8 مارچ عورتوں کے حقوق کا دن؟
07 مارچ 2018 2018-03-07

کل 8 مارچ ہے خواتین کے حقوق کا عالمی دن۔ شہر میں اس حوالے سے ہونے والی تین عدد تقریبات میں، میں بھی مدعو ہوں۔ جو ساری کی ساری پنجاب حکومت کی مہربانی سے برپا کی جا رہی ہیں۔ ایوانِ اقبال کی تقریب کے مہمان خصوصی خود خادمِ اعلیٰ پنجاب ہیں، جو خواتین کے حقوق پر آج دھواں دھار تقریر کریں گے۔ میڈیا پر بھی پچھلے کئی روز سے عورتوں کے حقوق کا دبا دبا شور دکھائی دیتا ہے۔ مشاعرے، کانفرنسز اور خواتین کے حقوق سے آگاہی کے ایک روزہ پروگرام بھی آج کے دن کا حصہ ہیں۔ مگر صرف آج کے دن کا ۔ کل باسی اخبار، باسی کالم اور باسی خبر کی طرح کہیں ذکر نہ ہو گا اُس عورت کا ، جو صرف ایک دن کے لئے بڑی خبر، بڑے ہنگامے کا حصہ بنتی ہے، محض مغرب کی نقالی میں اور دوسرے ہی دن یہ خبر پرانی ہو کر ردی میں بک جاتی ہے۔

قارئین حقوق ِ نسواں بل کو پاس ہوئے سالوں گزر گئے۔ مگر اس کے باوجود ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 80 فیصد عورتیں اب بھی کسی نہ کسی شکل میں تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں۔ تشدد کی ایک بدترین شکل جنسی طور پر انہیں ہراساں کرنا ہے جس کے واقعات دفتروں، سڑکوں اور ہر اس جگہ پر رونما ہو رہے ہیں جہاں عورتیں کام کے حوالے سے موجود ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں ریپ، گینگ ریپ، معصوم بچیوں سے زیادتی اور بعدازاں بے دردی سے انہیں قتل کر دینے کے واقعات میں اضافہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ابھی ہمارا معاشرہ عورت کے لئے اتنا ہی غیرمحفوظ ہے جتنا 8 مارچ جیسے عورتوں کے حقوق کے لئے مقررکردہ دن سے پہلے تھا۔ حقوق ِ نسواں بل، جسے عورت کا حفاظتی حصار کہہ کر متعارف کروایا گیا تھا، اس کے بعد دیکھنے میں آیا ہے کہ اس بل سے صرف گھروں سے بھاگی ہوئی لڑکیاں ہی مستفید ہوتی ہیں۔ گھروں میں رہ کر جبر برداشت کرنے والی عورتوں کو اس بل نے کوئی آسانی نہیں دی۔

ان حالات میں یہ سوال اپنی سنجیدگی اور چبھن کے ساتھ ہمارے سامنے ہے کہ آج کی عورت سماج سے اپنے حقوق کے حوالے سے آخر چاہتی کیا ہے؟ عزتِ نفس، شناخت، وراثت میں حصہ، معاشرے میں مردوں کے مساوی درجہ، پسند کی شادی کا اختیار، مرضی سے زندگی گزارنے کا اختیار؟ خاندان، قبیلے، مسلک، فرقوں اور رسم و رواج کی وجہ سے ہمارے چاروں صوبوں میں، چند بڑے مسائل کو چھوڑ کر عورتوں کے مسائل کی شکلیں ہر جگہ الگ الگ ہیں۔

مثلاً کہیں عورت کو ملازمت کرنے کا حق چاہئے اور کہیں تعلیم حاصل کرنا اس کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کہیں وہ قبائلی نظام سے چھٹکارا چاہتی ہے اور کہیں بے جا معاشرتی پابندی سے ۔ کہیں اسے مذہب کے نام پر روا

رکھے جانے والے جبر سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے، کہیں وہ خاندان کو اپنا تحفظ سمجھتی ہے اور کہیں اپنی ترقی کے راستے کی رکاوٹ۔ ان ضمنی مسائل میں اس کے حقیقی مسائل کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔ جو کاروکاری، ونی، غیرت کے نام پر قتل، وٹے سٹے اور زبردستی کی شادیوں کی شکل میں اب پہلے سے بھی زیادہ گھمبیر ہو چکے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ میڈیا پر دکھائی جانے والی عورت کی شناخت، جو بطور جنس سامنے آ رہی ہے وہ بھی اتنی ہی گھمبیر ہے جتنے کہ دیگر مسائل۔ ان پیچیدہ سوالوں کے درمیان اگر عورت کی اصل شناخت معلوم کرنا چاہیں تو اس ٹکڑے ٹکڑے تصویرِ کائنات کے سبھی رنگ مدھم اور نقوش بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ دیہی علاقوں کی عورتوں سے پیج تھری کی عورتوں تک، یہ تصویر نہایت بگڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ جس کے اندر عورت کے اصل حقوق اور حقیقی شناخت جیسے گم ہو چکی ہے۔ دو انتہائیں ہیں جن کے درمیان ہماری آج کی عورت پھنسی دکھائی دیتی ہے۔ ایک انتہا قدامت پسندی کی ہے اور دوسری جدت پسندی کی، جسے میل ڈومیننگ معاشرے نے عورتوں کو قابو میں رکھنے اور اپنے مطابق چلانے کے لئے اختیار کر رکھا ہے۔ یہ صدیوں پرانی سوچ ہے، جو اکیسویں صدی میں بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح ان پرانی صدیوں میں تھی، جب عورتیں منڈی میں خریدوفروخت کے لئے سجائی جاتی تھیں۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس خریدوفروخت اور جبرواختیار کے معاملے کو بظاہر عورت کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے، مگر درحقیقت اسے چلایا اسی طرز پر جا رہا ہے، جیسے پہلے چلایا جاتا تھا۔ تعلیم، ترقی اور جدید تراش خراش کا لباس پہن کر بظاہر ایک طبقے کی عورت جو مرد کے شانہ بشانہ چلتی دکھائی دیتی ہے، اس پر کب زمین تنگ کرنی ہے، اور کب اُسے ہراساں کر کے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا ہے، یہ سب اب بھی معاشرے میں ہو رہا ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ اب عورت کو پچکار کر یہ جتایا جا چکا ہے ’’بے بی‘‘ تم اپنے معاملات میں خودمختار ہو۔ اپنے پائوں پر کھڑی ہو۔ اپنی مرضی کی مالک ہو۔ مگر یہ مرضی اور خودمختاری کتنی محکوم ہے، اس کا پتا اس وقت چلتا ہے جب مرد کے بنائے دائروں سے عورت باہر نکلنے کی پہلی کوشش کرتی ہے، وہیں اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی جاتی ہے اور اسے بتا دیا جاتا ہے کہ وہ کتنی خودمختار ہے۔ اس محکوم عورت کا دن ہر سال دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں آج بھی جسے ووٹ کا حق حاصل نہیں۔ دیہی علاقوں میں مرد اسے خاندانی منصوبہ بندی کی اجازت نہیں دیتا۔ نتیجتاً وہ دھڑا دھڑ بیمار اور کمزور بچے پیدا کرتی ہے اور زچگی کی پیچیدگیوں سے گزرتی مر جاتی ہے۔ دیہات میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات کی شرح دیکھ کر عورت کے مقدر سے خوف آتا ہے، جسے مرد اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے۔ونی ہو کر باپ کی عمر کے مرد کے نکاح میں آتی ہے اور عمر بھر سسرال کے جوتے کھاتی مر جاتی ہے۔ یہی عورت آج کا میڈیا دکھاتا ہے اور ریٹنگ حاصل کرتا ہے۔ عورت پر جتنا زیادہ تشدد ہو گا اتنی ریٹنگ ملے گی۔ روتی گڑگڑاتی، ساس نندوں اور شوہروں کی ماریں کھاتی یہ عورت، میڈیا پر بک رہی ہے۔ نہ ہمارے ڈراموں کے موضوعات بدلے ہیں نہ زندگی کے ۔ رہا سوشل میڈیا تو اس پر ان دنوں جنسی اور جسمانی تشدد کا شکار، ایسی ایسی ’’شاہکار‘‘ ویڈیوز جاری ہو رہی ہیں کہ مجھ جیسی کمزور دل عورت تو دیکھ بھی نہیں سکتی۔ اگر یہ ویمن ڈے کا خصوصی تحفہ ہے تو خدارا اسے بند کیا جائے۔ تشدد کے فروغ کا یہ طریقہ نہ صرف غلط ہے بلکہ ظالمانہ بھی ہے، نجانے کس طرح کے لوگ اس سے ’’لطف اندوز‘‘ ہوتے ہوں گے۔ اکیسویں صدی کی یہ مار کھاتی، ظلم سہتی عورت دیکھ کر آج سے ایک صدی قبل شروع ہونے والی عورتوں کے حقوق کی عالمی تحریک کا خیال آتا ہے، جسے 1913ء میں عورت کو معاشرتی جبر سے آزاد کرانے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔ جس کے نتیجے میں مغرب کی عورت ضرورت سے زیادہ آزادی حاصل کر کے اب اس انتہا پر پہنچ گئی ہے، جہاں آگے جانے کے راستے مسدود ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اب اس کی واپسی کا سفر شروع ہے۔ مگر ہمارے ہاں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ ہماری عورت ابھی حقوق کے نام پر ناخواندگی، وراثت سے محرومی، گھریلو ظلم و تشدد، جنسی ہراسانی، جنسی تشدد، کام کرنے کی اجازت وغیرہم جیسے بنیادی مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔ جاہل، نیم خواندہ اور محروم طبقات کی عورتیں تو رہیں ایک طرف، میں متذکرہ بالا مسائل کا شکار پڑھی لکھی خواتین کی ایک بڑی تعداد کو بذاتِ خود جانتی ہوں، جو اعلیٰ ملازمتوں کے باوجود، شوہروں کی مارپیٹ، گالی گلوچ اور بے وفائی برداشت کرتی ہیں اور اپنے بھرم بچاتی ہیں۔ یہ بھرم بچاتی اور تشدد سہتی عورت، عورتوں کے حقوق کے عالمی دن سے کیا حاصل کر سکتی ہے؟ چند جوشیلی تقریریں، تالیاں، میڈیائی ستائشی پروگرام، اقبالؒ کی شاعری کے ٹکڑے؟ اس کے بعد 8 مارچ کی رسمیں پوری ہو جائیں گی، اسے ردی میں ڈال دیں۔ سال کے باقی دن مرد کے دن ہیں، کیلنڈر بھی یہی بتاتا ہے اور کیلنڈر سے اٹھ اٹھ کر زندگی کا حصہ بننے والے دنوں کی تاریخ بھی۔ حقوق و فرائض کی دنیا میں مساوات کا باب ابھی لکھا ہی نہیں گیا۔ عورت کو جتنا چاہے گاڑی کا دوسرا پہیہ کہہ لیں، جب تک اس پہیے کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، عورت کو بطور انسان نہیں مانا جائے گا۔ اس کے بنیادی حقوق اسے لوٹائے نہیں جائیں گے۔ چاہے سارا سال 8 مارچ منا لیں، مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ مائنڈ سیٹ بدلے بغیر یہ مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔


ای پیپر