تعریف ، تنقید اور توصیف
07 مارچ 2018 2018-03-07

کسی کی عظمت کا معترف ہونے والا خود بھی گونہ عظمت کا حامل ہوتاہے … اور کسی انسان کی عظمت کا منکردراصل خود کسی تعریف کے قابل نہیں ہوتا۔ جو کسی انسان کا معترف نہیںہوتا، وہ معتبر نہیںہوتا۔ تعریف کرنے کا مدعا اگر ذاتی مفادہے تو یہ خوشامد ہے۔ وہ تعریف جس میں علم اور محبت شامل ِ حال نہ ہو، جھوٹ کے زمرے میں آتی ہے … اور جھوٹی تعریف ہی خوشامد کہلاتی ہے۔ اگرتعریف کاتعلق مخاطب کی اصلاحِ احوال سے ہے ‘تویہ اَز خود قابلِ تعریف ہے۔ ہر اصلا ح کرنے والے کو یاد رکھنا چاہیے کہ اصلاحِ احوال کی ابتدا تعریف سے ہوتی ہے۔ ایک بخیل شخص کسی کی اصلاح کر سکتا ہے، نہ تعریف ۔ کسی کی تعریف کرنے کیلئے حوصلہ چاہیے … اور یہ حوصلہ کسی مفاد پرست اور انا پرست میں نہیں ہوتا۔ ایک حوصلہ مند ہی دوسروں کوحوصلہ عطا کرسکتاہے۔ تعریف حوصلہ افزائی کا سبب بنتی ہے اور تنقید بالعموم حوصلہ شکن ہوتی ہے۔ تنقید …تنقیص ہے … ’’تْو‘‘ کے نقص بیان کرتی ہے۔ تعریف … ستائش ہے … صفت بیان کرتی ہے … اور ’’تْو‘‘ کو ’’ہم‘‘ بنانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ نکتہ چیں… نکتہ داں نہیں ہوتا۔
تنقیدتعریف کا اْلٹ ہے۔اس لیے تنقید سے کوئی کام سیدھا نہیں ہوتا۔ تنقید اصلاح نہیں کرتی … صرف محبت اصلاح کر تی ہے۔ محبت … ایک ہمہ وقت اورہمہ صفت کام ہے… اس لیے محبت کی نظر تنقید کی فرصت ہی نہیں پاتی … جبکہ تنقیدی سوچ میں مبتلا ذہن، محبت کی راہ نہیںپاتا۔تعمیری تنقید نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔تعمیر کے نام پرکی جانے والی تنقید بھی تعمیری نہیں ہوتی کہ تعمیر سے بہت پہلے یہ تخریب کاعمل کر چکی ہوتی ہے۔ تنقید اِن معانی میںتخریب کاری ہے کہ یہ تعلق پرایک ضربِ کاری لگاتی ہے… جبکہ اصلاح کیلئے سب سے پہلی شرط تعلق کاقائم کرنااور پھر قائم رکھناہے۔
تعمیرِاخلاق قوم کی ہو یا فرد کی … محبت اور خدمت سے بڑھ کر کوئی چیز کارگر نہیں ہوتی۔ اصلاحِ معاشرہ کی مہم دراصل محبت اور خدمت کی صورت میں مکمل ہوسکتی ہے …بصورتِ دیگر جبر کے تازیانے صرف باہر سڑکوںپر ڈسپلن قائم کرسکتے ہیں… اور باطن کے آنگن میں وہی وحشی جذبے بے لگام دوڑتے پھرتے ہیں۔ جو خدمت کرنا جانتا ہے، وہ تنقید کرنا نہیں جانتا … اور جو خدمت نہیں کرنا چاہتا، وہ صرف تنقید کرتاہے۔
تنقید کا عمل ماحول کو خوبصورت نہیں رہنے دیتا… اور اصلاح ِ احوال کیلئے اندر اور باہرکے ماحول کاخوب ہونا ضروری ہے۔ محبت خود میں خود کو توڑ تی رہتی ہے …لیکن باہر سب کو جوڑ دیتی ہے۔ اصلاح باہم جڑنے اور جوڑنے کاعمل ہے۔ بگاڑ قطعِ تعلق سے پیدا ہوتاہے۔ تنقید کا عمل بسا اوقات محض خود نمائی کا ایک اشتہار ہوتاہے۔
تنقید …ایک لاتعلقی کا اظہار بھی ہے۔ تنقید کرنے والاتنقید کے ساتھ ساتھ دوسروں کو حقیر بھی سمجھ رہاہوتاہے… اور دوسروں کو حقیر سمجھنے والا، لازم ہے کہ خود کو برتر سمجھے۔ اسی رویّے کا نام غرور ہے۔ ایک مغرور شخص دوسروںپرتنقیدکیے بغیر رہ نہیں سکتا۔ وہ اپنی برتری کی سند دوسروں کی تحقیر میں ڈھونڈتا ہے۔کسی کی غلطی پراسے تنقیدکا نشانہ بنانا آسان ہے …یہ عام کام ہے …بلکہ عامیانہ پن ہے۔محبت سے اپنا لینا بڑاکام ہے … بڑاپن ہے۔عام لوگ عام کام کرتے ہیں … بڑے لوگ بڑا کام!!
انسان صرف جسم اور روح کا مْرکّب ہی نہیں …بلکہ ایک مزاج اور کیفیت کا مَرکَب بھی ہے…یہ اپنی پشت پرکسی کو ہاتھ نہیں رکھنے دیتا …سوائے اْس سائیس کے جو تعریف و توصیف کی سائنس جانتاہو۔
کسی انسان سے محبت کرنے کیلئے یہی ایک جواز کافی ہے کہ وہ صورتِ آدم ہے … اور آدم کو خالق نے اپنی صورت پر خلق کیاہے۔ توہینِ آدم دراصل توہینِ خالقِ آدم ہے۔ خالق نے ہر انسان کو ایک ایسی صفت سے ممتاز کیا ہے کہ وہ کلّ یوم ھو فی شان کی تفسیر کا مظہر بن سکے۔ یہ انسان کی خود سے غفلت اوراپنے گردوپیش سے تغافل ہے … جو اْس صفت کو ظہورپذیر نہیں ہونے دیتی۔کسی حاملِ صفت کی توصیف سے گریز کرنا اَز خود توہینِ موصوف ہے۔ جس طرح ماں کی عظمت کیلئے اس کا ماں ہونا کافی ہے، اسی طرح کسی انسان کی تکریم کرنے کیلئے اس کا محض انسان ہوناہی کافی ہے۔ انسان کی کوکھ میں عظمت کے لاتعدادجوہر ہیں جو بیجوں کی طرح اس کی زمینِ وجود میں موجود رہتے ہیں …اوروہ کسی وقت میںبارآور ہو سکتے ہیں۔ انہیں سینچنے کیلئے خارج میں جن عوامل کی ضرورت ہوتی ہے وہ وقت، تربیت اور توصیف ہیں۔
جب سے انسان توصیف ِ انسان سے دْور ہواہے … وصف ِ انسانیت سے دْور ہو گیاہے۔ توصیف ِ انسان … انسان کو سراہنے کا عمل ہے۔ یہ انسان میں خوداعتمادی بخشتاہے۔انسان میں موجود انسانیت کے کسی بھی شرف کو سراہاجائے ‘تو وہ شرف اپنی تکمیل کو پہنچتاہے …سراہنے والے میں بھی… اور سراہے جانے والے میں بھی! گویاانسان میں شرف ِانسانیت اجاگر کرنے کاایک کارگر نسخہ یہ ہے کہ اس کی تکریم کی جائے… اسے چاہا جائے … اور پھرسراہا جائے۔ انفرادی طورپرکسی انسان کیلئے برائی کی سزا تجویز نہ کرنی چاہیے … صرف اس کے اندر بھلائی کو سراہتے جاؤ… برائی وہ خود ہی ترک کر دے گا۔ اچھی بات، ایک اچھے انسان ہی کو اچھی نظر آتی ہے۔
ایک فنکار اپنافن پارہ اْسی کے سامنے رکھتا ہے جو اس کی تعریف کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ کسی فن پارے کی تعریف دراصل فن کا ر کی تعریف ہے۔ ایک تخلیق کار جب تخلیق کرتاہے تو وہ اپنے سینۂ تخیل میں مخفی تصویر کوپردۂ شہودپر اْتارتاہے۔اْدھرتصویر کا مشاہدہ کرنے والاجب کمالِ اخلاص سے تعریف کرتاہے تو وہ مصوّرکے دل میں اْتر رہا ہوتا ہے … اوریہاں دوئی وحدت میں ڈھلنے لگتی ہے۔
یہ کائنات بھی ایک فن پارہ ہے … ہر روز نئے رنگوں سے آراستہ … اور نیرنگ زاویوں سے پیراستہ ہونے والا ایک شہ پار ہ …اِس کا مصور’’ المصوّر‘‘ ہے … وہ ایسا خالق ہے کہ خلّاق بھی ہے… وہ ایسا عالم ہے کہ علّام بھی ہے…وہ جانتا ہے … اور سب جاننے والوںکو جانتاہے… وہ جانتاہے کہ کون اْس کی تعریف کر سکتاہے۔ اِس لیے اْس نے اپنے پیغمبر اور کتابیں صرف انسانوں کی دنیا میں اْتاریں۔ اس نے انسان ہی کو وہ آنکھ عطا کی ہے جو کائنا ت کا عین اسی طرح مشاہدہ کر سکتی ہے جس طرح وہ بنائی گئی …بے شک اس نے انسان کو عین اپنی صورت پر خلق کیا۔خالقِ ارض وسماء حضرتِ انسان سے شعوری اِدراک اور اعتراف چاہتاہے۔ شعور کی سطح پر ہی انسان خالق کی ذات اور صفات کا معترف ہوتاہے۔
خالقِ کائنات کی تعریف کو حمد کہتے ہیں۔ حمد وہ تعریف ہے جس میں معرفت شاملِ حال ہوتی ہے۔ ذکر … تعریف ہے یا اعتراف !! انسان کاذکر… فکر کے بغیر نامکمل ہے۔ دراصل فکر ایک خاموش ذکر ہے…اورذکر ایک فکر ہے… باآوازِ بلند !!
’’اللہ اکبر‘‘کہنے والااس تعریف اور عرفان کے سبب باقی سب مخلوقات سے ممتاز ہو جاتا ہے… لیکن وہ اِس امتیاز کااعلان اَز خود نہیں کرتا… بلکہ ’’فاذکرونی اذکرکم ‘‘کے فیصلے کے تحت مخلوق ِ خدا اْس کے ذکرِ خیر میں مشغول ہوجاتی ہے… اور اْس کی معرفت‘ خدا کا عرفان پانے لگتی ہے۔
خالق کی یکتائی… بندگی کی دوئی چاہتی ہے۔ کائنات اور خالقِ کائنات کے درمیان ایک بامعنی رشتہ ہے … اور اس کی معنویت کا معین اِسمِ محمدؐ ہے … کائنات اِسمِ محمدؐکی تشریح ہے … اور موجودات محوِ نعت ہیں۔’’نعت‘‘ کے لغوی معنی وصف بیان کرنے کے ہیں، خصوصاََجب توصیف میں مبالغے سے کام لیاجائے۔ جب نعت کی تعریف یہ ہے تو اْنؐ کی تعریف کا عالم کیا ہو گا، جنؐ کی تعریف کو نعت کہا جاتاہے! درحقیقت اْنؐ کی تعریف میں کبھی غلو نہیں ہوسکتا… کیونکہ اْنؐ کا تو نامِ نامی ہی ’’سب سے زیادہ تعریف کیاگیا‘‘ ہے۔ توصیف ِ احمدؐ … ذاتِ احد کی معرفت کا واحد ذریعہ ہے۔ اْنؐ کی تعریف کی کوئی حد نہیں… کیونکہ معرفت ِ ذاتِ الٰہی کی کوئی حد نہیں۔ درحقیقت توصیف ِ مصطفیؐ ہی انسان میں اوصاف ِ انسانیت اْجالنے کا بہترین راستہ ہے… کہ یہی تذکرہ، تزکیۂ نفس بھی کرتاہے … اور تصفیۂ قلب بھی! ! ذکرِشہِ لولاکؐ ہی خاک کو رفعت ِ افلاک عطا کرتاہے … … سچ کہا واصف ِ ؒ حسنِ احمدؐ نے…
خاک کو رفعت ملے ‘ بے بال وپر کو پَر ملے
نعتِ پیغمبرؐ سے جب عرفانِ پیغمبرؐ ملے


ای پیپر