اندھوں کا ملک…
07 مارچ 2018

سونے کی چڑیا برصغیر پاک و ہند پر 50 سال سے زائد حکمرانی کرنے والے مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر جسے آج کی دنیا مغل اعظم، اکبر دی گریٹ اور اکبر اعظم کے نام سے جانتی ہے۔ اس باکمال اور معاملہ فہم بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا۔ وزراء، مشیر اور عمائدین چوکس و چوکنا ہو کر بیٹھے تھے۔ امور سلطنت نمٹائے جا رہے تھے۔ فریادیوں کی داد رسی کی جا رہی تھی۔ دور دراز سے آئے ہوئے وفود شرف بازیابی پا رہے تھے اور کارپردازان حکومت کو احکامات جاری ہو رہے تھے کہ ایک نابینا فریادی دربار میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا کہ وہ اور اس کی بیوی دونوں بینائی سے محروم ہیں لیکن وہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتے اس لیے حضور والا ان کے لیے کسی مناسب روزگار کا بندوبست فرمادیں تاکہ وہ محنت کر کے عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ فریادی کا انداز اتنا مؤثر تھا کہ بادشاہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اس کے دل میں خیال آیا کہ اس کی طویل و عریض حکومت میں نہ جانے کتنے اس طرح کے افراد اور خاندان ہوں گے جن کی کفالت اور خیر گیری بہرحال بادشاہ اور مملکت کی ذمہ داری ہے۔ اس نے فوری طور پر دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ مملکت میں موجود تمام نابینا افراد کی کفالت کی ذمہ داری حکومت اٹھائے گی۔ چنانچہ یک لخت درباریوں سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ ہماری مملکت میں نابینا افراد کی تعداد کتنی ہو گی۔ درباریوں اور مشیروں نے فوراً اندازے لگانا شروع کر دیئے لیکن بادشاہ کو اندازے نہیں بالکل درست تعداد درکار تھی تا کہ اس کے
مطابق وسائل فراہم کیے جاسکیں۔ اور یہ وسائل ہر نابینا فرد تک پہنچانے کا خود کار نظام وضع کیا جا سکے۔ چنانچہ اس نے اپنے سب سے جہاندیدہ اور زیرک مشیر بیربل سے یہی سوال دہرایا کہ اس کے خیال میں ہندوستان میں اندھوں کی تعداد کتنی ہے۔ ایک کونے میں خاموشی سے بیٹھا ہوا بوڑھا مشیر اٹھا اور جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا کہ حضور کی مملکت کے تمام افراد اندھے ہیں۔ بادشاہ کو جھٹکا سا لگا اور سوال کیا کہ بیربل کیا آپ بھی اندھے ہیں، بوڑھے مشیر نے دوبارہ ادب سے جواب دیا جی سب اندھے ہیں۔ اس بار بادشاہ کو غصہ آ گیا اس نے سوال کیا۔ کیسے؟ بیربل کا جواب تھا وہ کل ہی اپنے دعوے کو ثابت کر دے گا۔ بادشاہ نے اگلے دن کی مہلت اس شرط کے ساتھ دے دی کہ اگر بیربل اپنا دعویٰ ثابت نہ کر سکا تو نتائج کے لیے تیار رہے۔
اگلے دن بیربل دارالحکومت کے معروف ترین چوراہے میں پہنچا۔ اس کا منشی ایک رجسٹر کے ساتھ موجود تھا۔ دنیا کی سب سے بڑی حکومت کے سب سے اعلیٰ دماغ مشیر نے بھرے چوراہے میں چارپائی بُننا شروع کر دی۔ ہر آنے جانے والا حیرت سے دیکھتا سوال کرتا کہ بیربل یہ کیا کر رہے ہو۔ بیربل منشی کو ہدایت کرتا کہ اس کا نام اندھوں میں لکھ لو۔ شام تک یہ تعداد سیکڑوں تک پہنچ گئی۔ کسی نے اکبر اعظم کو اطلاع دی تو بادشاہ بھی اپنے درباریوں کے ساتھ چوراہے میں پہنچا اس نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا تو اسے سخت تعجب ہوا، اس نے آگے بڑھ کر سوال کیا کہ بیربل تم اتنے باعزت آدمی ہو بھرے چوک میں یہ کیا کر رہے ہو۔ بیربل نے نظر اٹھائے بغیر منشی سے کہا کے اندھوں کی فہرست میں سب سے اوپر اکبر اعظم کا نام لکھ لو… پھر ہاتھ جوڑ کر کھڑ ا ہو گیا اور عرض کی!بادشاہ سلامت آپ دیکھ رہے ہیں کہ میں چارپائی بُن رہا ہوں پھر بھی سوال کر رہے ہیں کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ سوال تو کسی اندھے ہی کو کرنا چاہیے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ مملکت کے سارے افراد اندھے ہیں۔ بادشاہ نے مسکرا کر سر جھکا لیا اور بیربل کو لے کر دربار میں آ گیا۔
آج ہماری کیفیت بھی ایسی ہی ہے ۔ جیسے آج اس ملک میں بیس کروڑ 90 لاکھ اندھے افراد بس رہے ہیں۔ یہ
ملک 21 کروڑ اندھوں کا ملک بن گیا ہے۔ یہاں کے حکمران، منصفین، افسر، عوام حتیٰ کہ ہر طبقہ کے افراد آنکھیں رکھتے ہوئے بھی اندھے ہیں۔ ملک کے ستر فیصد کے قریب بے روزگار نوجوان اور سکول نہ جانے والے 2 کروڑ سے زائد بچے اندھے حکمرانوں کو نظر نہیں آ رہے۔ غربت سے خود کشی کرنے والے سیکڑوں افراد اور دوا کے لیے ایڑیاں رگڑنے والے ہزاروں مریض اندھے حاکمان وقت کو نظر نہیں آ رہے۔ شہروں کے ہر چوک میں پھنسی ہوئی ٹریفک اندھے چیف ٹریفک آفیسر اور اس کے سیکڑوں اندھے اہلکاروں کو نظر نہیں آ رہی۔ عدالتوں میں رشوت لیتے ہوئے ریڈرز ججوں کو نظر نہیں آ رہے۔ 17 ویں گریڈ کے ڈاکٹر بیٹے کے لائے ہوئے کروڑوں روپے کے تحائف اور قیمتی گاڑیاں ، اُس کے منصف باپ کو نظر نہیں آ رہیں۔ کچرے سے روئی کے ٹکڑے چن چن کر کھانے والے بچے قریب سے گزرتے ہوئے درجنوں آنکھوں والے افراد کو نظر نہیں آ رہے۔ ماڈل ٹاؤن میں 14 بے گناہ افراد کے قاتل وزیراعلیٰ کو نظر آ رہے ہیں نہ وزیر قانون کو… شوگر ملوں کے باہر تین تین دن سے گھڑی گنے کی سیکڑوں ٹرالیاں اندھے ڈپٹی کمشنر اور اس کے عملے کو نظر نہیں آ رہیں۔ ہر تھانے میں جاری دل دہلا دینے والے تشدد اندھے کوتوال شہر کو نظر نہیں آ رہا۔ شہر کی ہر سڑک پر تجاوزات کی بھرمار، بلدیہ کے اندھے عملے کو نظر نہیں آ رہی۔ ریلوے کی سیکڑوں ایکڑ اراضی پر قبضے ریلوے کے وزیر اور اس کے اندھے افسران کو نظر نہیں آ رہے۔ ہر دوسرے تیسرے تھانے کی حدود میں پلنے والے جوأ خانے اور قحبہ خانے ایس ایچ او سے آئی جی تک کے درجنوں اندھے افسروں کو نظر نہیں آ رہے۔ تھر کے ریگستان میں بھوک سے مرتے ہوئے بچے اور چولستان کے صحرا میں بوند بوند کو ترسنے والے سیکڑوں افراد اندھے حاکمان وقت کو نظر نہیں آ رہے۔ بجلی چور واپڈا کے اندھے عملے کو نظر نہیں آتے اور امتحانوں میں نقل کرنے والے طلباء اندھے ممتحن حضرات کو نظر نہیں آ رہے۔ سرحد پار سے آنے والے اسلحہ اور منشیات سرحدوں پر تعینات دور بین لیے ہوئے اندھوں کو نظر آ رہی ہیں نہ ایکسائز کے اُن اندھوں کو جن کے بارے میں اُن کے افسران کہتے ہیں کہ ان کی دو دو چار چار آنکھیں ہیں۔ نابینا افراد کے مسائل جن کے حل کے لیے یہ مجبور و بے کس افراد کئی مہینوں سے جدوجہد کر رہے ہیں اور سڑکوں پر کئی کئی دن کے دھرنے دے چکے ہیں۔ اگر یہ احتجاج کرتے ہوئے نابینا افراد آنکھوں والے حکمرانوں کو اور ان پر تشدد کرنے والے پولیس افسروں کو نظر نہیں آ رہے تو ان سے بڑھ کر اندھاکون ہے۔ اگر والدین کو یہ معلوم نہیں کہ اُن کا بچہ کس صحبت میں اٹھ بیٹھ رہا ہے تو آنکھیں ہوتے ہوئے بھی ایسے والدین اندھے ہیں۔ ماؤں کی موجودگی میں موبائل فون کو چھپا کر میسج کرنے والی لڑکیاں اور ماں باپ سے پہلو بدل کر لیپ ٹاپ پر مصروف اپنے لڑکوں کے والدین اندھے نہیں تو کیا ہیں۔ حکمرانوں کی جنبش ابرو، غیر واضح علامات و اشارات یا مبہم زبانی احکامات کو پالیسی بنا دینے والے بیورو کریٹ اندھے ہی تو ہیں۔ سیاستدانوں کے ملکیتی اثاثوں کو ریکارڈ میں چھپانے والے وکیل اور کاروباری اداروں کے ٹیکسز کو ظاہر نہ کرنے والے آڈیٹر اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اندھے نہیں تو کیا ہیں۔ جلد یا بدیر یہ چھپائے گئے ریکارڈ سامنے آ جانا ہوتے ہیں۔ دودھ میں کیمیکل ، ادراک میں تیزاب، گوشت میں پانی اور مصالحوں میں برادہ ملانے والے آنکھوں ہی نہیں عقل کے بھی اندھے ہیں کہ انہیں یہ اندازہ نہیں کہ یہی زہر کسی نہ کسی طرح اُن کے اپنے گھر وں اور عزیزوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں بھی پہنچ جائے گا۔ وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور چیف سیکرٹریز کسی آؤٹ آف ٹرن ترقی۔ میرٹ کے خلاف تقرری، استحقاق سے زیادہ مراعات کی سمری پر دستخط کرتے ہوئے اندھے ہی تو ہو جاتے ہیں۔ قانون یا آئین کے منافی یا عوامی مفادات کے مخالف کسی بل یا سمری پر دستخط کرتے ہوئے صدر مملکت بھی اندھے ہی ہوتے ہیں۔ تاہم بعد میں اُن کا یہ معصومانہ اندھا پن کوئی وقتی یا عارضی بینا پکڑ ہی لیتا ہے۔
تو صاحبو آپ کو معلوم ہو گیا ناں کہ اس ملک میں بسنے والے تمام افراد اندھے ہیں۔ یہ بیس کروڑ 90 لاکھ اندھوں کا ملک ہے۔ کچھ سامنے موجود چیزوں کو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور کچھ دور کی چیزوں کو دیکھ نہیں پا رہے۔ کچھ دیکھنے کی صلاحیت کو استعمال نہ کرنے کے باعث اندھے اور باقی عقل کے اندھے ہیں۔ البتہ اس نکتے پر سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے کہ ان 20 کروڑ 90 لاکھ اندھوں میں بصارت کے اندھے زیادہ ہیں یا عقل کے۔


ای پیپر