آپ کے ووٹر بھی نہیں نکلیں گے
07 مارچ 2018

سینیٹ انتخابات 2018 ء میں ن لیگ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جس کی توقع بھی کی جا رہی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی دوسرے اور پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آئی ہے۔یہ امر قابل تحسین ہے کہ ملک کے سیاسی ماحول میں جہاں سینیٹ الیکشن وقت پر نہ ہونے کی چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں وہاں سینیٹ الیکشن کا وقت پر ہو جانا جمہوری نظام کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ لیکن یہاں ایک ابہام ابھی بھی موجود ہے جس میں لاجک بھی ہے اور اسے نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ابہام یہ ہے کہ ن لیگ کے جن امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں ان پر نواز شریف کے دستخط ہیں۔ اس کے علاوہ ان کاغذات
کے ساتھ پارٹی کا ایک خط بھی ہوتا ہے جس پر نواز شریف کے بطور پارٹی صدر دستخط موجود ہیں۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد تمام امیدواروں کے کاغذات بھی منسوخ ہو گئے۔ یعنی یہ امیدوار ن لیگ کے پلیٹ فارم سے الیکشن نہیں لڑ سکتے اور اگر انہوں نے الیکشن لڑنے ہیں تو انہیں دوبارہ کاغذات جمع کروانے چاہئیں۔ ن لیگ کے کاغذات والے امیدوار صرف اسی صورت میں آزاد ہو سکتے ہیں جب وہ آزاد کی حیثیت سے کاغذات جمع کروائیں۔ الیکشن کمیشن اپنے طور پر کسی امیدوار کے آزاد ہونے کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ الیکشن کمیشن نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ اس حوالے سے ہائیکورٹ میں ایک پٹیشن بھی دائر کر دی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے دائرئہ اختیار سے تجاوز کیا ہے لہٰذا سینیٹ الیکشن کو کالعدم قرار دیا جائے اور تمام امیدواروں کو اپنے کاغذات دوبارہ جمع کروانے کی اجازت دی جائے۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا کہ وہ سینیٹ الیکشن کو پندرہ دنوں کے لیے ملتوی کر دیتی اور ن لیگ سمیت تمام پارٹیوں کو دوبارہ کاغذات جمع کروانے کا حکم دیتی لیکن انہوں نے ن لیگ کے دستخط شدہ امیدواروں کو آزاد قرار دے دیا جو کسی بھی صورت میں آزاد نہیں ہیں۔اس پٹیشن کا کیا نتیجہ نکلتا ہے یہ آئندہ چند دنوں میں واضح ہو جائے گا لیکن اس سینیٹ الیکشن نے سیاستدانوں کے جمہوری اور غیر جمہوری رویوں کو سمجھنے کا موقع بھی دیا ہے۔آئیے ایک نظر ان رویوں پر بھی ڈالتے ہیں۔
سینیٹ الیکشن نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ تحریک انصاف کو اگر کوئی چیز نقصان پہنچا سکتی ہے تو وہ عمران خان کا غیر جمہوری رویہ ہے۔عمران خان پاکستان کی تیسری بڑی پارٹی کے سر براہ ہیں۔ پاکستان کا جمہوری عمل ان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا اور اس جمہوری عمل میں عمران خان اور پی ٹی آئی کا کلیدی کردار ہے۔ لیکن عمران خان کے سینیٹ الیکشن میں ووٹ نہ ڈالنے کے عمل نے تحریک انصاف کے ووٹرز کو مایوس کیا ہے۔ خان صاحب ہر وقت برطانیہ اور یورپ کے جمہوری نظام کی مثالیں دیتے رہتے ہیں لیکن جب اس نظام پر چلنے کی باری آتی ہے تو خان صاحب راہ فرار اختیار کر لیتے ہیں۔ کوئی صورت حال بھی ہو، عمران خان کو سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے ضرور آنا چاہیے تھا۔ چاہے وہ یہ جانتے تھے کہ وہ یہ الیکشن ہار جائیں گے تب بھی انہیں ووٹ ڈالنے جانا چاہیے تھا۔ اس سے نہ صرف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آپ کی پذیرائی ہوتی بلکہ آپ کے امیدواروں اور ووٹروں کو بھی جمہوری نظام کی عزت کرنے اور دوسروں کو اس نظام کی مضبوطی کے لیے کوششیں کرنے کا حوصلہ ملتا لیکن آپ نے اپنے امیدواروں کو تنہا چھوڑ دیا جو کہ قابل مذمت ہے۔
جبکہ اس کے برعکس شہباز شریف جو کہ بلڈ کینسر کے مریض ہیں اور جنہیں ڈاکٹرز نے سخت آرام کا مشورہ دیا تھا وہ بیماری کی حالت میں بھی اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے آئے۔ جبکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے ایک ووٹ نہ ڈالنے سے بھی ان کی پارٹی آسانی سے جیت جائے گی لیکن انہوں نے جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کی خاطر اور ووٹ کے تقدس کا خیال رکھتے ہوئے ووٹ ڈالا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ تمام تر مخالفت کے باوجود ان کی پارٹی نہ تو ٹوٹ رہی ہے اور نہ ہی کمزور ہورہی ہے۔جمہوری رویوں میں پیپلز پارٹی بھی عمران خان سے بہتر ثابت ہوئی ہے۔ تھر سے پیپلز پارٹی کی رکن روبینہ قائم خانی اپنے 19 سالہ بیٹے کا جنازہ گھر چھوڑ کر سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لئے اسمبلی آئی ہے۔ خان صاحب بیٹے کی موت سے بڑا صدمہ ماں کے لئے کوئی نہیں ہو سکتا لیکن جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کے لئے اور ایمان کی حد تک یقین پختہ کرنے کے لیے روبینہ قائم خانی نے ووٹ ڈالا لیکن آپ اسلام آباد میں ہوتے ہوئے چند منٹوں کے فاصلے پر واقع پارلیمنٹ ہاوس ووٹ ڈالنے نہیں جا سکے۔خان صاحب اگر آپ نے اس وجہ سے ووٹ نہیں ڈالا چونکہ آپ کو سینیٹ کے الیکشن کے طریقِ کار پر اعتراض ہے اور آپ یقین رکھتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے بغیر جیتنا نا ممکن ہے اور آپ اس ہارس ٹریڈنگ کے خلاف بھی ہیں تو پاکستان تحریک انصاف نے سینیٹ الیکشن میں حصہ کیوں لیا؟ آپ اس الیکشن کا بائیکاٹ کر دیتے۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ پنجاب سے چوہدری سرور کے منتخب ہو جانے پر آپ اور آپ کی پارٹی جشن منا رہے ہیں اور آپ نے چوہدری سرور کو مبارکباد بھی دی ہے جبکہ آپ بھی جانتے ہیں کہ پنجاب میں آپ کی پارٹی کی صرف 30 سیٹیں ہیں اور چوہدری سرور نے 44 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یہ ووٹ انہوں نے کیسے حاصل کیے ہیں؟ کیا انھوں نے بھی ہارس ٹریڈنگ کی ہے۔ یقینا آپ اس کا جواب نہیں دے پائیں گے ۔
خان صاحب وقت ابھی بھی ہاتھ سے نہیں نکلا ہے۔ آپ اپنے غیر جمہوری طرز عمل کو تبدیل کریں۔ آپ اس نظام پر تنقید ضرور کریں لیکن اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ہی اس نظام کی درستگی کے لیے اقدامات کریں۔ آپ سینیٹ الیکشن میں ووٹ نہ ڈالنے پر قوم سے معذرت کریں۔ کیونکہ جب تک آپ عملی طور پر ووٹ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے اقدامات نہیں کریں گے تب تک آپ کے ووٹر بھی ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نہیں نکلیں گے ۔


ای پیپر