قائداعظمؒ اور قیامِ پاکستان کا جواز
07 مارچ 2018

کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے قاہرہ کا سفر بھی کیا تھا…قائداعظم کا سفرِ قاہرہ، حصولِ پاکستان کے لیے ان کی ان تھک جدوجہد کا ایک روشن باب ہے۔عالم عرب آج بھی قیامِ پاکستان کے مقاصد سے الا ماشاء اللہ بے خبر ہے۔ اس وقت جب کہ پاکستان منصہ شہود پر بھی نہیں آیا تھا عربوں کوقیامِ پاکستان کے اسباب و مقاصد سے آگاہ کرنا کتنا ضروری تھا، قائداعظمؒ کا سفر قاہرہ اسی کی نشاندہی کرتا ہے۔قائداعظم عالم عرب کومطالبۂ پاکستان کے اسباب سے آگاہ کرنے کے لیے عرب دنیا کے اہم ترین علمی مرکز قاہرہ تشریف لائے۔ انہوں نے یہاں کے اہم اصحاب سے ملاقاتیں کیں اور قاہرہ ریڈیو کے ذریعے مصری عوام سے بھی مخاطب ہوئے ۔ذیل میں ان کے اس سفر کے کچھ نقوش پیش کیے جارہے ہیں :
قائداعظمؒ لندن کانفرنس سے واپسی پر قاہرہ تشریف لائے وہ ۱۵/دسمبر ۱۹۴۶ء کو لندن سے روانہ ہوئے اور مالٹا میں مختصر قیام کے بعد ۱۶/دسمبر کو تین روزہ قیام کے لیے قاہرہ پہنچے ۔اس سفر میں نواب زادہ لیاقت علی خان اور محترمہ فاطمہ جناح بھی ان کے ہمراہ تھے۔یہاں پروفیسر صادق نارگو اور ان کے رفقا نے قاہرہ ایئرپورٹ پر قائداعظم کو خوش آمدید کہا۔پروفیسر صادق مصر میں ہندوستانی مسلمانوں کی تنظیم کے صدر تھے۔ قاہرہ پہنچ کر ایک بیان میںقائداعظم نے اپنے دورہ مصر کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اہل مصر کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان کس مقصد کے لیے جدوجہد کررہے ہیں اور یہ کہ اگر ہم حصول پاکستان کی جدوجہد میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ کامیابی اہلِ مصر کے لیے کیوں کر اہم ہے اور ہماری ناکامی اہل مصر کے لیے کس طرح خطرناک ہے …
مصر کی آزاد دستوری پارٹی کے جنرل سیکرٹری نے اسی روزشام کو ان کے اعزاز میں ایک چائے پارٹی کا اہتمام کیا۔ اس میں تقریرکرتے ہوئے قائداعظم نے کہا کہ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی جدوجہد ناکام ہو کر ہندوستان ایک ہندو ریاست کے طور پر ابھرتا ہے تو اسے خطے میں اسلام کا خاتمہ سمجھنا چاہیے ۔ انہوں نے اہل مصر کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم گہرے روحانی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیںہماری کامیابی اور ناکامی مشترک ہے۔
قیامِ قاہرہ کے زمانے میں قائداعظم نے مختلف مصری راہ نمائوں اور مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی سے ملاقاتیں کیں۔دیگر راہ نمائوں میں عرب لیگ کے سیکرٹری عبدالرحمن اعظم پاشا،وزیراعظم نوکریشی پاشااور وفد پارٹی کے لیڈر نحاس پاشا شامل تھے۔اس کے علاوہ انھوںنے عجائبات عالم میں شامل مصر کے مشہور اہرامات کی سیر بھی کی۔ یہ اہرامات قاہرہ سے کچھ دور جیزہ میں واقع ہیں۔ اس یادگار سیر کی جو تصویر محفوظ ہے اس میں قائداعظم اونٹ پر سوار ہیں۔ ان کے ساتھ کے دوسرے اونٹ پر محترمہ فاطمہ جناح ہیں۔ ایک تیسرے اونٹ سوار بھی دکھائی دے رہے ہیں ۔عقب میں خوفو کا
ہرم اور ابوالہول نمایاں ہیں، یہ ایک یادگار تصویر ہے ۔قائداعظم کا اونٹ اس جگہ پر ہے جہاں آج کل سائونڈ اینڈ لائٹ شو کے لیے مستقل کرسیاں نصب ہیں ۔اس موقع کی دیگر تصاویر بھی قابل توجہ ہیں۔ ایک تصویر تو وہ ہے جس میں قائداعظم ،مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی سے ملاقات کررہے ہیں، درمیان میں ترجمان جھک کر مفتی اعظم کی بات سن رہا ہے اور دونوں راہ نما ایک صوفے پر ایک دوسرے کے بہت قریب بیٹھے ہیں ۔ایک تصویر مصری علماء کے ساتھ ہے۔ مفتی اعظم فلسطین اس میں بھی موجود ہیں۔ عقب میں مصری علماء کھڑے ہیں ۔ان کے ساتھ قائد ملت لیاقت علی خان بھی دکھائی دے رہے ہیں۔قاہرہ میں قائداعظم کی پریس کانفرنس کی یادگار تصویر بھی محفوظ ہے۔ قائداعظم کے ساتھ لیاقت علی خان نمایاں ہیں اور عقب میں بہت سے مصری صحافی قائداعظم کی گفتگو لکھنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں، سب نے ترکی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں۔قاہرہ ایئر پورٹ پر قائد کے استقبال کا لمحہ بھی کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کررکھا ہے ۔قائداعظم سوٹ میں ملبوس اور ہیٹ پہنے ہوئے استقبال کرنے والوں کے درمیان میںکھڑے ہیں ۔استقبال کرنے والوں نے قائد کے گلے میں بہت سے ہار پہنا ئے ہوئے ہیں،قائد کے علاوہ تمام اصحاب ترکی ٹوپیاں پہنے ہوئے ہیں جو اس زمانے میں مصر کے قومی لباس کا جزو اعظم تھا۔
اس موقع پر قاہرہ ریڈیو نے قائداعظم کے دورے پر ایک رپورٹ بھی نشر کی جس میں بتایا گیا کہ قائداعظم عرب لیگ کی دعوت پر مصر تشریف لائے ہیں۔قائد اعظم سے گفتگو قاہرہ ریڈیو کے نمائندے احمد عبدالغفار نے کی۔ احمد عبدالغفار نے قائداعظم کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تیزبین اور برجستہ ذہن کے مالک ہیں۔ وہ اظہار خیال کے لیے بہترین الفاظ کاا نتخاب کرتے ہیں۔انہوں نے میرے ساتھ سنبھلے ہوئے اور نپے تلے انداز میں گفتگو کی۔ ان کی موجودگی میں میںنے ان کی متحرک سیاسی شخصیت کی حرارت کو محسوس کیا،ان کی گفتگو سے مجھ پر ان کے مشن کی عظمت واضح ہوئی اور مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ وہ ایک نڈر سپاہی کی طرح اپنی جنگ لڑرہے ہیں۔قائداعظم نے ان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا ایک ہندو ریاست بن جانا یہاں کے مسلمان باشندوں کے خاتمے کا اعلان ہوگا۔انھوںنے کہا کہ ہم شمال اور مشرقی ہندوستان میں ایک آزاد مسلم ریاست کے قیام کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے قیام پاکستان کے مقاصد پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے قیام کے ذریعے ہم دوسروں کی مداخلت کے بغیراسلام اور اپنی عظیم تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرسکیں گے باقی ہندوستان ہندوئوں کے زیر حکومت ہوگا جس میں وہ اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔
۲۰ /دسمبر ۱۹۴۶ء کی شام کو قائداعظم قاہرہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئے واپس جاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مصریوں کو ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں غلط راہ نمائی فراہم کی گئی ہے وہ ہندوستان کے حقائق سے آگاہ نہیں ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے پاس حصول پاکستان کے سوا کوئی دوسراراستہ نہیں ہے اور تازہ ترین حالات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کانگریس مسلمانوںکو کسی بھی طریقے سے اپنا محکوم بنانا چاہتی ہے۔ ہندوستان کے مسئلے کے حل کے لیے ہماری جانب سے دی جانے والی ہر تجویز کو کانگریس نے ٹھکرادیا ہے اس لیے مسلمانوں کی بقاپا کستان کے قیام ہی میں ہے بصورت دیگرہندو اکثریت انہیں کچل کر رکھ دے گی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کیوں ہندوستان کو تقسیم کروانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا مسلمانوں کے لیے اگر ہندوستان کے اتحاد کا مطلب انگریزوں کی غلامی سے نجات پا کر ہندوئوں کی غلامی کا جوا پہننا ہو تو ایسے اتحاد میں کیا فائدہ ہے؟ اگر مسلمان اپنی ایک الگ ریاست قائم کرلیتے ہیں تواس صورت میں نہ صرف یہ کہ وہ اپنے تشخص کی حفاظت کرسکیں گے بلکہ ہندوئوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات قائم کرسکیں گے۔اپنے دورہ مصر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس دورے سے معلوم ہوا کہ مصر میں کانگریس نے ہندوستان کے حقائق سے متعلق کتنا غلط پروپیگنڈا کررکھاہے یہاں میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس سے پتا چلتا ہے کہ مصریوں کو ہندوستان کے حقائق سے متعلق کتنی گمراہ کن اطلاعات پہنچائی گئی ہیں ۔میں ہر اس مصری سے جسے اپنے ملک اور ہندوستانی مسلمانوں ے سے قلبی دلچسپی ہے ہندوستان کے حالات کا مطالعہ کرنے کی اپیل کرتا ہوں ۔


ای پیپر