سینیٹ انتخابات کے نتائج
07 مارچ 2018

تمام تر افواہوں ، دعووں اور خدمات کے باوجود سینیٹ کی 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابات اپنے مقررہ وقت پر منعقد ہو گئے۔ توقعات کے عین مطابق مسلم لیگ (ن) 33 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ اگرچہ فنی طور پر مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدوار ابھی تک آزاد ہیں اور باقاعدہ طور پر مسلم لیگ (ن) میں شامل نہیں ہوئے مگر سب لوگ جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے سے پہلے وہ مسلم لیگ (ن) کے باقاعدہ ٹکٹ یافتہ امیدوار تھے۔ مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ میں اکثریت تو حاصل کر لی ہے مگر ابھی بھی وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کروا لے۔ مسلم لیگ (ن) کو چیئرمین سینیٹ لانے کے لئے کم از کم 20 سینیٹروں کی حمایت درکار ہے۔ اگر اس کے موجودہ اتحادی پشتونخوا، ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) اس کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کے سینیٹرز کی تعداد 48 تک جا پہنچتی ہے جو کہ مطلوبہ تعداد سے 5 سینیٹرز کم ہیں۔ اس صورت حال میں فاٹا کے 8 سینیٹرز اور بلوچستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے سات سینیٹرز فیصلہ کن حیثیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے پانچ سینیٹرز بھی کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کے لئے زبردست جوڑ توڑ ہونے والا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اگر فاٹا کے 3 سے 4 سینیٹرز کی حمایت حاصل کر لیتی ہے تو اس کے لئے چیئرمین سینیٹ منتخب کروانا بہت حد تک یقینی ہو جائے گا۔
دوسری طرف پیپلز پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت ہے جو کہ چیئرمین سینیٹ کا عہدہ اپنے پاس رکھنے کے لئے پوری طرح سرگرم ہے۔ پیپلز پارٹی کو اپنے سینیٹرز کے علاوہ 33 مزید ووٹ چاہئیں تا کہ اس کا چیئرمین منتخب ہو سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے اسے فاٹا کے تمام 8 اور بلوچستان کے تمام آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ایم کیو ایم پاکستان اور پی ٹی آئی کی حمایت بھی درکار ہے۔ اس وقت پیپلز پارٹی کے لئے فیصلہ کن حیثیت پی ٹی آئی کے 12 اور فاٹا کے4ووٹ ہیں۔
پی ٹی آئی کے لئے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ ناممکن حد تک مشکل ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں اس کا نواز شریف کے خلاف بیانیہ کمزور ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی کے پاس اس وقت دو ہی راستے ہیں۔ یا تو وہ خاموشی سے حزب مخالف کے بنچوں پر بیٹھ جائے اور اس جوڑ توڑ سے لاتعلق ہو جائے۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بنوانے کے لئے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہاتھ ملائے اور اس جوڑ توڑ میں اپنا حصہ ڈالے۔ اگر پی ٹی آئی موجودہ صورت حال میں پیپلز پارٹی کا ساتھ نہیں دیتی تو پیپلز پارٹی کے لئے چیئرمین کا عہدہ حاصل کرنا نہایت مشکل ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کو نہ صرف مولانا فضل الرحمن کی ضرورت پڑے گی بلکہ نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ، ملی عوامی پارٹی کی حمایت بھی درکار ہو گی۔ اس وقت دونوں جماعتوں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے لئے بہتر یہی ہے کہ باہمی بات چیت اور صلاح مشورے سے موجودہ چیئرمین رضا ربانی کو ہی دوبارہ منتخب کر لیں اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ پر مسلم لیگ (ن) اپنا امیدوار لے آئے۔ اس وقت سینیٹ میں رضا ربانی سب سے موزوں امیدوار ہیں۔ اس بات کا فیصلہ بہرحال دونوں جماعتوں کی قیادت نے کرنا ہے۔ ہارس ٹریڈنگ، سرمائے کے استعمال اور جوڑ توڑ سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی قیادت مل کر بیٹھ کر بخوبی اس مرحلے کو طے کر لے اور جمہوری مرحلے کو شرمندگی سے بچا لے۔
سینیٹ کے انتخابات پر پہلے ہی سندھ، پنجاب ، کے پی کے ، بلوچستان اور فاٹا کے حوالے سے خریدوفروخت کے الزامات لگ رہے ہیں۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی الزامات کی لپیٹ میں ہے اگرچہ پیپلز پارٹی نے سندھ اور کے پی کے میں درمیانے اور نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی ٹکٹ دے کر منتخب کروایا ہے مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی پر ہارس ٹریڈنگ اور خریدوفروخت کے سنگین الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ایک طرف کرشنا کماری ، انور دینو ، بہرہ مند تنگی جیسے پارٹی کارکنوں کو جتوا کر نیک نامی کمائی ہے تو دوسری طرف کے پی کے اور بلوچستان میں اس پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگ رہے ہیں۔
اسی طرح پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے پی کے اسمبلی میں اپنے ڈیڑھ درجن ارکان پر وفاداریاں تبدیل کرنے اور ووٹ کو بیچنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں مگر وہ پنجاب میں اپنے واحد امیدوار چوہدری سرور کے جیتنے پر خوش ہیں۔ حالانکہ وہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کی جماعت کے پاس مطلوبہ ارکان موجود نہیں تھے۔ پی ٹی آئی نے 32 ارکان کے ہوتے ہوئے 44 ووٹوں سے سینیٹ کی جنرل نشست جیتی ہے۔ اصولی طور پر تو عمران خان کو اس جیت کی بھی تحقیقات کروانی چاہئیں اور ان ارکان کو بے نقاب کرنا چاہئے جنہوں نے چوہدری سرور کو ووٹ دے کر اپنی جماعت کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کی۔ اسی طرح کی صورت حال پیپلز پارٹی کے حوالے سے کے پی کے اسمبلی کی ہے جہاں پر پارٹی کے پاس صرف سات ارکان ہیں مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی اپنے دو سینیٹر منتخب کروانے میں کامیاب ہوئی ہے جبکہ اس کے پاس ایک سینیٹر منتخب کروانے کی مطلوبہ تعداد بھی نہیں تھی۔
ہماری سیاست کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس میں نظریات ، اصولوں، پروگرام اور منشور کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ ہر بڑی سیاسی جماعت سیاسی عہدوں اور طاقت کے حصول کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتی ہے۔ سیاسی قیادت طاقت کے حصول کے لئے کسی بھی بے اصولی اورنظریاتی انحراف کے لئے ہمہ وقت آمادہ رہتی ہے۔ اپنی سیاسی جماعتوں کو جمہوری طور پر نچلی سطح پر منظم کرنے، سیاسی کارکنوں کی سیاسی اور نظریاتی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنے ، جماعت میں جمہوری اور آزادانہ بحثوں کو فروغ دینے کی بجائے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت اپنی جماعتوں کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کی طرح چلاتی ہے۔ ٹکٹوں کی تقسیم سے لے کر عہدوں پر نامزدگی تک قیادت اپنی مرضی سے طے کرتی ہے۔ جب تک سیاسی جماعتیں حقیقی طور پر یونین کونسل کی سطح پر اپنے آپ کو منظم نہیں کرتیں اپنے جمہوری ڈھانچے تشکیل نہیں دیتیں۔ جماعتوں کے اندر جمہوری ثقافت اور روایات کو فروغ نہیں دیتیں۔ مقامی حکومتوں کو مضبوط اور طاقت ور نہیں بناتیں اور عوامی تنظیموں یعنی طلباء اور مزدور یونینوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم نہیں کرتیں اس وقت تک سیاست ہوا میں معلق رہے گی۔ جماعتیں اپنا سیاسی کردار ادا کرنے اور جمہوری اداروں کو مضبوط اور طاقت ور بنانے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔ جب تک سیاست طبقہ اشرافیہ کے زیر قبضہ رہے گی اس وقت طاقت ، سرمائے اور اثرورسوخ ہی واحد میرٹ رہے گا۔ سرمایہ داروں ، جاگیرداروں ، قبائلی سرداروں اور نو دولتیوں کی موجودگی میں سیاست انہی کے مفادات کے گرد گھومے گی اور عوام اس جمہوریت کے محافظ اور وارث نہیں بنیں گے۔
سینیٹ کے ان انتخابات کی بنیاد پر کسی جماعت کی عوامی مقبولیت کا اندازہ لگانا درست نہیں کیونکہ سینیٹ انتخابات تو دراصل کسی بھی اسمبلی میں کسی جماعت کی عددی طاقت کا اظہار ہوتے ہیں۔ سینیٹ انتخابات کا عوام کے شعور ، امنگوں اور جذبات کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ سینیٹ انتخابات تو دراصل قیادت کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ اپنی جماعت کے سب سے زیادہ باصلاحیت اور قابل لوگوں کو ایوان بالا میں بھیج سکے مگر ہمارے سیاسی کلچر میں قابلیت ، اہلیت اور استعداد سے زیادہ اہمیت قیادت کے ساتھ تعلقات اور وفاداری کی ہے۔ اپنی دولت، سرمائے اور اثرورسوخ کی بنیاد پر سیٹ حاصل کرنے والے سینیٹرز کو نہ تو قانون سازی سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی عوامی مسائل سے۔ سیاسی قیادت نے امیدواروں کے حوالے سے چند اچھے فیصلے کئے مگر عمومی طور پر اعلیٰ معیار کے حامل لوگوں کو اہمیت نہیں دی اور یہ موقع کھو دیا۔


ای پیپر