زینب قتل بارے انکشافات سپریم کورٹ نے اینکر شاہد مسعودکی معافی کی استدعا مسترد کردی
07 مارچ 2018 (17:58) 2018-03-07

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قصورکی معصوم بچی کے قتل بارے انکشافات کرنے والے نجی ٹی وی کے اینکر شاہد مسعودکی طرف سے معافی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اینکراورنجی ٹی وی سے 2روزمیںجواب طلب کرلیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہاہے کہ معافی کا وقت گزر چکا آپ کو رپورٹ کی کاپی فراہم کر دیتے ہیں، جواب دے دیں لیکن قانون اثرات ذہن میں رکھیں،چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نجی ٹی وی کے اینکرڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات بارے کیس کی سماعت کا اغازکیا تو چیف جسٹس نے شاہد مسعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ رپورٹ آچکی ہے بادی النظرمین شاہد مسعود کا بیان درست نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ کی ویڈیو دوبارہ دیکھی ہے آپ ویڈیو میں چیف جسٹس سے بار بار نوٹس لینے کی بات کر رہے تھے اورآپ نے الزامات ثابت نہ ہونے پر پھانسی کی بات بھی کی۔آپ کے الزامات کی شدت کو دیکھتے ہوئے نوٹس لیالیکن آپ کے الزامات کو تقویت نہیں ملی اور آپ نے اپنے الزامات کی عدالت میں بھی تائیدکی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ کچھ لوگوں کی رائے تھی آپ کے الزامات سچ پر مبنی ہیں اس دوران ڈاکٹر شاہد مسعود نے معافی مانگنے کی پیشکش کردی تو چیف جسٹس نے کہاکہ معافی کا وقت گزر چکا ہے،پہلے غلط بیانی کو تسلیم کریں پھر معافی مانگیں،تسلیم کرنے کے بعد معافی مانگنے پر دیکھیں گے کیا کرنا ہے، عدالت نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے  نجی ٹی وی چینل کو بھی نوٹس جاری کر دیاعدالت نے جے آئی ٹی رپورٹ کی کاپی شاہد مسعود کو فراہم کرنے کا حکم دیا تو شاہد مسعود نے کہاکہ میں اپنا مقدمہ واپس لے لیتا ہوں، چیف جسٹس نے کہاکہ اب دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہوگا، انصاف نظر آئے گااب معاملہ معافی پر ختم نہیں ہوگاکیونکہ جے آئی ٹی رپورٹ کہہ رہی ہے آپ کا دعوی درست نہیں آپ نے اپنے پروگرام میں بار بار کہا کہ چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی درخواست کرتا ہوں، شاہد مسعود نے یہ بھی کہا کہ دعوی غلط ہونے پر پھانسی دے دیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت پر کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کی معلومات درست نہیں غلطی تسلیم کرلیں، جے آئی ٹی رپورٹ آ گئی ہے آپ بتائیں اس پر کیا کہتے ہیں، آپ کے دعوے کے قانونی اثرات کا فیصلہ کرنا ہے،شاہد مسعود کے وکیل نے کہاکہ ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ یہ معاملہ ڈارک ویب سائٹ کا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ رپورٹ کی کاپی ہم دے دیتے ہیں۔ مقدمہ کا دفاع کریں گے تو قانونی نتائج بھی ہوں گے معافی کا وقت بھی گزر چکا ہیاپ اپنا مقدمہ لڑیں جس پر وکیل نے کہاکہ ہم کمیٹی کی رپورٹ کو دیکھنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ مقدمہ لڑنا ہے ہا نہیں۔چیف جسٹس نے وکیل سے کہاکہ کل تک تحریری اعتراضات دے دیں کیس کو سن لیں گے۔وکیل نے کہاکہ ڈارک ویب سائٹ پر پاکستانی لڑکیوں کی فوٹیج موجود ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ان فوٹیجز کا آپ سے تعلق نہیں ہے آپ نے جو کہا ہم اس حد تک محدود رہیں گے۔آپ کے الزامات کس حد تک درست ہیں جائزہ لے رہے ہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہاکہ کچھ لوگوں نے رائے دی الزامات جھوٹے ہیں،آپ کو معافی کا موقع دیا گیالیکن آپ نے کہا کیس کو فیس کروں گا، آپ کے الزامات کے لیے جے آئی ٹی بنائی جس پر وکیل نے کہاکہ میرے موکل کو جے آئی ٹی رپورٹ نہیں ملی،چیف جسٹس نے شاہد مسعود کے وکیل سے استفسارکیا کہ کیا آپ جے آئی رپورٹ پر کیس آگے چلانا چاہتے ہیں؟ تو وکیل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ دیکھنے کے بعد جو مناسب لگا وہ کریں گے،سرگودھا میں بھی ایسا کیس سامنے آیا ہے انٹر پول نے پاکستانی حکام سے رابطہ کیا، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کو رپورٹ کی کاپی فراہم کر دیتے ہیں، جواب دے دیں لیکن قانون اثرات ذہن میں رکھیں، اب معافی کا وقت نکل چکا ہے، وکیل شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ کیس لڑیں گے لیکن رپورٹ دیکھنی ہے،اس دوران شاہد مسعود نے کہاکہ یہ بڑا ایمرجنسی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ جمعرات تک تحریری جواب دے دیں کیس کو سن لیں گے، چیف جسٹس نے کہاکہ ڈراک ویب سائٹ پر پاکستانی لڑکیوں کی فٹیج موجود ہے لیکن اس فٹیج کا آپ سے تعلق نہیں ہے، آپ نے جو کہا ہم اس حد تک محدود رہیں گے، آپ کے الزامات کس حد تک درست ہیں اسکا جائزہ لینا ہے آج آپ نے پھر ایک موقع ضائع کردیا، اب معافی نہیں معافی سے آگے بھی کچھ ہوگاعوامی سطح پر الزامات کو جھوٹا ماننا ہوگا ، رپورٹ پر جواب دیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔


ای پیپر