پولیس تصدیق کا عمل آسان بنایا جائے
07 مارچ 2018 2018-03-07

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں تارکین وطن کی طرف سے بھجوائے جانے والے زرِ مبادلہ کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں لاکھوں پاکستانی وطن عزیز کی معیشت کی آبیاری میں مصروف عمل ہیں جبکہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی کے دن بدن چڑھتے ہوئے گراف سے پریشان یہ افرادی قوت روزگارکی تلاش میں جانے کی خواہش رکھتی ہے ۔اگر نیک نیتی کے ساتھ حالات کا تجزیہ کیا جائے تو پاکستان کے پاس فنی افرادی قوت واحد ذریعہ ہے جو بیرون ملک سے زر مبادلہ بھیج رہی ہے۔ یہ لوگ ملک کا پیسہ باہر نہیں بھجواتے حالانکہ ملک اور عوام کی خدمت کے دعویدار قوم کا پیسہ لوٹ کر بیرون ملک اثاثے بنارہے ہیں۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ملک کو لوٹنے اور قومی دولت بیرون ملک منتقل کرنے والوں کوتو ہر قسم کی مراعات حاصل ہیں مگرہنر مند افرادی قوت کو گوناں گو مسائل کا سامنا ہے اور کوئی حکومتی ذمہ دار اس طر ف توجہ ہی نہیں دیتا۔ نجی سطح پر کام کرنے والے اوورسیز پروموٹرز کی خدمات کو بھی کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

بیرون ملک روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ یہی اوورسیز پروموٹرز ہیں جبکہ سرکاری سطح پر دوسرے ممالک سے افرادی قوت کی فراہمی بارے معاہدہ جات کا ہمیشہ فقدان رہاہے۔ گزشتہ پانچ سال میں بیوروآف ایمیگریشن کی رپورٹس کے ذریعے 42لاکھ 95ہزار 977افراد کو بیرون ملک بھجوایا گیا جو کہ بد ترین معاشی بحران میں بھی ملکی معیشت کو مستحکم بنانے میں اربوں ڈالر کما کر وطن عزیز کی خدمت کررہے ہیں۔رواں سال میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے ایک قانون نافذ کیا گیا جس میں وہاں جانے والی پاکستانی افرادی قوت کیلئے لازم قرار دیا گیا کہ ویزا کے حصول کیلئے اُمیدوار اپنا پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ حاصل کرکے اسے وزارت خارجہ آف پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے سے تصدیق کروا کر دستاویزات کے ساتھ منسلک کرے بصور ت دیگر ویزا جاری نہیں ہوگا۔کسی بھی ملک کو اپنے قوانین ترتیب دینے اور نافذ العمل کرنے کا پورا حق حاصل ہے جبکہ دوسرے ممالک کا فرض ہے وہ ہر ملک کے قوانین کا احترام کرے ۔ سب سے پہلے اُمیدوار کواپنے ضلع کی سطح پر پولیس سر ٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں پولیس کے انتظامات تسلی بخش ہیں۔ ہر ضلع میں پولیس خدمت سنٹر قائم کرکے وہاں آن لائن سسٹم کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ کے اندر کریکٹر سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے ۔وزارت خارجہ پاکستان سے بھی یہ تصدیقی عمل ایک دن میں مکمل ہوجاتا ہے۔ بعدازاں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ سے تصدیق کروانے کا عمل کم از کم دو ہفتے پر محیط ہے۔اور اس تصدیق کے عمل کو مکمل کرنے کیلئے ’’گیری انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ ‘‘ کی وساطت سے گزرنا پڑتا ہے جہاں فی کس فیس پانچ (5)ہزار روپے ہے جبکہ عام آدمی کی یواے ای سفارتخانے میں رسائی نہ ہے اور اس عمل سے مکمل آگاہی بھی نہیں ہے۔جوکہ نہایت پریشان کن مرحلہ اوردرد سر بنا ہوا ہے۔ جس وجہ سے پاکستانی افرادی قوت کی مڈل ایسٹ جانے میں دلچسپی بھی کم ہورہی ہے۔ ان مشکلات کا اندازہ اس عمل سے لگایا جاسکتا ہے کہ پولیس سرٹیفکیٹ کی تصدیق کیلئے منسٹری آف فارن افیئر کیمپ آفس لاہور میں روزانہ ہزاروں افراد آتے ہیں جس وجہ سے وہاں لمبی قطار لگ جاتی ہے جس میں مرد اور خواتین شامل ہوتی ہیں۔ ان کی مشکلات اور پریشانی کا اندازہ لگانے کیلئے ارسطو ہونا ضروری نہیں۔ اس ضمن میں راقم نے منسٹری آف فارن افیئر کیمپ آفس لاہور کی اسسٹنٹ چیف آف پروٹوکول محترمہ عائشہ ابوبکر فہد سے ان کے دفتر میں ملاقات کرکے تفصیلی تبادلہ خیال کرکے مشکلات بارے آگاہ کیا جس پر انہوں نے راقم کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ تمام صورت حال فارن سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ کے نوٹس میں لائیں گی۔ یہ ایک ایسا ایشو ہے جو براہ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہورہا ہے لہٰذا وزیر اعظم، ڈی جی بیوروآف ایمیگریشن ، وزارت خارجہ آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام کو اس کا حل سوچنا ہوگا۔ اگر خدانخواستہ افرادی قوت کا گلف ممالک میں روزگار کیلئے جانا کم ہو تا رہا تو ملکی معیشت بری طرح متاثر ہوگی جو غربت، افلاس، محرومیوں، جہالت اور بیماریوں کو مزید فروغ دینے کا سبب بنے گی۔ درج ذیل چند تجاویز دی جارہی ہیں۔ اگر ان پر ہمدردانہ غور فرما کر بہتر اقدامات اُٹھا لئے جائیں تو ہمارے خیال میں مستقبل کیلئے اچھا لائحہ عمل تیار کیا جاسکتا ہے۔ نیز پروموٹرز کے نمائندگان کیلئے علیحدہ انتظام کیا جائے جہاں اُمیدواروں کو ذاتی حاضری سے نجات مل سکے اورہزاروں افراد کوقطار میں کھڑا ہونے کے بجائے چند ایک پروموٹرزآسانی سے اس کام کو کروائیں۔ وزارت خارجہ آف متحدہ عرب امارات میں پولیس سرٹیفکیٹ کی تصدیق کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہونا چاہئے۔جبکہ کورئیر سروس کی سہولت کے ساتھ ساتھ اوورسیز پروموٹرز کے نمائندگان کو بھی پولیس سرٹیفکیٹ کی تصدیق ، اُمیدوار کی عدم موجودگی میں کروانے کی اجازت ہونی چاہئے۔ گیری انٹرنیشنل پرائیویٹ لمیٹڈ کی فیس زیادہ سے زیادہ دس(10)درہم ہونی چاہئے۔اوورسیز پروموٹرز کو آن لائن سہولت فراہم کرنے کا فائدہ یہ ہو گا کہ جو کام دو سے تین ہفتہ میں مکمل ہوتا ہے وہ زیادہ سے زیادہ ایک دن میں

ہو جائے گا۔ اس طرح اُمیدواروں کو قطاروں میں لگنے، لاہور واسلام آباداور کراچی کے طویل سفر اور انتظار کی جاں گسل کوفت اور وقت وپیسے کے ضیاع سے بھی نجات مل جائے گی جس کے نتیجے میں روزگار کیلئے یو اے ای جانے والی افرادی قوت کی مایوسی بھی دور ہو جائے گی۔ ہم ایک مرتبہ پھر کہے دیتے ہیں کہ تارکین وطن کی طرف سے بھجوایا جانے والا کثیر زرِ مبادلہ وطن عزیز کی معیشت کیلئے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔سالانہ اربوں ڈالر کما کر دینے والی اوورسیز انڈسٹریز کی طرف حکومت پاکستان خصوصی توجہ دے اور بین الاقوامی سطح پر مزید نئی افرادی قوت کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ معاہدہ جات کئے جائیں۔ دوحہ، قطر،بحرین،کویت،عراق،لیبیا ،مسقط آف عمان اور دیگر ممالک سے اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔بھارت کی طرح پاکستانی افرادی قوت کا زیادہ سے زیادہ کوٹہ حاصل کیا جائے جس کے خاطر خواہ مثبت نتائج برآمد ہونگے۔


ای پیپر