی جائیں، وہ جس ڈاکٹر یا ہسپتال سے علاج چاہتے ہیں انھیں وہاں منتقل کیا جائے اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔

یاد رہے تین روز قبل سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے دعوی کیا تھاکہ نوازشریف کو گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 4 بار انجائنا کا درد اٹھا مگر حکومت انہیں کوئی طبی امداد فراہم نہیں کررہی۔بعد ازاں حکومت کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم نواز شریف نے جیل سے اسپتال منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔بدھ کو بھی نواز شریف نے جیل سے اسپتال جانے سے انکار کردیا تھا ، مریم نواز کا کہنا تھا کہ دل کی تکلیف اور طبیعت خرابی کے باوجود ابو نے دادی چچا میرے اصرار پر بھی انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال اسپتال گھمانے اور علاج کے نام پر کی جانے والی تضحیک کا نشانہ بننے کو تیار نہیں۔

خیال رہے 25 فروری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے طبی بنیادوں پرضمانت پررہائی سے متعلق فیصلہ سنایا تھا، فیصلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی درخواست ضمانت کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا نوازشریف کوایسی کوئی بیماری لاحق نہیں جس کاعلاج ملک میں نہ ہوسکے، عدالتی فیصلے کے بعد نوازشریف کو جناح اسپتال سے ایک بار پھر کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا تھا۔واضح رہے گزشتہ برس 24 دسمبر کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا گیا تھا، فیصلے میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں مجرم قرار دیتے ہوئے 7 سال قید کی جرمانے کا حکم سنایا تھا جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا گیا تھا۔


ای پیپر