پاکستانی سیاست کی نئی پہچان
07 مارچ 2018

سینیٹ کے حالیہ الیکشن نے پاکستانی سیاست کو نئے آئیکون دیے ہیں۔ایسے چہرے جو لبرل،سیکولر اور معتدل پاکستان کی شناخت ہیں۔سیاسی جماعتوں کو لعن طعن کرناہمارا دل پسند مشغلہ ہے۔ وطن عزیز میں تو ویسے بھی دانشور ی کی ایک نشانی صبح شام جمہوریت،انتخابی نظام، سیاسی شخصیات کو گالی گلوچ کرنا بھی سمجھا جاتا ہے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں بھی ایسا ہی ہوا۔ کسی نے الیکشن کو ہارس ٹریڈنگ کا شاخسانہ کہا، کسی نے کھلی منڈی سے تشبیہ دے کر دل کی بھڑاس نکالی۔ مقصد صرف اور صرف عوامی مینڈیٹ کا مذاق اڑانا اس کو بے توقیر کرنا ہے۔یہ جانے بغیر کہ اس ابلاغی مہم کے پس پردہ عوام مخالف قوتوں کی پراپیگنڈا مشینری کار فرماہے۔پاکستان کا سیاسی نظام، سیاستدان فرشتے ہیں نہ یہ سسٹم غلطیوں سے پاک ہے۔ہمارے دانشور آئین شکنوں سے تحریر ی اجازت لے کر جابر حاکم کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے ہیں۔لیکن سیاستدانوں کو تختہ مشق بناتے ہوئے ان کے قلم میں کبھی لغزش نہیں آتی۔کیونکہ سیاستدان سافٹ ٹارگٹ ہیں۔ان کو نشانہ بنانا آسان ہے۔
سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں بھی ماضی کی طرح افواہ ساز فیکٹریاں دن رات ڈبل شفٹ میں چلیں۔یہ معلوم نہیں کہ اوور ٹائم ملا یا نہیں، البتہ ڈیوٹی ضرور پوری کی ۔ الزام لگا کہ سینیٹ کے ووٹ کروڑوں میں بکے۔ کس نے بیچے کس نے خریدے، ا س کا کوئی ثبوت نہیں۔ہوسکتا ہے کہ کسی امیر کبیرشخص نے ترغیب کے ذریعے کسی کو لالچ دے کر حمایت حاصل کی ہو۔لیکن کتنے فیصد۔ ارکان سینیٹ جو حالیہ الیکشن میں کامیاب ہوئے ان کی تعداد با ون ہے۔ ان باون ارکان کی فہرست نکال لیں، جائزہ لے لیں، ان کی بیک گراؤنڈدیکھ لیں، ایسے ارکان جن کے متعلق یہ شائبہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے ووٹ خریدے ہوں۔ان کی تعداد کل امیدواروں کا ایک فیصد بھی نہیں بنتی۔آگے چل کر تفصیل سے بحث کرتے ہیں کہ کون کس بیک گراؤنڈ کا حامل شخص ہے۔لیکن اگر سینیٹ کے ووٹوں میں خریدو فروخت ہوئی ہوتی تو کراچی کا انورلال دین، کے پی کا بہرہ مند تنگی،تھر کی دلت خاتون کرشنا کولہی ، سندھ کا دانشور لکھا ری مولا بخش چانڈیو ہر گز منتخب نہ ہوتا۔اے این پی،جے یو آئی کے متوسطہ طبقہ کے افراد ایوان بالا تک نہ پہنچ پاتے۔ایم کیو ایم کا قانون دان فروغ نسیم سینیٹ کا رکن منتخب نہ ہوتا۔بلکہ اس کی جگہ سونے کا ارب پتی تاجر کامران ٹیسوری جیت جاتا۔اگر سینیٹ میں اتنے وسیع پیمانے پر تجارت ہوتی تو پرویز رشید کبھی ممبر نہ بنتا۔شاہد اللہ خان کبھی سینیٹ کے دروازے کی شکل بھی نہ دیکھ پاتا۔رانا محمود الحسن کی جگہ برطانیہ سے نوارد زبیر گل جیت جاتا۔پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد سینیٹر کیسے بنتی۔رضا ربانی کبھی چیئر مین کے عہدے تک نہ پہنچ سکتا۔جس طرح الیکشن لڑنا غریب،تعلیم یافتہ متوسط طبقے کے افرادکا حق
ہے۔اسی طرح کسی پاکستانی کو محض اس لئے کہ وہ امیر شخص ہے انتخابات لڑنے سے ڈس کوالیفائی قرار دینا بھی منطقی رویہ نہیں۔اس شخص کی اہلیت پر سوال اٹھانا غیر عقلی اور سفا کانہ رویہ ہے۔سینیٹ میں موجود ناموں کا جائزہ لیا جائے تو اکثر ایسے سیاسی کارکنوں پر مشتمل ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی نظریے کے مطابق جدوجہد میں زندگی گزاری ہے۔طویل قربانیوں کے بعد وہ کہیں جا کر اس پوزیشن میں آئے کہ منتخب ایوانوں تک پہنچے۔ پنجاب، بلو چستان، سندھ، کے پی میں مین سٹریم سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ ٹکٹ دیتے وقت اپنے کارکنوں کو ہی ترجیح دی ہے۔البتہ عام انتخابات میں قابل انتخاب شخصیات سیاسی خاندانوں کو ضرور ترجیح دی جاتی ہے۔جو کہ عملی سیاست کا تقاضا بھی ہے اور ضرورت بھی۔جہاں کہیں متحرک سیاسی کارکن میسر ہوتاہے اس کو بھی ٹکٹ دیا جاتا ہے۔اسمبلیوں میں موجود ایک بہت بڑی تعداد ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔25 سالوں سے پارلیمانی رپورٹنگ کے بعد قلمکار ایسے درجنوں افراد کے نام گنوا سکتا ہے۔اس موضوع پر ڈیبیٹ کیلئے بھی حا ضر ہوں۔اس حوالے سے اگر کسی جماعت کو سب سے زیادہ نمبردے جا سکتے ہیں تو وہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ جس کی عام سیاسی کارکن کو منتخب ایوان اور اعلیٰ ترین عہدوں تک لے جانے کی بھی تاریخ ہے۔پیپلز پارٹی نے ہی 1970ء میں پہلی مرتبہ غریب نوجوانوں، کسانوں، صحافیوں، لکھاریوں، بس کنڈکٹروں،مزدوروں کو اسمبلیوں تک پہنچایا۔ان ناموں کو گنوانے کا یہ موقع محل نہیں۔ ڈاکٹرغلام حسین، مختار اعوان، جہانگیربدر، نذر کیانی، راؤ خورشید علی خان، خورشید حسن میر،مختار رانا ان گنت نام ہیں۔اکثر اب اس دنیا میں موجود نہیں۔عصر حاضرکی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ رضا ربانی،نیّر حسین بخاری، فاروق نا ئیک کو چیئر مین سینیٹ کے آئینی عہدے پر نامزد کیا۔پہلی مرتبہ ایک خاتون کو سپیکر قومی اسمبلی اور وزیر خارجہ بنایا۔پیپلز پارٹی نے ہی ایک مرتبہ نہیں بار بار قائم علی شاہ کو سندھ کی وزارت اعلیٰ دی۔موقع آیا تو گلگت بلتستان کا چیف منسٹرمہدی شاہ کو بنایا۔آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ ممتاز راٹھور مرحوم، اس کے بعد چوہدری مجید کو دی۔ان میں سے کوئی بھی ارب پتی تو کیا کروڑ پتی بھی نہیں۔ یہ بھی پیپلز پارٹی ہی تھی جس نے سینیٹ میں خواتین کیلئے نشستیں مخصوص کرائیں۔سینیٹ میں اقلیتوں کوکوٹہ دیا۔ صرف یہاں تک ہی نہیں بلکہ پہلی مرتبہ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جنرل نشستوں پر منتخب کرایا۔عام طور پر جنرل نشستیں صرف اکثریتی طبقے کا حق سمجھی جاتی ہیں۔ماضی میں پیپلز پارٹی نے ہی پہلی مر تبہ رتنا بھگوان داس چاولہ کو سینیٹ آف پاکستان کا رکن منتخب کر ایا۔یہ ہندو خاتون 2006ء سے لے کر 2012ء تک سینیٹ کی رکن رہیں۔تاہم ان کا تعلق ہندو کمیونٹی کے با اثر طبقے سے تھا۔یہ بہر حال ایک آغاز تھا۔اب حالیہ الیکشن میں پیپلز پارٹی نے ایک اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔پیپلز پارٹی ایک پروگریسو جماعت ہے جس نے ہندوؤں کے پسماندہ ترین طبقے کو کولہی قبیلے سے تعلق رکھنے والی کرشنا کماری کو سینیٹ کی جنرل نشست سے ٹکٹ دیا۔جو کہ تاریخی اقدام ہے۔38 سالہ کرشنا کماری کا تعلق صحرائے تھر کے دور دراز علاقے نگر پار سے ہے۔ اس دلت خاتون نے اپنا بچپن نا مساعد حالات میں گزارا۔ سندھ میں اس قبیلے کے رجسٹرڈ افراد کی تعداد صرف 18 لاکھ ہے۔ کرشنا کماری نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔محض آٹھویں کلاس میں شادی کے بندھن میں بندھ جانے والی خاتون نے سماجیات میں ماسٹر ڈگری حاصل کی ۔کرشنا کماری تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی دھرتی تھر میں لوٹ گئیں۔ جہاں انہوں نے جبری مشقت، جنسی ہراسگی،انسانی حقوق اور تھر کی محرومیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔انہوں نے ظلم کا شکار خواتین کیلئے قانونی جنگ بھی لڑی۔ وہ کم عمری سے ہی محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنا آئیڈیل سمجھتی تھیں۔ان کا خیال ہے بے نظیر بھٹو شہید نے عورت کو اپنے حق کیلئے آواز اٹھانے کا پلیٹ فارم فراہم کیا۔ سینیٹ آف پاکستان کے الیکشن نے کرشنا کماری، انور لال دین،بہرہ مند تنگی کی شکل میں پاکستانی سیاست کو قابل فخر اور روشن دمکتے چہرے دیے ہیں۔ایسے چہروں کو ان کا حق دینے پر پیپلز پارٹی کا شکریہ۔نظریاتی پیپلزپارٹی آج بھی زندہ ہے مری نہیں۔


ای پیپر