دہشت گردوں کے لاشعوری سہولت کار!
07 مارچ 2018 2018-03-07

فرانزک سائنس ایجنسی اسلام آباد میں ایک کانفرنس تھی ۔ آئی ایس پی آر ، نیب ،ایف آئی اے اور پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ میڈیا سے بھی کچھ لوگوں کو بلایا گیا تھا ۔اس کانفرنس میں جہاں شرکا ء کو کسی بھی حادثے ، جرم اور خاص طور پر دہشت گردی کے بعد کی صورت حال میں سکیورٹی اداروں کی ذمہ داریوں پر بریفنگ دی گئی وہیں بہت سی ایسی باتیں بھی معلوم ہوئیں جن کا ہمیں واقعی اس سے قبل علم نہ تھا ۔ ہمارے دوست میڈیا کے رویہ کے حوالے سے بھی شکوہ کرتے رہے ۔ فرانزک ایجنسی کے ایک عہدے دار نے شکایت کی کہ اکثر شواہد میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ کوریج کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں جس کا فائدہ دہشت گردوں کو ہوتا ہے ۔ اس موقع پر درویش نے کہا کہ آپ اس وقت تک میڈیا کو قصور وار قرار نہیں دے سکتے جب تک آپ کی جانب سے اس سلسلے میں قانون سازی نہیں کی جاتی ۔ پاکستانی صحافیوں کی اکثریت نہ صرف یہ کہ زرد صحافت کے خلاف ہے بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صحافت کا اصل مقصد ملک اور عوام کی بہتری کے لئے متحرک ہونا ہی ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ کوئی ذمہ دار صحافی قانون اپنے ہاتھ میں لے یا مجرموں کو محفوظ راستہ فراہم کرے۔ دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ بریکنگ نیوز کلچر کی وجہ سے رپورٹرز پر بھی دبائو ہوتا ہے ۔ ہمارے کئی ساتھی صرف اسی بریکنگ نیوز کے چکر میں دوران کوریج شہید ہو چکے ہیں ۔ایک بم دھماکے کے بعد اسی جگہ ہونے والے دوسرے بم دھماکے کی زد میں کئی صحافی بھی آئے ہیں ۔ میں نے تجویز دی کہ اگر تمام سکیورٹی ادارے مل بیٹھ کر ایس او پیز ترتیب دیں اور ایسے سانحات کے وقت ریڈ لائن یاپٹی لگا کر نشاندہی کر دیں کہ کس پوائنٹ سے آگے عام شہری کا آنا جرم ہے اور کس خاص پوائنٹ کے بعد میڈیا سمیت کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا آنا منع ہے تو بہت سی شکایات دور ہو سکتی ہیں ۔ اس ریڈ لائن سے آگے جانے والے پر مقدمہ درج کر کے سزا دینے پر کسی کو کوئی شکایت نہ ہو گی اور صحافیوں کا بھی مسئلہ حل ہو جائے گا کیونکہ سبھی کو علم ہو گا کہ ایک خاص حد سے آگے کی کوریج کوئی بھی نشر نہیں کر سکتا ۔ میں نے یہ بھی کہا کہ اداروں کے درمیان ایسی کوآرڈی نیشن کے لئے ہی نیکٹا بنائی گئی تھی لہٰذا ضروری ہے کہ اسے اس مقصد کے لئے فعال کیا جائے۔ خوش قسمتی سے اس تجویز پر اتفاق کیا گیا اور یہ بھی بتایا گیا کہ جلد ہی نیکٹا کے پلیٹ فارم سے ایک ایسا ہی اجلاس ہو گا جس میں اس حوالے سے معاملات طے کئے جائیں گے۔
ہماری جذباتیت کا ایک اور پہلو بھی دیکھئے ۔ جیسے ہی کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو فوری طور پر میڈیا پر بریکنگ نیوز چلتی ہے کہ ابھی تک ضلعی انتظامیہ یا پولیس کا کوئی آفیسر جائے حادثہ پر نہیں پہنچا ۔ میڈیا کا یہ دبائو اس قدر شدید ہوتا ہے کہ کم از کم ایس پی سطح کا آفیسر جلد از جلدجائے حادثہ پر پہنچتا ہے اور اکثر اوقات ڈی آئی جیز اور ان سے سینئر آفیسرز بھی پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ وہاں جا کر میڈیا ہی کے اصرار پر آن کیمرہ گفتگو کرتے ہیں تو میڈیا کو ایک بریکنگ یا ایکسکلوژیو فوٹیج مل جاتی ہے۔ حقیقتاً اس کے سوا ان کا وہاں کوئی کام نہیں ہوتاجبکہ فرانزک ایجنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کا جائے حادثہ پر فوری پہنچنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس سے جہاں شواہد ضائع ہونے کا احتمال ہوتا ہے وہیں دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر موجود سینئر پولیس افسران پر ایک اور حملہ بھی ہو سکتا ہے ۔ گزشتہ برس ہی لاہور مال روڈ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں سی سی پی او امین وینس ایسے ہی ایک خودکش دھماکے میں بال بال بچے تھے جبکہ ڈی آئی جی کیپٹن (ر) مبین اور ایس ایس پی زاہد محمود گوندل سمیت دیگرپولیس اہلکار شہید ہوئے حالانکہ وہاں ان کی بجائے ضلعی انتظامیہ کو ہونا چاہئے تھا لیکن کسی کے توجہ نہ دینے کی وجہ سے پولیس ہی احتجاجیوں سے مذاکرات کر رہی تھی۔ بہرحال جائے حادثہ پر پہنچتے ہی پولیس افسران سے فوری طور پر دھماکے کی نوعیت اور مجرموں کی پہچان کے حوالے سے سوالات کئے جاتے ہیں جبکہ سچ یہ ہے کہ کسی بھی دھماکے کے فوری بعد کسی تفتیش یا لیبارٹری تجزیہ کے بغیر مکمل معلومات فراہم کرنا کسی کے بھی بس میں نہیں ہوتا۔ جب تک تحقیقاتی ادارے خصوصا فرانزک ایجنسی کے ماہرین شواہد اکٹھے کر کے ان کا جائزہ نہیں لیں گے تب تک دھماکے کی نوعیت سے لے کر دیگر معلومات تک کا علم نہیں ہو سکتا ۔ فرانزک ایجنسی کے ماہرین نے ہم سے بار باریہی گلہ کیا کہ میڈیا کے دبائو کی وجہ سے جائے حادثہ پر پولیس کو فوری طور پر پہنچنا پڑتا ہے جبکہ وہاں پولیس ، سیاست دان یا کسی بھی تیسرے فرد کے جانے سے کرائم سین خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جس کا فائدہ مکمل طور پر دہشت گردوں کو ہوتا ہے ۔
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ریاست کا اپنا ایک سسٹم ہوتا ہے ۔بم دھماکوں سے لے کر قتل اور چوری تک کی وارداتیں پوری دنیا میں ہوتی ہیں ۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واردات کے بعد متحرک ہوتے ہیں اور تحقیقات کے نتیجے میں مجرم تک پہنچ کر اسے گرفتار کرتے ہیں جبکہ اگلا مرحلہ یعنی سزا و جزا کا فیصلہ عدالت کا کام ہے ، یہ پوری دنیا میں عام پریکٹس ہے ۔ اگر اس پس منظر کے ساتھ جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی سانحہ یا جرم کے بعد ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عمل میں کئی ادارے شامل ہوتے ہیں ۔ جرم کے فوری بعد دنیا بھر میں سب سے پہلے فرانزک ایجنسی کے ماہرین جائے واردات پر آتے ہیں اور اکثر وہ پولیس کو بھی بلا اجازت کرائم سین کے قریب نہیں آنے دیتے۔ ماضی میں یہ کام کھوجی کرتا تھا جو کُھرا تلاش کر کے مجرم کی نشاندہی کرتا تھا اور’’ کُھرا‘‘یعنی کرائم سین کے قریب پولیس سمیت کسی کو نہیں آنے دیتا تھا۔کرائم سین سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد پولیس کا کام شروع ہوتا ہے ۔ پولیس ان شواہد کی بنیاد پر ملزم کو گرفتارکرتی اور عدالت میں پیش کر دیتی ہے ۔ اس سے اگلا مرحلہ عدالت کا ہے کہ وہ ملزم کو کیا سزا دیتی ہے۔ چند برس قبل میں نے لاہور میں موجود پنجاب فرانزک لیب پر بھی ایک فیچر رپورٹ لکھی تھی۔ اس وقت پنجاب فرانزک ایجنسی کے ذمہ داران کی بھی لگ بھگ یہی شکایات تھیں کہ اکثر جائے واردات پر غیر متعلقہ افراد کے آنے سے شواہد ضائع ہو جاتے ہیں جبکہ مہذب معاشروں میں خاص طور پر ان چیزوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستانی شہری کرائم فری پاکستان کا خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے ہیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس خواب کو اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دیا جا سکتا جب تک ہم اپنی اپنی سطح پر کوشش کرتے ہوئے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی مدد نہیں کرینگے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس حوالے سے نہ صرف نصاب میں معلومات شامل کرنی چاہئے بلکہ عوامی سطح پر بھی آگہی مہم کا آغاز ہونا چاہئے تاکہ دہشتگردی اور سماج دشمن عناصر کے خلاف پوری قوم متحد ہو کر سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر فتح یاب ہو سکے۔ ہم جس طرح ایمبولنس کو پہلے گزرنے دیتے ہیں اسی طرح لازم ہے کہ پولیس اور عوام پیچھے ہٹ کر پہلے فرانزک ایجنسی کے ماہرین کو جائے حادثہ پر پہنچنے دیں ۔ پریس کانفرنس ، تجزیے اور فوٹیج کے مراحل بعد میں بھی طے ہو سکتے ہیں لیکن ہماری پہلی ترجیح زخمیوں کی جانیں بچانے کے ساتھ ساتھ د ہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم کرنے کے لئے شواہد کو ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش ہونی چاہئے۔ اس لئے لازم ہے کہ جذباتیت کاسستا چورن بیچتے ہوئے لاشعوری طور پر دہشت گردوں کے سہولت کار بننے کی بجائے ایسے کسی سانحے کے بعد کرائم سین کو فرانزک ایجنسی کے ماہرین کے لئے خالی چھوڑ دیا جائے اور پولیس سمیت کسی سیاست دان پربھی وہاں پہنچنے کے لئے دبائو نہ ڈالا جائے۔


ای پیپر