سوشلستان…
07 مارچ 2018 2018-03-07

دوستو، بیس سے پچیس سال کے درمیان ابلاغ کے ایسے ذرائع عام ہوئے ، جن کو ’’ سوشل میڈیا ‘‘ کہا جاتا ہے ، اس کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس پر اب تک حکومت یا کسی خاص گروہ کی اجارہ داری نہیں ہے ، اس میں خاصا تنوع بھی ہے ، جس میں واٹس اپ ، فیس بک ، یوٹیوب ، ٹویٹر ، اسکائپ وغیرہ شامل ہیں ، لیکن یہ ایک بہتا ہوا سمندر ہے ، جس میں ہیرے اور موتی بھی ڈالے جاسکتے ہیں اور خس و خاشاک بھی ، اس میں صاف شفاف پانی بھی اْنڈیلا جاسکتا ہے اور گندا بدبودار فضلہ بھی ۔عام طور پر گردش میں رہنے والے لطائف، تصاویر، خبریں، ویڈیوز یا آرٹیکلز کو ہر شخص ہر کسی کو ارسال کرنا اپنا مقدم فریضہ سمجھتا ہے۔ ایسی چیزوں کو عرف عام میں "وائرل" کہا جاتا ہے، یہ لفظ "وائرس" کا رشتہ دار ہے۔ جتنا ’’وائرس‘‘ کسی جان دار اور کمپیوٹر کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں،اسی طرح وائرل ہونے والی اشیا موبائل اور اس کے مالک کے دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔
کچھ نام نہاد مولانا ٹائپ لوگ صبح کو پھولوں سے مزین سلام کی تصویر، اس کے بعد کوئی ایک آیت اور حدیث (جس کا مطلب خود ان پر بھی واضح نہیں ہوتا) اور کسی بڑے شاعر کے نام سے کوئی گھٹیا یا لچر قسم کا شعر پوسٹ کرنا عین عبادت سمجھتے ہیں۔جس پر ہم تپ کر رپلائی کرتے ہیں کہ ۔صبح صبح گڈمارننگ کے پیغامات کی جگہ، حلوہ پوری، لسی، چائے، پراٹھے بھیج دو، مارننگ خود ہی ’’ گڈ ــ‘‘ ہوجائے گی۔ایسے ہی چند عاقبت نا اندیش انتہائی مخرب الاخلاق لطیفے، تصاویر اور ویڈیوز کو اِدھر اْدھر کر کے اپنے زندہ دل ہونے کا ثبوت دینا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ جب اسی طرح کی چیزیں اپنے بچوں یا چھوٹے بہن بھائیوں کے پاس دیکھ لیں تو انہیں فوراً منافقانہ انداز میں خوفِ خدا کی بیماری لاحق ہو جاتی ہے۔صدقہ یا خیرات کی گزارش، کسی اور ملک کے گم شدہ بچے کی تصویر، ساری عمر کی قضا نمازیں ادا کرنے کا طریقہ، استخارہ کرنے والے نام نہاد مولوی صاحب کا رابطہ نمبر، نام نہاد معجزے، رمضان یا جمعے کی مبارک دینے ،کسی اسلامی مہینے کے چاند کی سب سے پہلے اطلاع دینے کے ساتھ جنت کی بشارت وغیرہ یہ کہہ کر فارورڈ کرنے کا وعدہ لیتے نظر آتے ہیں، کہ اِس پوسٹ کو شئیر کرنے سے ثواب ہو گا اور نہ کرنے سے کسی نقصان یا گناہ کی اطلاع ملے گی۔مختلف پھلوں، سبزیوں اور بادلوں وغیرہ پر اللہ کے نام والی تصاویر پیش کرنے والے ساتھ ہی یہ لکھتے ہیں کہ سبحان اللہ کہ کر شئیر کریں اور اِس پوسٹ کو شئیر کرنے سے شیطان روکے گا…
فیس بک جنریشن کے نوجوان ’’فیس‘‘ یعنی چہرے سے ہی پہچانے جاتے ہیں، کیونکہ ایسے نوجوان صرف ’’فیس‘‘ ہی بناسکتے ہیں’’بک‘‘ سے ان کا دوردور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ایسے نوجوان خوب صورت face کے نزدیک اور book سے بہت دور رہتے ہیں۔فیس بک پر میل اتنی چیک نہیں کرتے جتنی ’’فی میل‘‘اور وہ بھی فی میل(per mile)کی سپیڈ سے۔ان کی نظروں سے کوئی بھی فی میل بچ نہیں سکتی۔کسی دن اگر سٹیٹس تبدیل کرنا بھول جائیں تو وہ دن ان کے کئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔جلد کسی کے ہاں مہمان نہیں بنتے ،البتہ اْنہیں کے ہاں مہمان بننا پسند ہے جن کے ہاں وائی فائی سگنل پورے آتے ہوں۔ایسے نوجوان جن کے ہاں بھی مہمان بن کر جاتے ہیں،حال احوال سے قبل وائی فائی کا پاس ورڈ پوچھتے ہیں، پرانے لوگ کہاکرتے تھے کہ نیکی کردریا میں ڈال۔فیس بک جنریشن کہتی ہے کچھ بھی کر اسے فیس بک پہ ڈال۔
یہ تو اچھا ہوا کہ قیام پاکستان کے وقت یعنی انیس سو سینتالیس میں فیس بک اور واٹس ایپ نہیں تھا ورنہ آزادی کی جدوجہد کے لئے کوئی گھر سے نکلتا ہی نہیں، گھر بیٹھے یہ نوجوان کہہ رہے ہوتے کہ ، اس میسج کو اتنا پھیلاؤ کہ انگریز ہندوستان چھوڑ کر بھاگ جائے۔خاتون خانہ نے جب گھر کی ماسی(کام والی) کو ڈانٹا کہ تم تین دن سے کام پہ کیوں نہیں آئیں اور بتانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی۔نوجوان ماسی نے فوری جواب دیا۔باجی میں نے فیس بک پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ کردیاتھا کہ ۔ ’’آئی ایم گوئنگ ٹو گاؤں فار تھری ڈیز‘‘ صاحب جی نے اس پر کمنٹس بھی کیا تھا۔’’مسنگ یوبے بی‘‘۔فقیر نے جب ایک گھر کے دروازے پر صدا دی۔بابابھوکا ہے، کھانا دے دو۔ اندر سے آواز آئی۔باباابھی کھانا نہیں بنا، کچھ دیر ہے۔ فقیر نے کہا۔اوکے ،نوپرابلم، میں فیس بک پر ’’باباجی‘‘ کی آئی ڈی سے ہوں، کھانا بن جائے تو اسٹیٹس اپ ڈیٹ کردینا میں آجاؤں گا۔
ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں۔ فیس بک کی لڑکی اور سرکاری نلکا کسی ایک کا نہیں ہوتا۔وہ نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خود کو موبائل پہ فیس بک کا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے میں اتنا مشغول نہ رکھو کہ سامنے سے خوب صورت لڑکی گزر جائے اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔ایک نوجوان نے جب اپنی گرل فرینڈ سے پوچھا کیا تم فیس بک ’’یوز‘‘ کرتی ہو۔کہنے لگی۔نہیں میں کوئی کریم استعمال نہیں کرتی۔لڑکے نے پھر پوچھا ’’وائبر؟‘‘۔ لڑکی نے کہا۔وائپرسے زیادہ اچھا تنکوں والی جھاڑو سے پانی خشک ہوجاتا ہے۔لڑکا دل ہی دل میں ہنساپھر پوچھ بیٹھا۔واٹس ایپ چلانا آتا ہے؟۔ لڑکی نے کہا۔چلا تم لینا ،میں پیچھے بیٹھ جاؤں گی۔اسی طرح ایک کچھ زیادہ پڑھی لکھی خاتون نے جب اپنے بوائے فرینڈ سے کہا کہ ۔ کیا تم میرا فیس بک اکاونٹ کھول دو گے پلیز ؟۔لڑکے نے کہا۔ ہاں ہاں۔ کیوں نہیں۔لڑکی نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔پھر میں وہاں پیسے جمع کروا سکوں گی نا ں۔ ؟ ۔رشتہ دیکھنے کی رسم میں لڑکی کے والدین نے لڑکے سے پوچھا، کیوں بیٹا۔ کیا کرتے ہو؟۔لڑکے نے بڑے ادب سے جواب دیا۔ جی میں ایڈمن فیلڈ میں ہوں۔لڑکی کے والدین نے پھر پوچھا۔بہت خوب ، کس کمپنی میں؟؟۔ لڑکا معصومیت سے بولا۔ جی ،فیس بک پر دس گروپس کا ایڈمن ہوں۔اسی لڑکے کے باپ نے جب ایک دن غصے میں کہا۔کم بخت اس فیس بک کی جان چھوڑو،اس سے تمہیں روٹی نہیں ملنے والی۔ جس پر وہ بولا۔کوئی بات نہیں ڈیڈی،روٹی بنانے والی تو مل جائے گی۔
اب ہماری بھی سن لیں۔ گزشتہ رات جب فیس بک پر اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کیا کہ ۔آج چھت پہ سوؤں گا۔پانچ منٹ کے اندر ستر مچھروں نے لائیک کیا۔بوائے فرینڈ موبائل پر کسی کو میسیج کرتے کرتے سڑک پارکرتے ہوئے کسی گاڑی تلے کچل کر مرگیا،اس کی گرل فرینڈ میت پر رونے لگی،یہ دیکھ کر وہاں کھڑے سب لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے، جونہی اسے تسلی دینے کو آگے بڑھے تو لڑکی نے جھٹ سے اپنا موبائل فون نکالا۔اور سیلفی لے کر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ کردیا۔ بوائے فرینڈ ودھ می ایٹ قبرستان۔فِیلنگ بیوہ ودھ مولوی صاحب اینڈ سیونٹی نائن ادرز۔اسی طرح ایک صاحب کی بیگم کا انتقال ہوگیا،وہ انتہائی افسردہ تھے، ان کے دوست دل جوئی میں لگے ہوئے تھے، اچانک صاحب کو کچھ یاد آیا، کہنے لگے۔ ذرا میرا لیپ ٹاپ تو لادو۔میں اپنا اسٹیٹس ’’سنگل‘‘ کردوں۔
اب چلتے چلتے آخری بات۔اللہ پر ہمیشہ بھروسہ رکھو کیونکہ اللہ وہ نہیں دیتا جو آپ کو اچھا لگتا ہے بلکہ وہ دیتاہے جو آپ کے لئے اچھا ہوتا ہے۔ انسان کی آزمائش جتنی بڑی اور مشکل ہوگی،انعام بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔


ای پیپر