10پونڈ کا مرد ، 1پونڈ کی عورت
07 مارچ 2018

عظیم سائنسدان گلیلیوسنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کوتیار نہیں تھا ، پسیا یونیور سٹی میں اس کے ہم جماعت اور اساتذہ کیلئے ا رسطو ایک ہیرو کی طرح تھامگر گلیلیو کا ماننا تھا کہ ارسطو کی بعض دریافتیں تکنیکی اعتبار سے درست نہیں ۔ مثال کے طور پر ارسطو کا کہنا تھا کہ اونچائی سے 10پونڈ کی گیند اور 1پونڈ کی گیندایک ساتھ ، ایک ہی وقت میں ، ایک جتنی اونچائی سے زمین کی طرف پھینکی جائیںتو 10پونڈ وزن کی گیند دس گنا زیادہ تیزی کے ساتھ زمین تک پہنچے گی۔مگر جب گلیلیو نے اپنی یونیورسٹی میں بتایا کہ یہ تھیوری غلط ہے تو اس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ گلیلیو شہر کے اونچے خمیرہ مینار پر چڑھ گیا اور اعلان کیا کہ وہ ارسطو کی تھیوری غلط ثابت کرے گا۔لوگ اکٹھے ہو گئے ، سب انگشت بدنداں انتظار کرنے لگے کہ کب ان کے ہیرو ارسطو کی بات سچ ثابت ہو اور یہ نوجوان غلط ثابت ہو لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ گلیلیو نے مینار سے 10پونڈ اور 1پونڈ کے بال ایک ہی وقت میں زمین کی طرف پھینکے اور وہ ایک ساتھ ہی زمین تک پہنچے ۔


ہم بھی مملکت خداداد میںمرد کو 10پونڈ جبکہ عورت کو 1 پونڈ کا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔بات اکثر سامنے کی ہوتی ہے ، لیکن کوئی اس پرسوچنے اور تحقیق کرنے کو تیار نہیں ہوتا ،آزادی ایسے ہی نہیں مل جاتی۔ کیا حقوق نسواں کے نعرے لگانے سے عورتوں کو مردوں کے برابر تسلیم کرلیا جاتا ہے ؟۔ بلی جینز کو بھی اس حقیقت کا ادراک تھا کہ اگر اس نے یہ ثابت کرنا ہے کہ عورت مر د کے برابر ہوتی ہے تو اس کیلئے اسے اپنی ساری زندگی کی جدوجہد دائو پر لگانی ہو گی ، وہ سارے ٹینس کے اعزاز جو اس نے امریکہ کیلئے حاصل کئے ، وہ ساری عزت ، شہرت ، دولت ،اس کی برسوں کی ریاضت سب ختم ہو سکتاتھا۔ وہ بھی سوچ سکتی تھی کہ ایسا تو صدیوں سے چل رہا ہے ، عورت کو حقوق نہیں مل رہے تو ایک اس اکیلی کے جدوجہد کرنے سے کون سا طوفان آ جائے گا مگر اس کے دماغ میں یہ سودا سما چکا تھا کہ اس نے ثابت کرنا ہے کہ عورتیں ، مردوں سے کسی بھی طور کم نہیں ہیں۔ اسی لئے جب اسے امریکہ کے سب سے بڑے ٹینس کمپیٹیشن کے بارے میں معلوم ہوا کہ ہر مرد کو 10ہزار ڈالر جبکہ عورت کو 1800ڈالر ملیں گے تو وہ احتجاج کرنے فیڈریشن کے دفتر جا پہنچی جہاں اسے یہ سننے کو ملا کہ ’’شائقین مردوں کا کھیل دیکھنے آتے ہیں ، تم نے اتنا بھی کر لیا تو یہ بھی بہت ہے ،اب اس سے زیادہ کی امید نہ رکھو‘‘۔ بلی جینز نے اسی وقت اعلان کیا کہ وہ مردوں کے ساتھ ٹینس ٹورنامنٹ میں شمولیت اختیار نہیں کرے گی اور خواتین کا الگ ٹینس مقابلہ ہو گا کیونکہ خواتین مردوں سے کم نہیںاور پھر اس نے یہ کر کے بھی دکھا دیا ۔مزے کی بات یہ ہے کہ وہ ٹینس ٹورنامنٹ کامیابی کی طرف گامزن تھا کہ ایک کردار منظر عام پر آگیا۔ بوبی رگز ومبلڈن چیمپئن تھا اور پوری دنیا کے کروڑوں مردوں کی طرح اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ خواتین کی اصل جگہ گھر کی چار دیواری میں ہے۔اس نے بلی جینز کو چیلنج کر دیا کہ اگر عورتیں ، مردوں کے برابر ہیں تو کیوں نہ ان کے درمیان ایک ٹینس میچ ہو جائے اور اگر بوبی جیت جائے تو اس بات کو تسلیم کر لیا جائے گا کہ عورتیں ، مردوں کی برابری نہیں کر سکتیں۔ میچ کا دن طے ہو گیا ، اکثریت کا خیال تھا کہ بلی جینز ایک مرد کے مقابلے میں بری طرح ہارے گی جبکہ خواتین اس بات کی خواہاں تھیں کہ خواتین کو ان کا جائز حق ملے ۔ آخر 1973ء کا وہ دن بھی آگیا جب میچ میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ خواتین کا امریکی معاشرے میں کیا کردار رہے گا ، امریکہ کی تاریخ میں اس وقت کی سب سے بڑی لائیو ٹرانسمیشن میں کروڑوں لوگوں نے مرد اور عورت کی برابری کا یہ مقدمہ دیکھا اور آخر کار بلی جینز نے اس کھیل میں ایک مرد کو ہرا کر یہ ثابت کیا کہ خواتین کسی طرح بھی مردوں سے کم نہیں ہیں۔


وطن عزیز بھی ہر نوزائیدہ ریاست ، جڑ پکڑتے ہوئے درخت کی طرح اس مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں چیزیں اپنے عروج کی طرف جا رہی ہیں۔ اس بات سے مایوس ہوئے بغیر کہ یہاں پر تو اکثر یہ مؤقف بھی سننے کو ملتا ہے کہ ’’بھائی مشرف کا دور بڑا اچھا تھا ، عورتیں صرف گھروں میں اچھی لگتی ہیں، 99فیصد گھر سے نکلنے والی لڑکیاں اچھی نہیں ہوتیں ، وغیرہ وغیرہ‘‘۔ جبکہ میرا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کی خاتون کو اپنی جگہ بنانی ہے تو اسے سب سے پہلے مرد کی معاشی بالادستی سے نکلنے کی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ جب تک عورت معاشی طور پر اپنے پائوں پر کھڑی ہونے کی جدوجہد کا آغاز نہیں کرتی اس وقت تک اس کا مرد کی برابری اور سماجی کڑیوں سے آزادی حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہو گا۔پاکستان میں خواتین کو ان کے حقوق اس وقت ملیں گے جب ہر شعبے میں ایک ایک بلی جینز پیدا ہو گی اور وہ دھڑلے سے عورتوں کی صلاحیت منوائیں گی۔ میڈیا ، قانون ، بینکنگ و دیگر شعبوں میں خواتین کو اپنا استحصال کرنے والوں کو بے نقاب کرنا پڑے گا۔ یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ عورتیں صبر و برداشت ، محنت و ذہانت میں کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ جیسے تمام انسان ذہنی طور پر ایک جتنا ذہانت کا معیار لے کر پیدا نہیں ہوتے اسی طرح کبھی کوئی عورت ذہین ہو سکتی ہے اور کبھی کوئی مرد ۔ اگر کوئی مرد ، عورت کے مقابلے میںکم ذہین ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد عورت سے کسی بھی طرح کم ہیں۔


ہمیں صدیوں سے یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ مرد 10 پونڈ کا ہوتا ہے توعورت 1پونڈ کی ۔ وقت گزرتا جا رہا ہے مگر کوئی یہ تجربہ کرنے کی ہمت ہی نہیں کر پا رہا کہ ایک بار مرد اور عورت کو یکساں مواقعوں کے ساتھ آگے بڑھنے کی ریس میں دوڑنے کا موقع تو دیا جائے ، انہیں ایک بار بلی جینز اور بوبی رگز کی طرح کھیل کے میدان میں مقابلے پر اتارا تو جائے۔ تسلیم کہ ہم صدیوں سے مرد کوبرتر اور عورت کو کمترسمجھتے آ رہے ہیں مگر اب وقت ہے کہ اس جدید دور میں کم از کم سائنس کو ہی درست مانتے ہوئے اس تھیوری پر یقین کرلیا جائے کہ دو اجسام ایک ہی رفتار سے منزل کی طرف سفر کرتے ہیں چاہے ایک کا وزن 10 پونڈ ہو اور دوسرے کا 1 پونڈ ۔


ای پیپر