کرشنا کماری ایوانِ بالا میں
07 مارچ 2018 2018-03-07

آخر کار سینیٹ کے الیکشن ہو ہی گئے۔نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کے آزادکردہ غلام سب سے زیادہ تعداد میں منتخب ہوئے۔اب ان کی پہلی ترجیح طوقِ غلامی دوبارہ گلے میں ڈالنا ہے۔تاہم یہ ان کا باہمی جماعتی معاملہ ہے۔ نو منتخب ارکان کی فہرست میں ایسا کو ئی نام نظر نہیں آیا جس پر فخر کیا جا سکے۔ مسلم لیگ ن ایوانِ بالا میں اپنی عددی اکثریت قائم کرنے میں ضرور کامیاب ہو گئی ہے۔ لیکن اپنے ’ حسنِ انتخاب ‘ کی بنا پر پارٹی نے اخلاقی میدان میں گنوایا ہی ہے کچھ پایا نہیں ہے۔جبکہ پیپلز پارٹی نے سندھ کی پکی نشستوں میں سے ایک پر محترمہ کرشنا کماری بھیل کوہلی کو نامزد کر کے ہم سب پاکستانیوں کی گردن فخر سے بلند کر دی ہے۔یعنی مسلم لیگ ن نے ہمیں شرمندہ کیا ہے اور پی پی پی نے حوصلہ دیا ہے۔غالباً جو لوگ دولت کے لالچ میں اندھے ہو چکے ہوں وہ ایسا ننگا منگا کام نہیں کر سکتے۔کیونکہ سینیٹر کرشنا کماری کے پاس اتنے پیسے تو یقینا نہیں ہیں کہ مشہورِ زمانہ بھوک کی تشفی کر سکیں۔ جناب آصف زرداری کا فسوں سینیٹ میں بھی سر چڑھ کر بولا ہے۔ دوسری طرف، بلکہ تیسری طرف ،معاملہ اب لعنت سے بڑھ کر جادوگری کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔خان صاحب مہذب ملکوں میں اگر پارٹی ارکان نوٹوں پر رقص کرنا شروع کر دیں تو پارٹی کے سربراہ فوراً استعفیٰ دے دیتے ہیں۔بلکہ جاپان میں تو خودکشی بھی کر لیتے ہیں۔ویسے اس ’ سینیٹ تماشے‘ میں کراچی پر خدائی کرنے والی ایک پارٹی کے تجربہ کار، سردوگرم چشیدہ اور جناب الطاف حسین کی نمائندگی جیسا مشکل فریضہ کامیابی سے سرانجام دینے والے رہنما اور ان کے ساتھیوں نے جس پچپنے کا مظاہرہ کیا ہے اس کی کوئی بھی تشریح کرنا مشکل ہی ، ناممکن ہے۔چیئرمین اور اس کے نائب کے لیے اُمیدواران ،دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو آپسی مفاہمت کے ذریعے
میدان میں اُتارنا چاہیے۔ورنہ چھوٹی جماعتوں کے ہاتھوں بہت خواری ہو گی۔ اس سے بھی زیادہ جتنی اس دفعہ ددٹوں کی ننگی خرید و فروخت سے ہوئی ہے۔ویسے تو اسی دنیا میں خواب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں۔اگر کرشناکماری سینیٹ کی متفقہ سربراہ یا نائب کے طور پر عہدہ سنبھال سکے تو یہ ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔
………………
خونِ مسلم اور چنگیز خان و ہلاکو کی فتح (A tale of three regions)
دنیا میں اس وقت تین مقامات ایسے ہیں جہاں انسانی خون سے ارزاں کوئی شے نہیں۔کشمیر، شام اور برما کے راکھان صوبے کے روہنگیا۔ویسے تو کسی کے لیے بھی اتنا اندھا ،گونگا اور بہرہ ہونا کافی مشکل کا م ہے کہ اسے مقبوضہ کشمیر میں قا بض بھارتی افواج اور ان کے مظالم نظر نہ آئیں: لیکن بہر حال ایسا ہو رہا ہے اور پچھلے ستر سال سے ہو رہا ہے۔شام کے شہر غوطہ پر خود شامی حکومت اور اس کے حواریوں ، روس اور ایران کی بمباری ایک ایسا معمول بن چکا ہے جس کی خبر بھی اب پہلے صفحات پر نہیں ہوتی۔باقی رہ گئے روہنگیا ۔تو کون روہنگیا اور کیسے روہنگیا۔جہاں وہ پلے بڑھے ہیں ،وہ ریاست ان کو اپنا شہری ماننے سے صاف انکار کرتی ہے۔شہری کیا وہ تو انہیں انسان ماننے سے بھی انکار کرتی ہے۔اور باقی ساری دنیا اپنے عمل اور خاموشی سے میانمیر حکومت کی تصدیق و تائید کر رہی ہے۔ کشمیری اپنے خون سے آزادی کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔جبکہ غوطہ کے شہری اورمیانمار کے روہنگیا، نسل ِانسانی کے اس بے بس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے وجود کا جواز ہی اپنے اپنے زمانے کے چنگیز و ہٹلر کی خون کی پیاس بجھانا ہو تا ہے۔اس منظر نامے کو پاکستانی دانشور کس طرح دیکھ رہے ہیں؟ ایک طبقہ پڑھے لکھے راکٹ سائنس فہمیدہ و چشیدہ افراد پر مشتمل ہے۔اگر یہ مظلوم، مسلمان نہ ہوتے تو پھر ان کی کھل کر حمایت کی جاسکتی تھی۔ اس معاملے میں ہم ویت نام، موزمبیق، انگولا سے شروع کر کے ایمیزان کے جنگلات اور پانڈا کی نسل کو درپیش خطرات تک کافی حساس ہیں۔لیکن یہ مسلم لوگ! چلو فلسطینی ہوتے تو پھر بھی کوئی بات ہو سکتی تھی ۔لیکن اب ۔۔۔کچھ تو شرم آتی ہے اور پھر کچھ اور شرم آتی ہے۔اس کے بالکل برعکس، جس طرح کہ آئینے میں دائیںاور بائیں کا فرق ہوتا ہے ، ایک موثر تعداد ہے جو ان بدنصیب لوگوں کو درپیش تمام آفات ، ان کے مسلمان ہونے سے منسوب کرتی ہے۔جتنا سادہ یہ تجزیہ ہے ایسا ہی اس کا حل ہے۔سب سے مقبول تجویز عالمِ اسلام کا ایک ہو جانا ہے۔ پھر اس متحدہ عا لمِ اسلام میں سے ایک فوجی قوت برآمد کر کے کائنات کی تمام طاغوتی قوتوں کو
نیست و نابود کر نا ہے۔اس سارے عمل میں منطقی نتیجے کے طور پر یہ تمام مظلوم بھی اپنا فطری مقام پا لیں گے۔بلکہ یہ دانشور ہمیں یاد کروانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ مسلمان اس دنیا پر حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ ایسی تحریریں پڑھنے والے ،لکھنے پڑھنے کے ہی خلاف ہو جاتے ہیں۔دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ کاغذ، روشنائی اور وقت کا ضیاع ہے۔دراصل فلسطین کے ساتھ ایسی باتیں خوب سجتی تھیں ، سجتی ہیں اور سجتی رہیں گی۔کیونکہ فلسطینی بھی باتوں کی کمائی کھاتے ہیں اور۔۔۔حقیقت میں اگر شامیوں کے لیے کسی نے احتجاج کیا ہے تو وہ پوپ ہے۔حیرت انگیز طور پر برما کی حکومت کو کسی عالمی احتجاج کا سامنا نہیںکرنا پڑ رہا۔ہاں یورپی یونین نے اب آنکھیں ملنا شروع کی ہیں کہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے۔میانمیر کے ظالموں کو اگر کسی دباو کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے تو وہ نوبل انعام یافتہ خواتین و حضرات کا گروپ ہے ، جو آنگ سان سوچی کو شرم دلا رہے ہیں۔ فوری خبر کے اس دور میں کشمیر کی شاندار جدوجہد کیسے ساری دنیا کی نظر سے اوجھل ہے ؟ ریاستِ پاکستان کی بھر پور نااہلی اس کی بڑی وجہ ہے۔اگر ملیحہ لودھی کشمیریوں کی خون سے رنگی قربانیوں کو اقوامِ متحدہ میں فلسطینی لڑکی کی تصویر سے بدل کر مذاق نہ بنا دیتی تو ہمارا، اخلاقی برتری پر قائم موقف یوں مُنہ بل زمین پر نہ آگرتا۔ویسے باقی سارا سال بھی پاکستان کے مستقل مندوب اور سفارت خانوں کی کار کردگی اس ضمن میں بھی صفر ہے۔شامیوں کے لیے صرف دعا کی جاسکتی ہے۔کیونکہ زمین کے تمام ظالم طاقتور اس خطے کوتختہ ِ مشق بنائے ہوئے ہیں۔ باقی بچے روہنگیا۔ کیا روہنگیا مسلمانوں کے لیے دعا بھی کی جاسکتی ہے یا وہ بھی محض وقت کا ضیاع سمجھا جائے گا؟


ای پیپر