اب ہم صرف اپنی بقا کی جنگ لڑیں گے
07 مارچ 2018

پاکستان کے لیے امریکی دھمکیاں نئی نہیں ہیں۔ ان دھمکیوں کی جڑیں ماضی اور پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ میں انتہائی گہری ہیں۔ دسمبر2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی قومی سلامتی کی پالیسی اسی کا ایک شاخسانہ ہے۔ اس موقع پر کف در دہاں ٹرمپ کا کہنا تھاکہ ’پاکستان، امریکہ کی مدد کرنے کا پابند ہے کیونکہ وہ ہر سال واشنگٹن سے ایک بڑی رقم وصول کرتا ہے‘۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں رونالڈ ریگن عمارت میں خطاب کے دوران کہا تھا کہ ’ ہم نے پاکستان پر واضح کردیا ہے کہ جب ہم مسلسل شراکت داری قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ہم ان کے ملک میں کام کرنے والے دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی دیکھنا چاہیں گے کیونکہ ہم ہر سال پاکستان کو بڑے پیمانے پر ادائیگی کرتے ہیں لہٰذا انہیں مدد کرنا ہوگی‘۔ دسمبر میں ہی ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو بتایا کہ’ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر کشیدہ علاقوں میں یک طرفہ اقدام اٹھانے کی خواہشمند ہے جس سے دونوں ممالک کے مفاد میں تعاون کی فضا بحال ہوسکے گی‘۔ انہی دنوں امریکی نائب صدر مائیک پنس کی جانب سے بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ’ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کو ’نوٹس‘ پر رکھ لیا ہے‘۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ ’ پاکستان کو دہشت گردوں اور مجرموں کو پناہ دینے پر بہت کچھ کھونا پڑے گا لیکن امریکہ کے ساتھ شراکت داری پر پاکستان بہت کچھ حاصل کرسکتا ہے‘۔علاوہ ازیں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن یہ کہہ چکے ہیں کہ ’ امریکہ اور افغانستان وہاں کارروائی کریں گے ، جہاں پاکستان کارروائی نہیں کرے گا‘۔ یہ صریحاً پاکستان کی جغرافیائی حدود کی پامالی کی دھمکی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت نے اس سے نبردآزما ہونے کے لئے دفاعی حکمت عملی وضع کرلی ہے۔ صائب الرائے حلقوں کی تجویز ہے کہ سکیورٹی کونسل، کابینہ اور پارلیمان کے اجلاس میں جہاں دیگر معاملات و مسائل پر غور کیا جائے وہاں چین کے ساتھ مشترکہ دفاعی حکمت عملی کو اولین ترجیح دی جائے۔ علاقائی امن اور خطے میں عدم توازن کے خاتمے کے لئے یہ اقدام ازبس ضروری ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد سے چین پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان ایک تسلسل سے کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کا عتاب پاکستان پر اس لئے بھی ہے کہ سی پیک کا عظیم منصوبہ اس کے لیے درد ِ سر بنا ہوا ہے۔ اسی تناظر میں 19دسمبر2017 ء کوچین کی وزارت خارجہ نے امریکی نیشنل سکیورٹی پالیسی کی مذمت کی تھی ۔ اس موقع پر وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چنیانگ نے کہا تھاکہ ’امریکہ کو ’سرد جنگ کی فرسودہ ذہنیت‘ سے چھٹکارا پانا ہوگا،کوئی ملک عناد پر مبنی الزام تراشی کے ذریعے حقائق کو مسخ نہیں کر سکتا، نئی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں،سرد جنگ جیسی پالیسی سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں، سرد جنگ کی ذہنیت ترک کی جائے، ہم اپنی یک جہتی اور اقتدار اعلیٰ کا ڈٹ کر تحفظ کریں گے ، چین نے ہمیشہ امن کی خواہش کا اظہار کیا ہے، اپنے مفادات پر دوسروں کے استحصال کی روایت ختم کی جانی چاہئے، امریکہ وقت کی نزاکت کو سمجھے بصورت دیگر نتائج حوصلہ افزا نہیں ہوں گے ، چین و امریکہ کے مابین تعاون ہی مشترکہ مفادات کا تحفظ کر سکتا ہے، محاذ آرائی سود مند ثابت نہیں ہو گی، امریکہ کا چین کو حریف قرار دینا پہلے دیئے گئے امریکی مؤقف کی نفی ہے،امریکہ چین کی تزویراتی حکمت عملی کے حوالے سے حقائق کو قصداً غلط پیش کرنے کی کوشش نہ کرے، امریکہ چین کی ترقی اور بڑھتے اثرو رسوخ کو قبول کرے،چین دہشت گردی کے معاملہ پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے،امریکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کا ادراک کرے‘۔ واضح رہے کہ چین کی طرح روس نے بھی امریکہ کی نیشنل سکیورٹی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ امریکہ کے خطرے کے نظریے کو نہیں مانتا۔ روس نے امریکہ کی ’سامراجی‘سوچ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ محرمان اسرار جانتے ہیں کہ امریکہ کی نیشنل سکیورٹی پالیسی میں چین اور روس کو ’حریف‘ گردانتے ہوئے ان کی جانب سے امریکہ کو لاحق کئی خطرات کا ذکر کیاگیا ہے۔ امریکہ کی سکیورٹی پالیسی میں کہا گیا ہے کہ ’ چین اور دوسری کئی حکومتیں امریکی طاقت کو چیلنج کرنا چاہتی ہیں‘۔اغلب گمان ہے کہ اسی تناظر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جی وی ایل نرسیما رائو نے ٹویٹر پر کہا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حوالے سے بیان بھارتی وزیراعظم کی سفارتی کامیابی ہے‘۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان جی وی ایل نرسیما رائو نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے حوالے سے بیان بھارتی وزیراعظم کی سفارتی کامیابی ہے‘۔
یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایک تسلسل اور تواتر کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف مبینہ بین الاقوامی جنگ کی فرنٹ لائن سٹیٹ اور اپنے نان نیٹو اتحادی کو دھمکا رہی ہے۔ امریکی حکام جو کہ دنیا میں تہذیب اور شائستگی کے اکلوتے دعوے دار ہیں کیا ان سے یہ استفسار کیا جا سکتا ہے کہ اپنے اتحادیوں پر برسرعام جارحانہ تنقید کس ’برانڈ ‘ کی تہذیب اور کس ’قماش‘ کی شائستگی کی عکاسی کرتی ہے۔ عمومی طور پر ہوتا یوںہے کہ اتحادیوں کے مابین جب اختلافات یا تنازعات کے آثار رونما ہونے کے امکانات ہویدا ہوتے ہیں تو پس پردہ مکالمے اور مذاکرے کے ذریعے انہیں دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سفارت کاری کے مروجہ ضوابط میں مذاکرے اور مکالمے ہی کو مستحسن روش تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ کے موجودہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی آداب کے منافی لب و لہجہ میں پاکستان کو یوں مخاطب کرتے ہیں جیسے پاکستان امریکہ کی کوئی نوآبادی ہے۔ شائستہ اور مہذب اتحادی ممالک حساس مواقع پر بھی غیرمحتاط لب و لہجہ اپنانے اور غیرذمہ دارانہ بیانات دینے سے اجتناب برتتے ہیں۔ بادی النظر میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی خواہش ہے کہ پاکستان اپنی افواج کو افغانستان میں امریکی افواج کے ماتحت مزاحمت کار قوتوں سے جنگ لڑنے کے لئے بھیجے۔ یقینا پاکستان اس کے لئے قطعاً آمادہ نہیں۔ پاکستان دو بار امریکی جنگ لڑ چکا ہے۔ ایک جنگ میں ہمیں ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر کا ’انعام‘ ملا اور نائن الیون کے بعد ڈیڑھ عشرے پر محیط مشروط تعاون اور اتحاد کا ’صلہ‘ پاکستان کے جنوب سے شمال تک بدامنی، تخریب کاری، دہشت گردی، پاک افغان سرحد پر 36 بھارتی قونصل خانے اور خودکش بمبار ملے۔
ہمارے نزدیک وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی صدر ٹرمپ کے پاکستان مخالف ٹویٹ پر ردعمل میں درست کہا تھا کہ ’ ہم امریکہ کو پہلے ہی نومور کہہ چکے ہیں، ٹرمپ کے نومور کی کوئی اہمیت نہیں، امریکہ کو ایک ایک پائی کا سرعام حساب دینے کیلئے تیار ہیں، ٹرمپ افغانستان میں امریکہ کی ناکامی پر مایوسی کا شکار ہیں، امریکہ کو چاہئے افغانستان میں فوجی طاقت کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے، پاکستان کی طرف سے دھوکہ دینے کے صدر ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہیں پچھلے 15 سال سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے امریکہ کو بہت سی سروسز مہیا کیں جن میں پاکستانی فضائی حدود کا استعمال، نیٹو کو سپلائی اور پاکستان کے فوجی اڈے بھی استعمال ہوتے رہے۔ ان سروسز کا معاوضہ جو امریکہ نے پاکستان کو دیا، اس معاوضے کو بھی ٹرمپ نے اس 33 ارب ڈالرز میں شامل کرلیا ہے جو کہ بددیانتی ہے، ہم دنیا کو بتائیں گے حقیقت اور افسانے میں کیا فرق ہے‘۔دریں چہ شک کہ امریکی اپنی پالیسی میں ابہام کا نشانہ پاکستان کو بنا رہے ہیں۔ وہ شایداپنی ڈارلنگ مودی سرکار کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ تلخ سچ تو یہ ہے کہ طاقتور ترین فوجی طاقت امریکہ 16سال بعد بھی افغانستان میں ناکام ہے۔طاقتور ترین فوجی طاقت باعزت واپسی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے۔ ہمیں واضح الفاظ میں بتادینا چاہیے کہ ہم غیروں کے لیے دو جنگیں لڑ چکے ہیں، اب ہم صرف اپنی بقا کی جنگ لڑیں گے ۔ آرمی چیف پہلے ہی دوٹوک الفاظ میں عالمی طاقت اور اس کے حلیفوں کو’ نو مور ‘کا پیغام دے چکے ہیں۔


ای پیپر