شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی کاروائی مکمل ،مہلت مل گئی
07 مارچ 2018 (16:23)

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی کارروائی مکمل کرنے کی ڈیڈلائن میں 2 ماہ کی توسیع کردی۔جسٹس اعجازافضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی خصوصی بنچ نے شریف خاندان کے خلاف نیب ٹرائل مکمل کرنے کی مدت میں توسیع کے لیے سماعت کی ۔سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو شریف فیملی کے خلاف ریفرنسز کی کارروائی مکمل کرنے کے لیے مزید 2 ماہ کی مہلت دے دی، جب کہ اسحاق ڈار کے خلاف فیصلے کے لئے تین ماہ کی مہلت دیدی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے کی روشنی میں نیب ریفرنسز کے تحت ٹرائل کو مکمل کرنے کے لیے 6 ماہ کا وقت دیا گیا تھا، جو رواں ماہ 13 مارچ کو ختم ہونے والا ہے جبکہ اسی روز احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی مدتِ ملازمت بھی پوری ہونے والی ہے۔سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ٹرائل کی مدت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی ، سماعت کے دوران نیب کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اسحٰق ڈار مفرور ہیں لہٰذا ان کے خلاف ریفرنس کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔جس پرعدالت کے معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ مفرور ملزم سینیٹر بن گیا، کیا الیکشن کمیشن کو نہیں پتہ تھا کہ وہ عدالتی مفرور ہیں؟ جس پر نیب کے وکیل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان کے کاغذات مسترد کیے تھے لیکن عدالت نے انہیں سینیٹر بننے کی اجازت دی۔

بعد ازاں عدالت نے شریف خاندان اور اسحٰق ڈار کے ٹرائل کی مدت میں توسیع کا حکم دیتے ہوئے سماعت نمٹا دی۔


ای پیپر