نہال ہاشمی کیخلاف توہین عدالت کیس ،وکالت کا لائسنس معطل ،نوٹس جاری
07 مارچ 2018 (15:44) 2018-03-07

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے توہین آمیز تقریر پر نہال ہاشمی کو ایک بار پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔گزشتہ روز سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی کی سزا کے خلاف نظر ثانی اپیل کی سماعت ہوئی جس دوران چیف جسٹس نے جیل سے رہائی کے بعد نہال ہاشمی کی میڈیا سے گفتگو میں عدلیہ سے متعلق بیان پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے نہال ہاشمی کی وکالت کا لائسنس بھی معطل کردیا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ نہال ہاشمی نے رہائی کے بعد ججز کو گالیاں دیں، کیوں نہ ان کی سزا میں اضافہ کیا جائے۔سپریم کورٹ نے توہین آمیز تقریر پر نہال ہاشمی کو آج عدالت طلب کیا تھا جس پر نہال ہاشمی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نہال ہاشمی کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت بھری عدالت میں نہال ہاشمی کے توہین آمیز بیان کی ویڈیو کو دو مرتبہ چلایا گیا جس پر نہال ہاشمی نے کہا کہ ’میں عدالت کے سامنے شرمند ہوں، یہ میرے الفاظ نہیں، یہ جیل میں جو لوگ تھے ان کے الفاظ تھے۔نہال ہاشمی نے عدالت میں کہا کہ میں ایکٹنگ کررہا تھا، قسم کھاکر کہتا ہوں کہ عدالت کے بارے میں ایسا نہیں کہہ سکتا، ذہنی طور پر پریشان ہوں، بابارحتمے کون ہے مجھے نہیں پتا۔نہال ہاشمی کے مو¿قف پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کی ویڈیو دوبارہ چلاتے ہیں تاکہ آپ کو یقین ہوجائے، آپ تقریریں کرتے ہیں آپ کو کوئی پریشانی نہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے نہال ہاشمی سے استفسار کیا کہ آپ کو خود پر رحم نہیں آتا جو اس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں؟ توہین عدالت پر سزا مکمل کرنے کے بعد پھر متنازعہ بیان دینے پر آپ کو دوبارہ توہین عدالت کا نوٹس کیوں نہ جاری کیا جائے؟ آپ نوٹس کا جواب تیار کیجیے۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے حکم صادر کیا کہ ملزم نہال ہاشمی کو ان کے متنازعہ بیان کے ویڈیو اور تحریر کردہ مکمل بیان کی نقل فراہم کی جائے تاکہ وہ توہین عدالت پر اپنا جواب تیار کرسکیں۔


ای پیپر