پاک بھارت کشیدگی ,دونوں ملکوں کے عوام کیا چاہتے ہیں؟
07 مارچ 2019 (00:15) 2019-03-07

بھارتی الیکشن بھی سر پر ہیں،یوں لگا جیسے یا تو فالس فلیگ آپریشن کیا گیا یا پھراچانک رونما ہونے والے کسی واقعے کو برق رفتاری سے پاکستان پر منطبق کر کے ملک میں جنگی جنون بھڑکانے اور اس سے الیکشن جیتنے کا ماحول بنا رہے ہیں.... خصوصی رپورٹ

ہمایوں سلیم :

14فروری کو ایک حریت پسند کشمیری نے پلوامہ میں دھماکہ کیا، پورا ہندوستان پریشان ہو گیا، دھماکہ پری پلان تھا یا حقیقت میں یہ حریت پسند کشمیریوں کی زبردست کارروائی تھی جس نے پورے بھارت کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا۔اسی جواب میں بھارت کنٹرول لائن کے قریب پاکستانی حدود میں داخل ہوتا ہے اور 1منٹ کے اندر اندر ”کارروائی “ کر کے بھاگ جاتا ہے۔یہ بھونڈا دعویٰ بھی دنیا کی سمجھ سے باہر ہے۔ آج پوری بھارتی جمہوریت اپنے 44فوجیوں کو رو رہی ہے۔ مودی جی تو چلا رہے ہیں مگر ہمارا حوصلہ دیکھئے ہم نے دنیا کو امن دینے کیلئے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی، ہمارے ستر ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، اتنی بڑی شہادتوں کے باوجود ہمارے حوصلے نہ ٹوٹے، ہم پرعزم رہے، ہماری ہمت جوان رہی، دنیا ہماری قربانیوں کو سراہتی ہے، ہم آج بھی امن کیلئے کام کر رہے ہیں۔ہندوستان نے ایک دھماکے کا رخ اُس ملک کی طرف موڑنا چاہا جو خود دہشت گردی کے خلاف لڑ رہا ہے۔ بھارت کو پوری دنیا میں سفارتی محاذ پر ناکامی ہوئی۔ اس ناکامی کا اعتراف وہ لوگ بھی کر رہے ہیں جو ہمیشہ بھارت کے گیت گاتے تھے۔ شیخ عبداللہ کے خاندان کے دو افراد فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ بھی بھارتی ناکامیوں کا اعتراف کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے میڈیا کے روبرو ہندوستان کی سفارتی ناکامی کا اعتراف کیا ہے، محبوبہ مفتی اعتراف کرتی ہیں کہ ”آج چین، روس، امریکہ اور سعودی عرب سمیت دنیا کے اکثر ممالک پاکستان کے ساتھ ہیں“

آگے بڑھنے سے پہلے مظفر آباد کے مبینہ سرجیکل سٹرائک پر بھارتی دعوے کا پول کھولنے کے لیے انٹرنیشنل میڈیا کا ذکر کروں تو امریکی میڈیا کے مطابق مغربی سیکیورٹی حکام نے بھارتی دعوے پر شکوک وشبہات کا اظہار کیا ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ جو دعویٰ بھارت کر رہا ہے، ان ٹریننگ کیمپس کا پاکستان میں کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حملے میں کتنا نقصان ہوا؟ یہ وضاحت بھی بھارتی وزارت خارجہ نے نہیں کی۔ برطانی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ بھارتی دعویٰ افواہوں پر مبنی ہے لیکن پاکستان کی جانب سے جواب دینا بعد ازقیاس نہیں ہے۔ جواب کیسے اور کہاں دیا جائے گاَ یہ صرف پاکستان جانتا ہے۔ برطانوی دفاعی تجزیہ نگار کے مطابق صورتحال کافی خطرناک ہے، یہ معاملہ اس پر ختم نہیں ہوگا۔ پہلے امریکا ثالثی کرتا تھا، اب ثالثی کے لیے کوئی موجود نہیں ہے۔ نریندر مودی انتخابات سے پہلے پاکستان کے خلاف کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں۔ برطانوی اخبار دا گارجیئن نے بھی بھارتی دعوے کو افواہ اور بڑھک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مبالغہ آرائی پر مبنی دعوے پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔ سرجیکل سٹرائیک نہایت ٹیکنیکل معاملہ ہوتا ہے جس میں شواہد کو چھپانا ممکن نہیں، بھارت اپنے دعوے میں کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا ہے۔

بہرکیف یہ ایک آگ کے کھیل کے سوا کچھ نہیں جو اس خطے ، خاص طور پر پڑوسی ملک میں کھیلا جا رہا ہے۔اسے ہیجان ہی ہیجان۔ جنون اور فسطائیت کا نام دینا چاہیے۔ انڈین نیوز چینل تو ہماری کیبل پر آتے نہیں مگر چند منٹ کے لئے انٹر نیٹ پر بھارتی چینل دیکھیں، ویب سائٹس پڑھیں تو آدمی دنگ رہ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے منہ سے کف اڑاتے،غصہ سے پاگل ہوئے لوگوں کا ایک ہجوم ہے، ہر طرف وہی چھائے ہیں۔اور”بدلہ لو انڈیا“جیسے نعرے لگا رہے ہیںیہی وجہ ہے کہ گزشتہ روز مظفر آباد سیکٹر میں بھارتی طیارے 3،4میل تک پاکستانی حدود میں گھس آئے اور پھر واپس چلے گئے۔ بھارتی میڈیا نے شور مچاکر آسمان سر پر اُٹھالیا کہ بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیاہے۔انڈین نیوز چینلز پرانی ویڈیوز چلا کر عوام کا جوش بڑھاتے رہے ، جب کہ پاکستان کے سیاسی و عسکری قائدین تادم تحریر سر جوڑ کر بیٹھے تھے کہ بھارت کو اس ”کارروائی“ پر کس وقت، کس جگہ اور کس قسم کا جواب دیا جائے....! یقینا ایسے ماحول میں غیض وغضب کی انتہائی لہریں ہر طرف جھلکتی نظر آرہی ہیں۔ آخر نوبت اس انتہا تک کیوں پہنچائی گئی؟ واضح محسوس ہور ہا ہے کہ پلوامہ حملہ کو غیر معمولی عجلت سے پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ ایسی عجلت جس سے کسی سازش یا طے شدہ منصوبے کی بو آتی ہے۔اور پھر بھارتی الیکشن بھی سر پر ہیں،یوں لگا جیسے یا تو فالس فلیگ آپریشن کیا گیا یا پھراچانک رونما ہونے والے کسی واقعے کو برق رفتاری سے پاکستان پر منطبق کر کے ملک میں جنگی جنون بھڑکانے اور اس سے الیکشن جیتنے کا منصوبہ بنایا گیا۔( انٹیلی جنس اصطلاحات میں فالس فلیگ آپریشن سے مراد ایسا خفیہ آپریشن ہے، جس میں اپنے ہی لوگ کسی مخالف ملک کے جنگجو کا روپ دھار کر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔)اس صورتحال کو دنیا کی بڑی طاقتیں مانیٹر بھی کر رہی ہیں اور انتباہ بھی کر رہی ہیں کہ اگر اس جنگ نے بھیانک روپ دھار لیا تو پھر واپسی ممکن نہیں ہوگی۔امریکی ماہرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی صورت میں پوری دنیا دو ہفتوں میں جوہری دھو ئیں کی لپیٹ میں آ جائے گی اور 90فیصد آبادی ختم ہو جائے گی ،پاکستان اور بھارت دو پڑوسی ملک اور نیوکلیئر طاقتیں ہیں لیکن دونوں ممالک کے آپس میں تعلقات کشیدہ رہنے کی وجہ سے اکثر ہم جوہری جنگ کی باتیں سننے کو ملتی ہیں۔ دنیا کی دو چھوٹی سی نیوکلیئر طاقتیں جن کے پاس ہیرو شیما پر گرائے گئے بم کے برابر چند سو جوہری ہتھیار ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان جنگ کی صورت میں دوسرے ممالک کو بھی اس کے غیر ارادی نتائج بھگتنا پڑیں گے، جو دنیا کو تباہی کی جانب دھکیل سکتے ہیں۔

خیر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کوئی فلمی جنگ نہیں ہے، جن ملکوں میں آج تک جنگ ہوئیں ہیں اُن سے پوچھا جائے، کہ جنگ کیا ہوتی ہے؟ پاکستان اور انڈیا میں تو آج تک جنگ ہوئی ہی نہیں ! جنگ کے بارے میں پوچھنا ہے تو جرمنی ، فرانس، جاپان، برطانیہ، شام، عراق، روس، افغانستان، سربیا، ویت نام، جنوبی کوریا، شمالی کوریا، الجیریا، یمن، نائیجیریا، ایتھوپیا، صومالیہ، کانگو وغیرہ سے پوچھا جائے جن کے لاکھوں لوگ پل بھر میں لقمہ اجل بنتے رہے اور شہر کے شہر تباہ کر دیے جاتے رہے۔شام، عراق ، افغانستان کے اُن علاقوں کا دورہ کیا جائے جو آج بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔اس کے برعکس پاکستان اور بھارت کے درمیان لفظوں کی گولہ باری زیادہ ہوتی آئی ہے۔ 1971 کے بعد سے کوئی حقیقی جنگ نہیں لڑی گئی اور کارگل ایک محدود آپریشن تھا جو پہاڑی علاقوں میں ہوا اور خوش قسمتی سے زیادہ شہری متاثر نہیں ہوئے لیکن اگر امرتسر پر بم گرایا گیا یا لاہور پر بمباری کی گئی یا پھربمبئی پر بم حملہ کیا گیا تو کیا ہم اس کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہیں؟ کیوں کہ آج کل کے ہتھیار تبدیل ہوچکے ہیں یہ 1971 والے نہیں ہیں۔قارئین کو یاد ہو گا کہ بھارت نے اس سے پہلے بھی ایک بار پھر 2001 میں اٹیمی جنگ چھڑنے کا اعلان کیا۔ یہ وقت وہ تھا جب نائن الیون کے بعدپاکستان امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں پاکستان فرنٹ لائن اتحادی تھا۔ اس میں اسوقت کے امریکی صدر بش اور پینٹاگون سب سے زیادہ پریشان تھا۔ امریکہ کی جانب سے امن قافلے چل پڑے تھے۔ نائب وزیر خارجہ کریسٹینا روکا نے پہلے بھارت پھر واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان آئیں، اور کچھ نہ ہوا۔یعنی لفظی گولا باری کے تیر چلائے جاتے رہے۔

بہرکیف ہماری چھوٹی سی غلطیاں خطے کو جنگ کے غبار میں بدل سکتی ہیں کیوں کہ آج پاکستان 150 اور بھارت کے پاس 140 ایٹم بم ہیںانٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق، 2018ءمیں بھارت نے چار کھرب روپے (58 ارب ڈالرز) عسکری اخراجات مختص کیے جو اس کی جی ڈی پی کا 2.1 فیصد ہے۔ اس کے فوجیوں کی تعداد 14 لاکھ ہے۔دوسری جانب پاکستان نے اسی سال کے دوران 1.26 کھرب روپے (11 ارب ڈالرز) عسکری اخراجات کیلئے مختص کیے جو اس کی جی ڈی پی کا 3.6 فیصد حصہ ہے۔ پاکستان کے فوجیوں کی تعداد 6لاکھ 53 ہزار 800 ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں جو جوہری ہتھیار لیجانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارت کے پاس 9 اقسام کے آپریشنل میزائل ہیں جن میں اگنی تھری کی رینج تین سے پانچ ہزار کلومیٹر تک ہے۔ پاکستان کا میزائل پروگرام چین کی معاونت سے بنایا گیا ہے جس میں موبائل، قلیل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل شامل ہیں جو بھارت کے کسی بھی حصے تک جا سکتے ہیں۔اس لیے نریندر مودی کو چاہیے کہ عوام کو جذباتی کرنے جیسے اقدامات سے اجتناب کرے۔ کیوں کہ دنیا جانتی ہے کہ مودی صرف الیکشن لڑنے کے لیے یہ چالیں چل رہا ہے ،اسے سمجھنا چاہیے کہ بعض اوقات چھوٹی حرکتوں سے بڑی جنگوں کاآغاز ہو جاتا ہے ، اور پھر کچھ نہیں بچتا۔ لہٰذا جنگ اور درجہ حرارت میں اضافے جیسے اقدامات کو روک کر دونوں ممالک اپنے عوام پر توجہ دیں، ان کی صحت، تعلیم اور رہن سہن کے عملی اقدامات پر توجہ دیں۔ کیوں کہ حال ہی میں اقوام متحد ہ نے ایشیا اور پیسیفک ممالک سے متعلق ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک جنوری 2018ءتک صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ سے متعلق بہت کم بجٹ مختص کرتے رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک زیادہ تر علاقائی لڑائیوں اور قدرتی آفات کا شکار رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی بنیادی ضرورتوں کے مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں ۔پاکستان ، انڈیا اور کمبوڈیا میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد اب بھی پینتالیس فیصد سے کم ہے۔ دنیا میں تعلیم ،صحت اور سماجی تحفظ پر اوسطاً جی ڈی پی کا 11.2فیصد مختص کیا جاتا ہے جس کے مقابلے میں ایشیا پیسیفک کے ترقی پذیر ممالک اپنے بجٹ کا صرف 3.7فیصد مختص کرتے ہیں اور اگر کوئی غریب آدمی معذور یا بے روزگار ہو جائے تو ریاست 60فیصد عوام کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کرتی۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ یہ ممالک اپنے بجٹ کا دو تہائی حصہ ان مدات میں مختص کریں اور کہا گیا ہے کہ ان ممالک کے 1.2ارب افراد کی روزانہ کی کمائی فی کس صرف 3.2ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ چار سو ملین افراد شدید غربت کا شکار ہیں جو روزانہ 1.9ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان افراد میں سے دو تہائی افراد بھارت اور پاکستان کے شہری ہیں۔ رپورٹ میں ریاست اور شہریوں کے درمیان اس بنیادی رشتے کے نہ ہونے کی اصل وجہ حکمرانوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کے فقدان کو قرار دیا گیا ہے۔ یقیناً جمہوریت کوئی ایسا عمل نہیں ہے جس کو سماج سے الگ کرکے دیکھا جا سکے لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں سماجی تبدیلی کا سب سے بڑا محرک سیاسی عمل ہی ہوتا ہے بشرطیکہ تمام ادارے آئین اور جمہوری عمل کی پاسداری کریں تاکہ سیاست ارتقا پذیر ہو کر صرف اور صرف سماجی مسائل کا حل تلاش کر سکے۔پس اس انتشار زدہ سیاسی و معاشی ماحول میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگی ماحول کا پیدا ہو جانا برصغیر کے غریب عوام کیلئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ ان حالات میں یہی بہتر ہو گا کہ جنگ کا یہ ماحول ہر صورت ختم ہو وگرنہ اقوام متحدہ کی2019ءکی رپورٹ 2018ءسے بھی بدتر ہو گی۔اس لیے دونوں ملکوں کے عوام چاہتے ہیں کہ دونوں ملک امن سے رہیں اور اربوں ڈالرز کو جنگ کے بجائے خطے میں امن کے لیے استعمال کریں، یہاں کے عوام پر خرچ کریں ملکی ترقی پر خرچ کریں تاکہ ہم دنیا میں اپنا بہتر چہرہ روشناس کروا سکیں۔

٭٭٭


ای پیپر