عہدہ نہیں فرد
07 مارچ 2018

سینٹ انتخابات کا حتمی مرحلہ مکمل ہو چکا۔اب اگلے چند روز چیئر مین،ڈپٹی چیئر مین سینٹ کے عہدہ جلیلہ کیلئے جوڑ توڑ جاری رہے گا۔لیکن یہ گردبھی جلد ہی بیٹھ جائے گی۔ان دنوں عہدوں پر انتخاب کے بعد ماحول نارمل ہو جائے گا۔اور جمہوریت کے اگلے مرحلۂ پانچ سال کے بعد عام انتخابات کیلئے تیاریاں شروع ہو جائیں گی۔ اصل مرحلہ عام انتخابات کے انعقادکا ہی نہیں بلکہ اس مائنڈ سیٹ کا ہے۔جو مسلسل اپنے بھونپوئوں کے ذریعے یہ تھیوریاں مارکیٹ میں فلوٹ کر رہا ہے کہ کون جانتا ہے کہ الیکشن ہونگے یا نہیں ۔اس مائنڈ سیٹ کے نقارچی سرگوشیوں میں یہ بات بھی پھیلا رہے ہیں کہ اصل کھیل تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔ابھی تو جو کچھ ہے محض سموک سکرین کے طور پر ہے۔کھیل تو اس وقت شروع ہو گا جب قومی و صوبائی اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرچکی ہوں گی۔وزیر اعظم لیڈر آف دی اپوزیشن کے ساتھ بامعنی مشاورات کے نتیجہ میں نگران وزیر اعظم کا تقرر کر چکے ہوں گے۔صوبوں میں نگران حکومتیں قائم ہو جائیں گی۔اور سیاسی جماعتیں انتخابی اکھاڑے میں اترچکی ہوں گی۔ پنجاب کے سیاسی کھلیانوں میں،کے پی کے کوہساروں،بلوچستان کے ریگ زاروں، وادی مہران کے جنگلوں میں معرکہ برپا ہو گا۔ تب اچانک کچھ ایسا ہو گا جو کسی کی توقع میں بھی نہیں ۔نقارچی کہانیاں سناتے ہیں آنے والے دنوں کی۔ضروری نہیں کہ وہ کہانیاں محض داستانیں ہوں لیکن امکانات کو سچائی میں تبدیل ہوتے دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ماضی میں بھی کئی بار ایسا ہوا۔ جو محض وہم تھا،گمان تھا۔وہ حقیقت بن گیا۔اب کوئی تھیوری ناقابل یقین نہیں لگتی نقارچی کہتے ہیں کہ نگران سیٹ اپ کو آئین میں متعین،مقرر کردہ عرصہ میں توسیع بھی تو دی جاسکتی ہے۔ ایسا کس طرح ممکن ہے۔ وہ اس کے خدوخال بتاتے ہیں۔ لیکن کم علم قلمکار کے قلم میں اتنی طاقت کہاں کہ اس تھیوری کو بیان کرتا پھرے۔بس یہ تھیوری ایسے ہی ہے جیسے مقدر کی دھنی۔ایک سیاسی جماعت کے سیاسی قائدین وقت سے پہلے اہم فیصلوں کی خبر مائیک اور کیمرے کے سامنے سنا دیا کرتے ہیں۔یہ تذکرہ تو سمجھنے کو یونہی لکھتے لکھتے ہو گیا۔ابھی اس تھیوری کو عیاں ہو کر سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ہو سکتا ہے کہ یہ محض شیخ چلی کی طرح جاگتے دن میں سپنے کی طرح ثابت ہو۔لیکن پھر بھی الرٹ رہنا ہو گا۔اس لئے قلمکار کے نزدیک سینٹ کے الیکشن،اس کی کمپوزیشن کی از حد اہمیت ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کے عہدوں پر کون فائز ہوتا ہے۔ویسے تو چیئر مین ہو یا ڈپٹی چیئر مین کا عہدہ دونوں کی اہمیت، ووٹنگ کے معاملے میں حیثیت ایک ووٹ کے برابر ہے۔ اصل فیصلہ تو وہ کرے گا جس کے پاس ایوان میں ارکان کی اکثریت ہو گی۔جمہوریت ایسا نظام ہے جس میں بالا دستی اکثریت کی ہوتی ہے۔لیکن پھر بھی چیئر مین،ڈپٹی
چیئر مین کی دی ہوئی رولنگ،ان کی دی ہوئی آبزرویشن انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔خاص طور پر اس وقت جب دیگر جمہوری ادارے موجود نہیں ہونگے۔ایسے میں اگر جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی خدا نخواستہ کوشش کی گئی۔اگر تیسرے مسلسل جمہوری منتخب دور کی جانب بڑھتی قوم کا رْخ موڑنے کی کوشش کی گئی۔احتساب کا لالی پاپ دے کر مینڈیٹ چھیننے کا سنہری خواب دکھایا گیا۔ایسے میں وہ صرف ایوان بالا ہو گا جو اس مائنڈ سیٹ راہ میں مزاحم ہو گا۔لہٰذا سیاسی جماعتوں کے قائدین بالخصوص مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی،تحریک انصاف،جے یو آئی کو نہایت احتیاط سے فیصلہ کر نا ہو گا۔چیئر مین،ڈپٹی چیئر مین کو عہدوں پر محض نمائشی شخصیت کو بٹھانے کی بجائے اس تر جیح کی بجائے کہ عہدے پر بیٹھا فرد کسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے۔اس امر کوملحوظ خاطر رکھنا ہو گا کہ کون ابتلا کی گھڑی میں ثابت قدم رہتا ہے۔امتحان کے موقع پر سرخرو رہتا ہے۔کسی کا نام نہیں لیتا۔سینٹ میں کئی قابل احترام شخصیات ہیں جن کے جمہوریت سے لگاؤ پرانگلی نہیں اٹھائی جاسکتی۔رضا ربانی ایک مرتبہ پھر ایوان میں آچکے۔شیری رحمان ایسی بین الاقوامی شخصیت ایوان میں موجود ہے۔سینیٹر پرویز رشید تو عشروں سے جمہوریت کی جنگ کے سالاروں میں شامل ہیں۔ان کی قربانیوں سے کون واقف نہیں ۔ راجہ ظفر الحق ایسے مدبر سنجیدہ لیکن کمیٹڈ سیاسی ورکر کی موجودگی غنیمت ہے۔مشاہد اللہ ایسا دبنگ اور کون ہو گا۔جو اس وقت مارشل لاء کے خلاف کھڑا ہو گیا جب نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہونے والوں کی گنتی نہایت مختصر تھی۔پھر حاصل بزنجو بھی تو ہیں جن کی جمہوریت نوازی مسلمہ ہے۔ایسے اور بھی ہیں کسی کا نام رہ گیا ہو تو معذرت۔بہر حال نام نہیں کردار اہم ہے۔ایسا ممکن ہے کہ نئے چیئر مین، ڈپٹی چیئرمین کو ایسی جنگ لڑنی پڑے، جو ان کے پروٹوکول کے تقاضوں کے برعکس ہو۔لیکن پاکستان سے جمہوری نظام سے،عوامی راج سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں ۔ اس وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ اپنی جماعتی بالا دستی کی جنگ جیتنا زیادہ اہم نہیں ۔تحریک انصاف کو ایسی باتیں سمجھ آنے میں ابھی کچھ دیر لگے گی۔ پنجاب میں پی پی کے ساتھ مل کر سینٹ کی سیٹ حاصل کرنے اور کے پی میں پیپلز پارٹی کے دو ارکان سینٹ کی کامیابی کی راہ ہموار کر کے پی ٹی آئی نے زمینی حقائق کے مطابق سیاست کرنے کی جانب پہلا قدم رکھ دیا ہے۔لیکن ابھی قائد تبدیلی کو یہ کڑوی حقیقتیں سمجھنے میں وقت لگے گا۔لیکن ذمہ داری پیپلز پارٹی،مسلم لیگ(ن) کی ہے۔ایسی اطلاعات ہیں رضا ربانی ایسی کسی جمہوریت پسند شخصیت کو چیئر مین کا عہدہ دینے پر تیار ہو سکتی ہیں۔یہ دونوں جماعتیں متفق ہو جائیں تو کئی متوقع رخنے بندکیے جاسکتے ہیں۔فی الحال تو پیپلز پارٹی سخت رویہ اپنائے ہوئے ہے۔جو اس کا حق بھی ہے۔لیکن سیاست پوائنٹ آف نو ریٹرن پر جانے کا نام نہیں ۔پیپلز پارٹی کے نمائندے جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ایسی خبریں ہیں کہ جن’’آزاد‘‘پرندوں پر تکیہ تھا،وہ فی الحال نخرہ دکھا رہے ہیں۔چمک دمک کے ذریعے حاصل کر دہ سیٹ سے کیا فائدہ حاصل ہو گا۔یہ تو پیپلزپارٹی کو معلوم ہو گا۔ چیئر مین سینٹ کے عہدہ پر تقرری اور اس کے حصول میں کامیابی اس بات کو ثابت کر دے گی کہ وہ عوامی جماعت ہے یا سمجھوتوں پر آمادہ سہاروں کی متلاشی جماعت۔مسلم لیگ (ن) کیلئے اگر چہ پیپلز پارٹی کی بہ نسبت کچھ آسانیاں ہیں۔ان کو چیئر مین کے عہدہ کے لئے ذرا مختصر سفر کرنا پڑے گا۔ لیکن پھر 52 ووٹوں تک پہنچ جانا دشوارمرحلہ ہو گا۔فارمولے دوتین ہی ہیں۔مسلم لیگ (ن)،پیپلز پارٹی،جے یو آئی،ایم کیو ایم مل کر الیکشن لڑیں۔پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی،آزاد ارکان متحد ہو کر یہ عہدہ حاصل کریں۔یہ بھی ہو سکتا ہے یہ عہدہ کوئی نوارد آزاداس سودے بازی میں ڈارک ہارس ثابت ہو۔بہر حال کوئی جماعت تن تنہا دونوں عہدے حاصل کرنیکی پوزیشن میں نہیں ۔اصل اہمیت عہدے کی نہیں بلکہ اس سیٹ پر بیٹھی شخصیت کی ہو گی۔سینٹ کا الیکشن ہو چکا۔ بحث،تجزیے جاری رہیں گے۔نتائج توقع کے مطابق آئے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے سیاسی مینجمنٹ کر کے میدان مار لیا۔جبکہ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کی فصیلوں میں نقب لگ کی۔


ای پیپر