بہتری قانون کے آ گے سر جھکانے میں ہے
07 مارچ 2018

سیاست کے سبھی کھلاڑی پھٹ پڑے ہیں کہ یہ جو عدلیہ ہے انہیں کیوں جو اب دہی کے لیے اپنے پاس بلانے لگی ہے ، بھلا اس کا کیا کام امور سیاست اور امور مملکت میں
ان کا یہ خیال ہے کہ وہ چونکہ قانون بناتے ہیں اور پھر وہ اعلیٰ مخلوق ہیں لہٰذا ان سے کچھ بھی نہیں پوچھا جا سکتا اور نہ ہی ان کو کوئی ہدایت دی جا سکتی ہے مگر عدالت عظمیٰ نے تو حد کر دی ہے وہ اپنا کردار جو متعین ہے اس کے مطابق ادا کیوں نہیں کر رہی ہے ۔
یہ کیسی عجیب بات ہے کہ اہل اقتدار و اختیار اپنے متعلق کوئی بات سننے کو تیار نہیں، کوئی حساب نہیں دینا چاہ رہا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح ماضی میں انہوں نے من مرضی کی اور دولت کے انبار لگائے اسی طرح آ ج بھی آ زاد ہوں۔ عوام کو بیوقوف بنائیں، ان کا استحصال کریں، ان کی جمع پونجی کو مختلف طریقوں سے ہتھیائیں، جسے ازاں بعد بیرون ملک بھیج دیں وہاں ان کے بچے بڑے بڑے محل خریدیں ، جائیدادیں بنائیں اور وسیع کاروبار کریں۔ صرف سیاست کے کھلاڑی ہی نہیں ہر وہ شخص جو پیسا کمانے کے لیے جائز نا جائز ذرائع اختیار کر رہا ہے وہ بھی چیخ چلا رہا ہے کہ عدالت اس سے نہیں پوچھ سکتی۔ یہ تو متعلقہ ادارے ہی پوچھیں تو پوچھیں؟ انہیں معلوم نہیں کہ جب ریاست و عوام کے پیسے کو ذاتی تجوریوں میں ٹھونسا جا رہا ہو تو کوئی بھی شہری سوال کر سکتا ہے ۔ عدالت عظمیٰ کو تو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ عوام کے حقوق اگر سلب کیے جا رہے ہوں تو آ گے بڑھ کر اپنا فرض ادا کرے۔اور کیا یہاں مسلسل حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی ۔ قومی خزانے پر ہاتھ صاف نہیں کیے جا رہے۔ تھانوں اور پٹوار خانوں کے ذریعے معصوم عوام پر ستم نہیں ڈھائے جا رہے۔ سرکاری ادارے ( سویلین ) لوگوں کو ہراساں نہیں کر رہے۔ کیا ان میں رشوت کا زہر نہیں سرایت کر گیا ۔ کیا بیواؤں اور کمزوروں کی جائیدادوں پر طاقتور قبضے نہیں کر رہے، کمیشن خور مافیا سرگرم عمل نہیں ہے اور کیا غربت و بے روز گاری کے عفریت نے نوجوان نسل کو مایوس نہیں کر دیا جس سے وہ جرائم کی طرف بھی راغب ہونے لگی ہے ۔
ان تمام سوالات کا جواب سو فیصد درست نہ بھی ہو مگر ساٹھ فیصد ضرور صحیح ہو گا۔ مگر مجال ہے اشرافیہ یعنی حکمران طبقہ اسے تسلیم کرنے کو تیار ہو۔ اب جب عدالت عظمیٰ نے معمولی سی حرکت کی ہے تو بڑے بڑے جمہوریت پسند ( نام نہاد) کہتے ہوئے نظر آ تے ہیں کہ کہیں عدلیہ ریفرنڈم نہ ہو جائے۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ۔ ایک طویل عرصے سے لوگ رل رہے ہیں چیخ و پکار کر رہے ہیں، فریادیں ، ترلے منتیں کر رہے ہیں کہ انہیں مسائل سے نجات دلائی جائے، انہیں تعلیم صحت اور انصاف کی سہولتیں فراہم کی جائیں مگر ان کی کوئی نہیں سن رہا، کوئی کان نہیں دھر رہا بس لوٹ کھسوٹ ہو رہی ہے شاہانہ زندگی گزارنے کے لیے جوڑ توڑ کیا جا رہا ہے ۔ عوام کو اختیار و اقتدار سے دور رکھنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ ان کے گرد قوانین کی آ ہنی دیواریں کھڑی کی جار ہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اب قانون کی حکمرانی ہو گی مگر قانون و آ ئین نے جب سے ان کی جانب قدم بڑھائے ہیں تو ساری اشرافیہ اور اس کے ہم خیال تلملا اٹھے ہیں کہ وہ تو پوتر ہیں انہیں تو کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ لہٰذا اب صورت حال یہ ہے کہ ایک طرف حزب اختلاف بول رہی ہے تو دوسری طرف حزب اقتدار شور مچا رہی ہے ۔ مگر میں ایک بار پھر عرض کر تا ہوں کہ اسے کبھی عوام کی دہائی سنائی دی… جواب نفی میں ہو گا۔لہٰذا اگر عدالت عظمیٰ انصاف کے تقاضے کے پیش نظر غریب مفلس، بے بس اور ناتواں لوگوں کی فریاد سن رہی ہے تو اس میں کیابرائی ہے ، کون سا جرم ہے ۔ ان عدالت مخالف یا ناقدین کو سوچنا چاہیے کہ اگر ملک کی عدلیہ بھی عوام سے نظر یں چرالے اور انہیں مایوسی کے کسی نخلستان میں دھکیل دے تو پھر وہ عوام قومی جذبے سے سرشار ہو سکتے ہیں، ان کے ذہنوں میں بار بار یہ سوال نہیں پیدا ہو گا کہ کیا وہ اس ریاست کے شہری نہیں جس کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے، مگر ایک تماشا لگا دیا ہے ان سب نے کہ عدالت یہ کر رہی ہے وہ کر رہی ہے ۔ جناب عالیٰ! اس نے آ ئین کو دیکھنا ہے ، قانون کو سامنے رکھنا ہے کیونکہ عوام شروع دن سے برے حالات سے دوچار چلے آ رہے ہیں، ان پر گھوم گھما کر وہی وڈیرے سائیں ، جاگیردار اور اہل زر مسلط ہیں جو اپنے لیے آ سانیاں پیدا کرتے ہیں اور عام لوگوں کے لیے پریشانیاں۔ پھر ان پر قانون کا کوڑا برسایا جاتا ہے تاکہ وہ سہمے رہیں، ان کے آ گے سر نہ اٹھائیں، یوں یہ طبقہ ستر اکہتر برس سیدھے سادے لوگوں پر حاوی ہے اور کسی صورت اقتدار ان کو منتقل نہیں ہونے دیتا۔ اس طبقے نے اقتدار تک رسائی اس قدر مشکل اور پیچیدہ بنا دی ہے کہ ایک غریب آ دمی اس کے حصول کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ دیکھ لیجیے حالیہ سینیٹ کے انتخابات میں کس قدر پیسے خرچ کیے گئے۔ مبینہ طور سے کروڑوں اربوں کی خرید و فروخت ہوئی۔ حیرت انگیز نتائج سامنے آ ئے جس پر ہر سیاسی جماعت احتجاج کناں ہے مگر وہ یہ کیوں نہیں کہتی کہ اس کے امیدوار کو توقع زیادہ جو ووٹ ملے وہ غلط تھے۔ اُدھر تو سب ٹھیک ہے اِدھر اگر اس کے اراکین میں سے کسی نے دوسری جماعت کو ووٹ دے دیے تو غلط ہے ۔؟
بہرحال عدالت عظمیٰ نے اس حوالے سے بھی اور دوہری شہریت کے حوالے سے بھی سیاسی جماعتوں اور نو منتخب سینیٹروں کو طلب کر لیا ہے لہٰذا امید ہے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔
سوال یہ ہے کہ پیسے کے بل بوتے پر ’’منتخب‘‘ ہونا جائز ہے ۔ یہ قطعی جائز نہیں ہو سکتا کیونکہ جس نے بھی پیسہ دے کر ایوان بالا تک اپنی راہ ہموار کی ہے وہ یقینا اور طرح کے عزائم رکھتا ہوگا۔ اس نے جیب سے نکالا ہوا روپیہ واپس اس میں لانا ہے ۔ اگر وہ ایسا نہیں بھی کرتا تو وہ دوسرا کوئی متبادل پروگرام ضرور رکھتا ہو گا۔
یہ ہیں ہمارے عوامی نمائندے اور ان کے کارنامے۔ اس کے باوجود کہتے ہیں کہ وہ بڑے دیانت دار ہیں۔ عوام دوست ہیں اور آ ئین و قانون کا احترام کرنے والے ہیں بلکہ اس کے رکھوالے ہیں۔ یہی آ ئین و قانون جب کچھ پوچھتا ہے تو اس پر انگلیاں اٹھانے لگتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وقت کے تیور دیکھ لیں، صورت حال کو بھانپ لیں، ان کی روایت حکمت عملیاں اب نہیں کامیاب ہوں گی کیونکہ یہ دو منشور رور آ گہی کا دور ہے ۔ حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کا دور ہے ۔ اس میں وہ سب تبدیل ہونا ہے جس نے لوگوں کی زندگیوں کو زخمایا ہے ، ان کی راہوں میں کانٹے بچھائے ہیں۔ ورنہ ان کے رونے کی آ واز کو بھی بلند ہونے سے روکا ہے لہٰذا اسی میں بہتری ہے کہ قانون سے ٹکرانے کے بجائے اس کے سامنے سر جھکادیا جائے!


ای پیپر