شہدائے ختم نبوت 1953ء کی یاد میں
07 مارچ 2018

مارچ کا مہینہ آتے ہی تحریک تحفظ ختم نبوت 1953ء کی رُوح فرسا یادیں قلب و جگر کے زخم تازہ کر دیتی ہیں۔اِسی تحریک کے دوران پاکستان کا پہلا مارشل لاء نافذ کر کے اُسے ختم رسالت کے پروانوں ہی کی مقدس جانوں پہ آزمایا گیااوردس ہزاربے گناہ ،معصوم و نہتے بچے، جوان اور بوڑھے شہری ناموسِ رسالت کے تحفظ کی پاداش میںخاک و خون میں تڑپا دیے گئے۔ کبھی کسی نے سوچا ہے کہ اُن پاکباز شہیدوں کا جرم کیا تھا !کیا وہ ریاست کے باغی تھے؟ کیا وہ سیاست و کرسی کے خواہش مند تھے؟ ہر گز، ہرگز نہیں،بلکہ وہ توتحریکِ مقدس تحفظ ختم نبوت کے ایثار پیشہ جاں نثار تھے جو صرف اِن تین اصولی مطالبات کی منظوری کے لئے چلائی گئی تھی:1۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔2۔قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے فارغ کیا جائے۔ 3۔قادیانی وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان کو بر طرف کیا جائے۔
ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیجیے کہ اِن مطالبات میں نہ تو طلبِ اقتدار کی ہوس جھلکتی ہے اور نہ مال و زر کی خواہش موجودہے، بلکہ اگر کوئی تمنا ،یاآرزو ہے توبس یہی ایک کہ رسولؐ اللہ کے منصبِ نبوت پرڈاکہ زنی کرنے والے منکرینِ ختم نبوت کی دستوری حیثیت متعین کرکے، اُن کے گستاخانہ قلم اورزبان کو لگام دی جائے۔تاکہ پھرکوئی منصبِ رسالت کو نقب نہ لگا سکے۔ بس یہی اِن پاک نفسوں کی رُوح کی آواز تھی جو سیالکوٹ، وزیر آباد، ملتان، گوجرانوالہ اور لاہور سے کراچی تک’’ ختم نبوت زندہ باد ‘‘کے نعروں کی شکل میں گونج رہی تھی۔ستم بالائے ستم یہ کہ سیکرٹری دفاع سکندر مرزا نے یہ فرعونی آرڈر جاری کر رکھا تھا کہ :’’مجھے یہ نہ بتایا جائے کہ کوئی ہنگامہ ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ مجھے یہ بتایا جائے کہ وہاںکتنی لاشیں گرائی گئی ہیں؟کوئی گولی ضائع تو نہیں گئی؟‘‘
تحریک کا آغاز یکدم نہیں ہوا ۔پس منظر ملاحظہ کیجیے کہ: جب پاکستان بن گیا تو مجلس احرار اسلام کے قائدین نے ملکی حالات کا بغور جائزہ لینے کے بعدجنوری9 194ء میں انتخابی سیاست سے دستبرداری کا اعلان کیا۔ اپنی جماعتی سرگرمیوں کو اِسلام کی تبلیغ، اصلاحِ معاشرہ اور تحفظِ ختم نبوت کے اہداف تک محدود کر لیا اور سیاسی میدان کومسلم لیگ کے لئے کھلا چھوڑ دیا تاکہ نوزائیدہ مملکت میں سیاسی بدامنی و محاذآرائی کی بجائے امن واستحکام اوریکجہتی واتحاد کی فضاپیداہو۔ قادیانیوں کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے اِس موقع کو غنیمت جانا اورسیاسی میدان خالی دیکھتے ہوئے پاکستان کے اقتدار پرقبضہ کرنے کا دیرینہ منصوبہ زیرِعمل لانے کا فیصلہ کیا۔چونکہ مرزا بشیر الدین 1948ء میں بلوچستان کو قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کرچکا تھااور اُس کی قیادت میں قادیانی جماعت نے نہ صرف اندرون ملک اپنی سازشوں کے جال پھیلا رکھے تھے، بلکہ قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کے حساس منصب کی بدولت بیرون ملک پاکستانی سفارت خانے جناب حمیدنظامی مرحوم کے بقول :’’قادیانیوں کی تبلیغ کے مراکز بن چکے تھے‘‘۔اِس لیے اب قادیانی پاکستان پر اَپنی حکومت کے خواب دیکھنے لگے تھے۔ ان نازک حالات میں مجلس احرار اسلام کے دُور اَندیش رہنماؤں نے تمام مکاتب فکرکو 3؍ جون1952ء کو کُل جماعتی مجلسِ عمل تحفظِ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر متحد کیااورباقاعدہ تحریک شروع کرنے سے پہلے اپنے مذکورہ بالا تین مطالبات مرتب کیے۔ جنہیں منوانے اوروزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو قادیانوں کی تمام سازشوں سے ثبوت اور دلائل کے ساتھ آگاہ کرنے کے لئے اُن سے بار ہا مذاکرات کئے ۔حکمرانوں کی بے حسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان نے مئی 1952ء میں کراچی میں قادیانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کو ایک سُوکھے ہوئے درخت اور قادیانیت کوخدا کے لگائے ہوئے پودے سے تشبیہ دے کر برسرِ عام اسلام کی توہین کا ارتکاب کر ڈالا ۔ 22؍جنوری 1953ء کو مجلسِ عمل نے اِتمام حجت کے لئے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین سے کراچی میں پھر مذاکرات کیے۔جس پر خواجہ ناظم الدین نے جواب دیا کہ:’’اگر میں آپ کے یہ مطالبات مان لوںتو امریکہ ہمیں ایک دانہ گندم بھی نہیں دے گا‘‘۔اِس کورے جواب کے باوجود مجلسِ عمل نے اپنے تین نکاتی دینی مطالبات کی منظوری کے لئے حکومت کو مزید ایک ماہ کی مہلت دے دی۔ مجلسِ عمل کی حکومت کو دی گئی ایک ماہ کی مہلت تیزی سے ختم ہوتی جا رہی تھی، لیکن حکومت ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لئے کوئی بھی قدم اٹھانے پر آمادہ نظر نہیں آ رہی تھی۔حضرت امیر شریعت مولانا سیّد عطا ء اللہ شاہ بخاری ؒ کی ہدایت پرمجلس عمل کے ایک وفد نے خواجہ ناظم الدین سے یہ معلوم کرنے کے لئے مزیدایک دفعہ پھر ملاقات کی ۔ وزیر اعظم نے حسب سابق واضح کیا کہ مجلسِ عمل کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جا سکتے۔ 22فروری کو اَلٹی میٹم کی مدت ختم ہوگئی ۔جس پر24۔25 فروری1953ء کی درمیانی شب کومجلس عمل کے زیر اِہتمام کراچی میںعظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔جس میں تمام مرکزی قائدین نے خطاب کیا۔ کانفرنس کی منظور کردہ متفقہ قرار داد کے مطابق پُرامن تحریک تحفظ ختم ِ نبوت کا آغاز کرنے کا اعلان کر دیا گیا ۔3؍مارچ1953ء کو لاہور شہر عملاً کرفیو کی زد میں آ گیا۔کرفیو کے باوجود جلوس نکل رہے تھے اور ختم نبوت زندہ باد کہنے کے جرم میں فرزندانِ ختم نبوت پر ڈنڈے برستے رہے،گولیوں کی بوچھاڑ ہوتی رہی اور ساقیٔ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم کے پروانے سینوں پر گولیاںکھا، کھا کرتحفظِ ناموسِ رسالت کے لئے جانیںوارتے رہے۔لاہور شہر میں شہدائے ختم نبوت کے پاک جسموں کے ڈھیر لگ گئے تھے۔لاہور کی تاریخ کا یہ نازک ترین دور تھا۔ 6 ؍مارچ 1953ء کو لاہور میں مارشل لاء نافذ کر دیاگیا۔حکمرانوں نے نہتے مسلمانوں پر ظلم وتشددکی تاریخ کا ایک اورتاریک باب رقم کیا ۔
اگر تحریک تحفظ ختم نبوت کے مطالبات مان لئے جاتے تو سر ظفر اللہ خان قادیانی کی جانبدارانہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان امریکہ کی غلامی میں نہ آتااورسیٹو اور سینٹو جیسے رُسوائے زمانہ معاہدوں پر دستخط کر کے پاکستان کی خود مختاری کو داؤ پرنہ لگایا جاسکتا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں قادیانیوں کی فرقان بٹالین، پاکستانی فوج کو بے دست وپانہ کرسکتی۔قادیانی جرنیل جنرل اخترملک پاک آرمی کی ہزیمت کاسبب نہ بنتا۔پلاننگ کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئر مین ایم ایم احمدقادیانی کی ملک دشمن سازشیں کامیاب نہ ہوسکتیں اورملک کا مشرقی حصہ علیحدہ ہوکربنگلہ دیش نہ کہلاتا۔ قادیانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان کے ایٹمی راز اَمریکہ اوربرطانیہ کے حضورپیش کرنے کی جرأت نہ کرسکتا۔موجودہ حکمران غیروں کی خوشنودی کے لیے قائداعظم یونیورسٹی کے نیشنل سینٹرفارفزکس کو ڈاکٹر عبدالسلام کے نام سے منسوب نہ کرسکتے ،قانونِ توہین رسالت میں تبدیلی کے عملی اقدامات نہ ہوتے اورحلف نامۂ ختم نبوت میں تبدیلی کی کوئی جسارت نہ کرسکتا۔افسوس ،صدافسوس! کہ حاکمانِ وقت نے عارضی قوت واِقتدارکے نشہ میں بدمست ہو کرپاکستان کے اِن جاں نثارو وفادار شہدائے ختم نبوت کی صدائے حق پر کان نہ دھرے ،بلکہ اُن کوآہن و بارود سے بھسم کر ڈالا۔ رہے وہ خلد آشیاں،ناموسِ رسالت پر قربان ہونے والے عظیم شہدائٖ! کہ ہمارے لیے اُن کا تذکرہ باعثِ اَجر وثواب اوراُن کی راہوں کاچلن ہمارانشانِ منزل ہے ۔ بقول جانشین امیرشریعت ؒحضرت مولانا سید ابو ذر بخاریؒ:
شہیدِ عشقِ محمدؐ کا احترام کرو
کہ اُس سے محشر و برزخ میں احتساب نہیں


ای پیپر