امی جان! اللہ کے سپرد
07 مارچ 2018 2018-03-07

ضبط کے بندھن کوئی سنگ و خشت سے تعمیر شدہ تو نہیں ہوتے کہ درد و الم کی تندو تیز اور سر ٹکراتی موجوں کے باوجود بھی ٹوٹ ہی نہ پائیں، زندگی میں کتنی ہی بار ہم صعوبتوں اور کلفتوں کو ترتیب سے رکھتے ر کھتے بالآخر تھک سے جاتے ہیں اور جب جب ایسا ہوتا ہے، ضبط کے تمام اسلوب، قرینے اور سلیقے اچھل جاتے ہیں۔ قاری ابو حمزہ نے خطاب اور شیخ الحدیث مفتی عبدالرحمن شاہین الاثری نے نماز جنازہ شروع کی تو ضبط کے ساتھ جتنا میرا مضبوط ربط تھا وہ سب آنسوئوں کی رو میں بہہ گیا اور آپ جانیں کہ جب ضبط کے بندھن اپنی حدود و قیود توڑ ڈالیں تو پھر دوچار آنسوئوں پر ہی موقوف نہیں کرتے، پھر آنکھیں شرابور ہو جاتی ہیں، پھر اشکوں کے تسلسل کو تھامنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔
میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا
میں ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو جائوں اور عہد طفولیت کی پرانی سے پرانی یادوں کو کھوجنے کی کوشش کروں تو باد نسیم کا جو جھونکا ماضی کے جھرونکوں سے آ کرمشام جاں کو معطر کرتا ہے، وہ یہی ہے کہ جب بھی صبح سویرے میری آنکھیں کھلتیں تو امی جان کی تلاوت کی دھیمی دھیمی اور بھینی بھینی ایمان آفریں آواز سنائی دیتی۔ سردیوں کی صبحوں میں لحاف کے اندر امی جان کی تلاوت سنتے رہنا میرے بچپن کا ابتدائی ذوق تھا۔ ہمارے گھر کا سارا ماحول ہی علمی اور ادبی رنگ ڈھنگ لیے تھا۔ شام ڈھلے ہم سب ایک میز کے گرد لالٹین روشن کر کے بیٹھ جاتے اور کوئی کتاب کھول کر ایک بچہ بڑھتا اور باقی سب سنتے، اردو ادب کی نامور کتابیں، کہانیاں اور ناولز ہم نے بچپن میں ہی پڑھ لیے تھے۔ جب سے ہمارے شعور نے آنکھیں کھولی ہیں ہمارے گھر میں اخبار آتا ہے۔ اخبار سب سے پہلے والدہ محترمہ پڑھتیں۔ میرے کالمز کے متعلق مجھے بتاتیں کہ میں نے سارا پڑھ لیا ہے۔ امی جان سے متصل یادوں کے کتنے ہی نشاط انگیز جھونکے میرے گرد اکٹھے ہو چکے ہیں۔ یادوں اور باتوں کی رم جھم پھواریں صحرائے دل پر برس کر اسے گل و گلزار کئے جا رہی ہیں۔ قرآن کی تلاوت، اخبار کا مطالعہ اور کتب بینی کا ذوق ان کی فطرت میں گندھا تھا۔ ہم نے ہمیشہ انہیں نماز کی پابندی کرتے دیکھا رات کو سونے سے قبل سورہ الملک، سورہ یٰسین، سورہ رحمن اور سورہ مزمل پڑھنا انہوں نے اپنے اوپر فرض کر رکھا تھا۔ قرآن کے ساتھ محبت اتنی تھی کہ آخری عمر میں قرآن پاک اٹھانا ان کے لئے مشکل ہو گیا تو انہوں نے تیس پارے الگ الگ منگوا کر رکھ لیے اور پھر روزانہ ایک پارہ نکال کر تلاوت کرتیں۔ جب بھی مصائب و آلام گھر کا راستہ دیکھ لیتے فوراً صدقہ کرتیں اور نوافل پڑھتیں، جب بھی مساجد میں چندہ دیتیں تو کم از کم دو مساجد میں دیتیں اور اعلان نہ کرنے کی تلقین بھی کرتیں۔
ان کی زندگی میں کتنی ہی بار اندھیرے دبے پائوں چلے آئے۔ میرا جوان بھائی محمد اقبال فوت ہو گیا، والدہ محترمہ صبر و استقامت کا پیکر بنی رہیں اور کبھی کسی پر ظاہر نہ ہونے دیا کہ وہ اندر سے کس اذیت ناک شکست و ریخت سے دوچار ہیں۔ وہ صبح سویرے اٹھتیں عبادات سے فارغ ہو کر چائے بناتیں اور والد صاحب کے ساتھ اپنے بیٹے کی باتیں کرنے لگتیں اور پھر وقت نے ایک اور پلٹا کھایا۔ والد محترم دنیا چھوڑ چلے، ان کے دکھوں کو بانٹنے والا، ان کی زندگی کا ساتھی بھی انہیں چھوڑ گیا، مگر کمال صبر تھا اور عظیم استقامت کی شال انہوں نے اپنے اوپر تان رکھی تھی… لیکن ان کی زندگی میں ابھی ایک اور آزمائش باقی تھی، میرا بڑا بھائی اچانک ہی فوت ہو گیا، ان کا ایک اور لخت جگر مفارقت کے گھائو دے گیا۔ اگرچہ اس بار بھی انہوں نے اپنے حوصلے کو بڑا سنبھال سنبھال کر رکھا مگر دکھوں کے ہجوم اور درد کی بڑھتی پرچھائیوں کے سبب کئی جان لیوا عوارض نے آ گھیرا، وہ بیماریوں کو کبھی اہمیت نہ دیتیں اور نہ کبھی انہیں خاطر میں لاتیں، البتہ دوائیں باقاعدگی سے لیتی رہتیں۔
گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے ہیں
وہ سراپا محبت اور رحمت ہونے کے باوجود ہم سب پر اپنے حکم کو بھی نافذ کرتیں، غصہ بھی کرتیں، مگر بعد میں کہتیں کہ بیٹا! ماں کبھی سچے دل سے غصہ نہیں کرتی، میری اہلیہ شگفتہ ارم کو کہتیں کہ گھر کا دروازہ کھولنے اور بند کرنے سے پہلے بسم اللہ ضرور پڑھا کرو، رات کو جب تک ہم سب گھر لوٹ کر نہ آتے دروازے کی جانب ٹکٹکی باندھے بیٹھی رہتیں اور جب تک سارے افراد گھر نہ آ جاتے وہ سونے کیلئے اپنے کمرے میں نہ جاتیں۔
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی
محبتوں کے جذبات کا شیریں سمندر اللہ نے ماں ہی کے کوزہ دل میں بند کر دیا ہے، موت سے ایک دن قبل انہوں نے مجھے اپنے پاس بلایا اور میری پیشانی پر پیار کیا اور اگلے ہی دن اللہ کی رحمتوں کے حصار میں چلی گئیں (ان شاء اللہ ) دعائوں کا ایک ایسا در بند ہو گیا جو خالص محبتوں سے عبارت تھا۔ خاندان کا ایک ایسا مرکز بہت دور چلا گیا، جو سب کو ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے سرگرم رہتا تھا، ہم جب بھی گھر سے باہر نکلتے ان کے لبوں سے ہمیشہ یہ دعا نکلتی، جائو بیٹے! ’’ اللہ کے سپرد ‘‘! اور جب میں اپنے ہاتھوں سے انہیں لحد میں اتار رہا تھا تو میرے دل میں یہی الفاظ بار بار امڈ رہے تھے کہ جائیں اماں جی اللہ کے سپرد ۔
موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں


ای پیپر