ہر شخص یہاں پر تاجر ہے
07 مارچ 2018 2018-03-07

دنیا بھر کی تجارتی منڈیوں میں ایک منفی روایت پائی جاتی ہے کہ فروخت کار اپنا مال بیچنے کے لئے گاہک کو انتہائی اعلیٰ درجے کا سیمپل دکھاتے ہیں مگر بعد ازاں گھٹیاں اور 2 نمبر مال بھیچ کر وقتی منافع کما لیتے ہیں۔ لیکن اس طرح کی دھوکہ بازی Sustainable یا پائیدار نہیں ہوتی۔ لہٰذا ایک دفعہ دھوکہ کھانے والے دوبارہ ایسی کمپنی کا مال نہیں لیتے۔ لیکن بات سیاست کی ہو اور مقام پاکستان ہو تو یہاں یہ اصول فرسودہ ہے ۔ لہٰذا یہاں اگر آپ سیاسی سودا بیچ رہے ہیں تو آپ اپنے گاہکوں یا عوام کو جتنی بار دھوکہ دیں گے رولز آف گیم ہی ایسے ہیں کہ آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔
حالیہ سینٹ انتخابات میں سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی نے نچلی ذات کی ایک ہندو ورکر کرشنا کماری کو سینٹ سیٹ پر منتخب کروا کر ایک ایسا سیاسی سیمپل تیار کرلیا ہے جس کے بل بوتے پر اس کی پوری کی پوری لاٹ ہاتھوں ہاتھ بک جائے گی جس میں 462 ارب کی کرپشن سے لے کر قبضہ مافیا ، بد عنوانی اور بندر بانٹ کے سارے کرداروں کو آب زمزم سے دھوکر پاک کردیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے مشاہد حسین اور پرویز رشید جیسے لوگوں کو اپنا برانڈ ایمبیسڈر بنا کر اپنے سارے ارب پتی پارلیمنٹیرین ان کے پیچھے چھپا لئے ہیں۔ یہ ہمارے سینٹ انتخابات کی ایک بہت معمولی سے جھلک ہے ۔ پختونخوا میں پیپلزپارٹی نے ایسی ہنر مندی دکھائی کہ 6 ایم پی اے ان کے پاس تھے مگر انہوں نے سینٹ کی 2 سیٹیں حاصل کرلیں جبکہ حکمران تحریک انصاف 44 سیٹوں سے صرف 6 سینٹر منتخب کراسکی۔ اسی طرح پنجاب میں تحریک انصاف کے 31 ایم پی اے تھے مگر چوہدری سرور کو 44 ووٹ ملے جو ایک سرپرائز سے کم نہیں۔
یہ بات بچہ بچہ جانتا ہے کہ سینٹ کے انتخابات میں کھلا پیسہ چلتا ہے ۔ اس سال ایک سیٹ 50 ،50 کروڑ تک میں فروخت ہوئی ہے ۔ بلوچستان اور فاٹا کا ریٹ اس سے بھی زیادہ ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکمران ن لیگ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی سب یک زبان ہو کر کہہ رہے ہیں کہ پیسہ چلا ہے ، اس گنگا میں سب نے ہاتھ دھوئے ہیں۔ فروخت پر سب متفق ہیں البتہ خریداری کا اعتراف کوئی نہیں کر رہا۔ ن لیگ کے جن لوگوں نے پنجاب میں خفیہ طورپر چوہدری سرور کو ووٹ دیا ہے ان کی سوچ یہ تھی کہ سینٹ کی سیٹیں جب پارٹی کی اعلیٰ قیادت فروخت کرتی ہے تو اس سے ایم پی اے کو کچھ نہیں ملتا لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی قیمت خود وصول کریں گے۔
الیکشن ریفارم تجاویز میں تحریک انصاف نے تجویز دی تھی کہ سینٹ کے انتخابات میں پیسے کا استعمال روکنے کے لئے یا تو ان کا انتخاب خواتین کی مخصوص نشستوں کے طرز پر کردیا جائے جس میں پارٹیوں کو عددی اکثریت کی بنا پر سیٹیں دی جائیں یا پھر امریکہ کی طرح سینیٹر کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹ سے کیا جائے۔ لیکن ان کی یہ دونوں تجاویز اس لئے مسترد کردی گئیں کیونکہ ن لیگ کی اکثریت تھی اور پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر ان کی بات مان لی جاتی تو سینٹ سیٹوں کی خریدو فروخت کا خاتمہ کیاجاسکتا تھا۔ سینٹ کی سیٹ کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ ایک تو یہ ہے کہ امیدوار سوچتے ہیں کہ انتخاب لڑنے پر بہت زیادہ خرچہ آتا ہے اور ہار جائیں تو رقم ڈوب جاتی ہے یہ ایک طرح کی محفوظ سرمایہ کاری ہے جس میں مال خرچ کر کے سیٹ Secure کرلی جاتی ہے ۔ یہ کام زیادہ تر وہ لوگ کرتے ہیں جن کی سیاسی بیگ گرائونڈ نہیںہوتی مگر ان کے پاس پیسہ وافر ہوتا ہے یا پھر وہ ہوتے ہیں جو الیکشن ہار جاتے ہیں مگر پھر بھی ہر قیمت پر پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہتے ہیں یا کرشنا کماری اور پرویز رشید اور مشاہد حسین جیسے لوگ ہیں جو اس طریقے سے روز گار حاصل کرتے ہیں۔ مراعات حاصل کرتے ہیں اور سیاسی آقائوں سے وفاداری کا حق ادا کرتے ہیں۔ کارپوریٹ اور سرمایہ کار سینٹ میں اس لئے آتے ہیں کہ یہاں بیٹھ کر اپنے کاروباری مفادات کی حفاظت کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کوئی ایسا قانون پاس نہ ہونے دیا جائے جس سے ٹیکسوں کا بوجھ غریبوں سے امیروں کی طرف منتقل ہوتا ہے ۔ اس وقت غریب لوگ80 فیصد اور امیر لوگ 20 فیصد ٹیکس اداکر رہے ہیں اور یہ سارا Indiredt Taxes کا کمال ہے ۔ کرشنا کماری کو کہیں کہ اس کو تبدیل کر کے دکھائے یا کم از کم اس پر سینٹ میں بات کر کے دکھائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیا کرنا چاہتی ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں سندھ میں بچپن کی شادیوں کی روک تھام کیلئے کام کروں گی۔ دراصل پیپلزپارٹی کو ایسے ہی لوگوں کی تلاش ہوتی ہے جو ان کی جنبش ابرو پر فرماں برداری کریں۔
اس وقت ن لیگ سینٹ میں اکثریت حاصل کر چکی ہے جن کے پاس 33 نشستیں ہیں 20 پیپلزپارٹی کے پاس ہیں جبکہ تحریک انصاف کے پاس 12 ہیں فاٹا سے منتخب ہونے والے 2 سینیٹر ن لیگ کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ سب سے زیادہ مہنگا ووٹ فاٹا کا ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ برسر اقتدار پارٹی کے آگے بکتے ہیں کیونکہ انہوں نے سینیٹر بننے کے بعد پولیٹیکل ایجنٹ اپنی مرضی کا لگوانا ہوتا ہے جسے فاٹا میں وہی حیثیت ہوتی ہے جو انگریز دور میں برطانوی وائسرائے کی ہوتی تھی۔ اس لئے فاٹا سینیٹر کو اگر ایک ارب روپیہ بھی دینا پڑے تو یہ اس لئے سستا ہے کہ اس کے نتیجے میں بنایا جانے والا مال کہیں زیادہ ہے اور ایک عمومی وجہ یہ بھی ہے کہ ایم این اے یا ایم پی اے کو تو اسمبلی تحلیل ہونے کا خطرہ بھی ہوتا ہے مگر سینیٹر اپنے 6 سال پورے کرتا ہے ۔ ایک دفعہ سینیٹر بن جائو مزے ہی مزے ہیں۔سینٹ کے چیئرمین کے انتخابات میں امکان یہ ہے کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی آپس میں سمجھوتہ کر جائیں گی۔ اس کا کریڈٹ تحریک انصاف کو جائے گا اور سمجھا یہ جائے گا کہ دو ہاتھیوں نے ایک چیونٹی سے خوف زدہ ہو کر آپس میں اتحاد کیا ہے ۔ یہ پہلے بھی ہو چکا ہے ۔
ان انتخابات کی جمہوریت کیلئے مثبت بات یہ ہے کہ ن لیگ سینٹ میں اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ اگر ایسا ہوجاتا تو جتنی اکثریت انہیں قومی اسمبلی میں حاصل ہے وہ تو یہ قانون پاس کروالیتے کہ جیل میں بند سزا یافتہ شخص جسے کرپشن کے الزامات میں سزا سنائی گئی ہے وہ بھی ملک اور پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے اور اس کیلئے جیل کو وزیراعظم ہائوس کا درجہ دینے کی قانون سازی ہوچکی ہوتی۔ ایک بات تو تسلیم شدہ ہے کہ چیئرمین سینٹ تحریک انصاف کا نہیں ہوسکتا۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں ڈیل کے بعد جو بھی بنے گا جس پارٹی کا بھی ہوگا وہ ایسا ممنون قسم کا بندہ ہوگا جو اپنی پارٹی قیادت کے منشی کے طورپر ایوان کو چلائے گا جس کا ریموٹ کنٹرول پارٹی سربراہ کے ہاتھ میں ہوگا۔
جس طرح دو بار خاتون وزیراعظم بننے سے پاکستان میں خواتین کے مسائل حل نہیں ہوسکے اسی طرح کسی غریب آدمی کو سینیٹر بنانے سے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ملک میں غربت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس لئے کرشنا کماری کے انتخاب سے امیدوں اور آ رزوئوں کی فصل تیار کرنا خود فریبی ہے ۔
اس وقت سینٹ کے انتخاب کے مروجہ طریق کار کا خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ یہ سسٹم مکمل طورپر فیل ہوچکا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ارکان سینٹ کا انتخاب عوام کے براہ راست ووٹ سے کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کی جائے لیکن یہ ترمیم کبھی نہیں ہوگی کیونکہ اس سے بڑی پارٹیوں کی قیادت کو اربوں روپے کا نقصان ہوگا اور خریدو فروخت کا دھندا بند ہوجائے گا۔ جس دن براہ راست ٹیکس اور براہ راست ووٹ برائے سینٹ جیسے فیصلوں پر عمل درآمد ہوگیا وہ سمجھ لیں کہ پاکستان میں انقلاب کا باعث ہوگا۔ مگر بقول حبیب جالب
یہ شخص یہاں پر تاجر ہے
ہر روز تجارت ہوتی ہے
کیا لوگے تم دلداری کا
غمخوار بنو گے کتنے میں
تم پیار کرو گے کتنے میں


ای پیپر