ڈان لیکس کے جھوٹ سے گرے لسٹ کے سچ تک
07 مارچ 2018 2018-03-07

کیا کسی کو ڈان لیکس کے مندرجات یاد ہیں… 6 اکتوبر 2016ء کو پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کے صفحہ اوّل پر شائع ہونے والی اس خبر نے پورے ملک کے اندر تہلکہ مچا دیا تھا… اگرچہ حکومتی زعماء کی جانب سے اس کی فوراً تردید کر دی گئی لیکن اس کی وجہ سے سول ملٹری کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی اور وزیراعظم نواز شریف کی تیسری بار منتخب ہونے والی حکومت کی چولیںہل کر رہ گئیں… غلط یا صحیح خبر کی اشاعت کے ایک سال کے کم عرصے میں 28 جولائی 2017ء کو جب عدالت عظمیٰ کی جانب سے پانامہ مقدمے کے تحت اقامہ کے الزام پر وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر منصب سے فارغ کر دیا گیا تو معمولی مبصر کو بھی اندازہ تھا ڈان لیکس والی خبر کی اشاعت نے نواز شریف کو اس انجام تک پہنچانے میں پلے بیک سنگر کا کام کیا ہے… آج پونے دو برس گزر جانے کے بعد جبکہ یہ امر یقینی ہو گیا ہے کہ آئندہ ماہ جون کو پیرس میں منعقد ہونے والے Financial Action Task Force کے اگلے اجلاس میں پاکستان کا نام گرے لسٹ یا زرد خانے میں ڈال دیا جائے گا جبکہ ہمارا ملک سفارتی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے تو یہ جاننا ایک دفعہ پھر ضروری ہو گیا ہے کہ ڈان لیکس کیا تھی… اس کے مطابق 4 اکتوبر 2016ء کو وزیراعظم ہاؤس میں سول اور ملٹری قیادت کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا… میاں نواز شریف نے صدارت کی… اس وقت کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد (موجودہ سفیر پاکستان متعین واشنگٹن) نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا اگر حقانی نیٹ ورک، جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے خلاف فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کے خلاف اقتصادی اور مالیاتی پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں… ہم سفارتی تنہائی کا شکار ہو جائیں گے… امریکہ سخت ناراض ہے… ہمارے نہایت قریبی دوست چین کی جانب سے بھی پیغام موصول ہوا ہے اگرچہ وہ جیش محمد کے لیڈر مولانا مسعود اظہر پر پابندی لگانے کے خلاف اقوام متحدہ میں تکنیکی تدابیر اختیار کرتے ہوئے پاکستان کا مزید ساتھ دینے کو تیار ہے لیکن اس کے لیے زیادہ دیر تک ایسا کرتے رہنا آسان نہ ہو گا… اس وقت کے سیکرٹری خارجہ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر باور کرایا ان امور پر دنیا ہمارے مؤقف پر کان دھرنے کو تیار نہیں… لہٰذا ہمیں فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔
گزشتہ ماہ پیرس میں منعقد ہونے والے فنانشل ٹاسک فورس نامی عالمی تنظیم کے اجلاس میں طے پایا … چونکہ پاکستان نے لشکر طیبہ، جیش محمد اور حقانی نیٹ ورک اور ممبئی بم دھماکوں وغیرہ کے بارے میں مطلوبہ اقدامات نہیں کیے… مندرجہ بالا تنظیموں پر اس طرح پابندیاں عائد نہیں کیں جس طرح کا تقاضا کیا جاتا رہا ہے لہٰذا ماہ جون کے اجلاس کے دوران اسے گرے لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا… اس کے بعد پاکستان کے ساتھ مل کر بغور جائزہ لیا جائے گا وہ اب بھی مطلوبہ فیصلے کر کے ان پر فی الواقع عمل درآمد کرتا ہے یا نہیں… بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا… مندرجہ بالا فیصلے کے آخری مرحلوں میں ووٹ ڈالتے وقت ہمارے دیرینہ اور ہر مشکل وقت میں ساتھ آن کھڑے ہونے والے دوستوں سعودی عرب اور چین نے بھی پاکستان کے حق میں رائے نہ دی… ایک ترکی نے دوستی کا تھوڑا بہت بھرم رکھا… ہمارے بیانیے کو تسلیم کرنے سے منہ موڑ لیا گیا… گرے لسٹ میں شامل ہو جانے کے بعد پاکستان کو عالمی سطح کی مالیاتی تنظیموں کے ساتھ لین دین اور دیگر امور پر مشکلات در پیش ہوں گی… اس کے بعد اگر ہم نے حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ جیسی تنظیموں کے خلاف اور ممبئی بم دھماکوں کے بارے میں عالمی طاقتوں کی عین تسلی کے مطابق اقدامات نہ کیے… انہیں پوری طرح مطمئن نہ کیا… تو امکان غالب ہے بلیک لسٹ کا شکار ہو جائیں گے… زیادہ اور سخت تر پابندیاں عائد ہو جائیں گی… دنیا قربانیوں کے بارے میں ہمارا جائز ترین بیانیہ سننے کے لیے تیار نہیں… گرے لسٹ میں شامل
کیے جانے کے فیصلے کی صورت میں ہمیں جس سفارتی تنہائی کا شکار کر دیا گیا ہے، اس کے بعد اگر بلیک لسٹ والا فیصلہ ہو گیا تو اقتصادی پابندیاں سخت تر اور تنہائی میں شدت آ جائے گی… بھارت کے خیال میں اس کی پاکستان مخالف لابی کو کامیابی حاصل ہوئی ہے… اس سے خوشی چھپائی نہیں جاتی… اگرچہ 2013ء میں بھی ہمیں اس طرح گرے لسٹ یا زرد خانے میں ڈال دیا گیا تھا… مگر 2013ء میں نواز شریف وزیراعظم منتخب ہوئے اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کی پالیسیوں کی وجہ سے 2015ء میں اصل حالت میں واپس آ گئے… ہمارا نام گرے لسٹ سے خارج کر دیا گیا… اس کے بعد حالات پھر دگر گوں ہو گئے… خاص طور پر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہو جانے کے بعد! … بھار ت امریکہ کے خاص اتحادیوں میں شامل ہو گیا اور اس نے پاکستان کے خلاف اپنے دیرینہ بغض عناد کو پوری طرح بروئے کار لاتے ہوئے امریکی حکومت کو پاکستان کی سخت مخالفت کی راہ پر ڈال دیا… لیکن اس کا کیا کیجیے کہ پیرس کے اجلاس میں چین اور سعودی عرب نے بھی ہمارے حق میں ووٹ ڈالنے سے پہلو تہی کی… اس صورت کو سامنے رکھیے اور ڈان لیکس کی خبر پر ایک مرتبہ پھر نگاہ ڈالیے (جسے سرکاری طور پر جھوٹ قرار دیا گیا ہے مگر اس کے رپورٹر کو ابھی تک اپنی کہانی کا ایک ایک لفظ کے درست ہونے پر اصرار ہے) اس وقت کے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد نے وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت ہونے والے سول وملٹری لیڈر شپ کے اعلیٰ سطح اجلاس میں غیر مبہم الفاظ میں واضح کر دیا تھا عالمی تنہائی کا شکار ہو جانے اور پابندیاں لگنے کے جو خطرات منڈلا رہے ہیں، اس صورت میں چین بھی ہمارا ساتھ نہ دے پائے گا… اگر اس انتباہ کا بروقت نوٹس لے لیا جاتا اور پاکستان اپنے طو رپر مؤثر اقدامات کر لیتا تو امکان ہے حالات اس نازک موڑ پر نہ پہنچ پاتے جہاں آج ہم کھڑے ہیں… اب ہماری جانب سے فنانشل ٹاسک فورس کے کرتا دھرتا لوگوں کو پورا یقین دلایا جا رہا ہے پاکستان ان کے مطالبات پر عمل درآمد کرنے کی خاطر ہر ممکن تعاون کرے گا تا کہ نوبت بلیک لسٹ میں شمولیت تک نہ پہنچے… اس کے برعکس اگر پونے دو سال قبل سیکرٹری خارجہ کی پیشگی تنبیہ انہوں نے جس اعلیٰ سطحی مجلس میں کی اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر لیا جاتا اور متعلقہ قوتوں کی جانب سے اس پر عمل درآمد کا فیصلہ بھی کر لیا جاتا تو شاید آج بھارت کو ہمارے خلاف اتنی بڑی کامیابی کا ڈھنڈورا پیٹنے کا موقع نہ ملتا…
اس کے برعکس ہوا یہ کہ خبر کی اشاعت کے ساتھ ملک ایک سخت ترین داخلی طوفان کی زد میں آ گیا ۔ منتخب سویلین حکومت پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی… اسے بار بار وضاحت کرنا پڑی خبر کو شائع کرانے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں… حالانکہ خبر میں کسی قومی یا ملکی سلامتی کے بارے میں راز کا افشا نہیں کیا گیا تھا… اس کے باوجود اگر اسے شائع نہ کیا جاتا اور اندرونی طور پر مؤثر اقدامات کر لیے جاتے تو بہتر ہوتا… مگر آندھی جو چلی اور طوفان جو اٹھا وہ نہ صرف ایک جمہوری اور منتخب حکومت کے خیمے اکھاڑ پھینکنے میں مددگار ثابت ہوا بلکہ آج کے حالات پر نظر ڈالیے تو معلوم ہو گا محض ایک شخص یا جماعت کی حکومت نہیں پاکستان کا آئینی اور جمہوری ڈھانچہ کمزور تر ہو گیا ہے نواز شریف کی عوامی اور سیاسی لیڈر شپ اور مقتدر قوتوں کے درمیان ایک کشمکش ہے جو بڑھتی چلی جا رہی ہے… اقامے کے الزام کی پاداش میں برطرف ہونے والا وزیراعظم پہلے سے زیادہ مقبول ہوتا دکھائی دے رہا ہے… عوامی ہمدردیاں سمیٹ رہا ہے… ’مجھے کیوں نکالا‘ جیسے بیانیے کو مقبول بنا رہا ہے… ایک کے بعد دوسرا ضمنی انتخاب جیت رہا ہے… دوسری جانب کی جانے والی کوششوں میں بھی کمی نہیں تا کہ 2018ء کے انتخابات میں اس کی غیر معمولی کامیابی کا راستہ روکا جا سکے… معاملہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلے کی دوڑ سے کہیں آگے جمہوریت پسند سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین محاذ آرائی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو ہمارے جسد سیاسی اور ملک اور قوم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے … ان خدشات کا اظہار کیاجا رہا ہے کہ نوبت اداروں کے درمیان رسہ کشی تک پہنچ سکتی ہے… کیا ایک زندہ و توانا اور خوددار قوم کے طور پر ہمارے لیے یہ سب کچھ قابل برداشت ہے کہ بیرونی دنیا میں سفارتی تنہائی سے دو چار ہوں اور اندرون ملک جنم لینے والا انتشار و خلفشار آئینی اداروں کو اپنی لپیٹ میں لے لے… اعلیٰ عدالتوں کو مہذب دنیا کے ہر جمہوری ادارے کے اندر عفیفہ کا مقام حاصل ہوتا ہے… پاکستان میں بھی ان کے مقام و مرتبے کے پاس و لحاظ کی روایت بہت مضبوط رہی ہے… کیونکہ ان کا وجود اوپر سے لے کر نیچے تک ملک کے ہر شہری کو انصاف مہیا کرنے کا ضامن سمجھا جاتا ہے… مگر اب عالم یہ ہے کہ نواز شریف اور ان کی جماعت کے قائدین تو متاثرہ پارٹی کے طور صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے… آئین کی من مانی تشریح کی جا رہی ہے… چوٹی کے کئی ماہرین آئین و قانون اپنی جگہ سخت تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں پرسوں منگل کی شام حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے چیئرمین سینیٹ کے محترم ترین عہدے پر فائز جناب رضا ربانی بھی بول اٹھے ہیں… سینیٹ اجلاس سے اپنے الوداعی خطاب میں موصوف نے کھلے الفاظ میں کہا ہے سپیکر ( کے پی کے اسمبلی) کو توہین عدالت کا نوٹس بدقسمتی ہے… محسوس ہوتا ہے کہ آئین کو پامال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں آئین کے آرٹیکل 69 کے تحت عدلیہ کی پارلیمانی امور میں عدم مداخلت طے ہو چکی ہے… اور یہ کہ سینیٹرز کو توہین عدالت کے تحت طلب نہ کیا جائے… جب ملک کے سربر آوردہ اور محترم ترین افراد ریاست کی عفیفہ کے کردار کھلے الفاظ میں اور سر عام زیر بحث لانے پر مجبور ہو جائیں تو جان لینا چاہیے کہ خرابی اس سے کہیں زیادہ گہری اور فوری طور پر اصلاح احوال کی متقاضی ہے جتنی نظر آتی ہے۔


ای پیپر