Nai Baat Magazine Report
07 جون 2021 (17:55) 2021-06-07

محمد کاظم 

مئی 1935کی وہ ایک نسبتاً سرد رات تھی جب باغات کے شہر کوئٹہ کے لوگ شاید دن بھرکی محنت اور مشقت کے بعد 30مئی 1935ء کی شب آنکھوں میں نئے خواب لے کر سوگئے تھے تاکہ وہ اگلے دن یعنی 31مئی کو ان خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تازہ دم ہوکر اٹھیں، لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ ان میں سے ہزاروں افراد کو اگلا دن دیکھنا نصیب نہیں ہوا کیونکہ پورا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا۔یہ اتنی بڑی تباہی تھی کہ تباہی کے لحاظ سے یہ 2008ء میں آنے والے کشمیر کے زلزلے سے قبل جنوبی ایشیاء کا سب سے بڑا تباہ کن واقعہ تھا۔یہ واقعہ تھا 30اور31مئی کی درمیانی شب آنے والے زلزلے کا جس نے کوئٹہ سے قلات تک ایک سو پانچ کلومیٹر علاقے کو ہلاکر رکھ دیا لیکن سب سے زیادہ تباہی کوئٹہ شہر میں آئی۔ یہ زلزلہ اس شب تین بجکر تین منٹ پر آیا تھا محکمہ موسمیات کے دفتر میں آویزاں گھڑیال اس کا گواہ ہے جو کہ زلزلے کے ساتھ تین بجکر تین منٹ پر ہی بند ہوا اور یہ گھڑیال گزشتہ 86سال سے اسی طرح بند حالت میں پڑا ہے۔

بعض رپورٹس کے مطابق 30 سے 35 ہزار جبکہ بعض میں پچاس ہزار سے زائد لوگ صرف 30 سے45 سیکنڈ کے دوران موت کی آغوش میں چلے گئے۔وکی پیڈیا کے مطابق 2005ء میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آنے والے زلزلے سے قبل کوئٹہ کا زلزلہ جنویی ایشیاء کا سب سے بڑا تباہ کن زلزلہ تھا۔ماہر ارضیات اور بلوچستان یونیورسٹی کے سابق ڈین فیکلٹی آف ارتھ اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر دین محمد کاکڑ نے بتایا کہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.7تھی اور گہرائی 30کلومیٹر تھی۔اس کی لمبائی کوئٹہ میں ایئرپورٹ سے لیکرجنوب میں 105کلومیٹر قلات تک تھی۔

اس واقعہ میں پورا شہر تباہ ہوا تھا لیکن چھائونی بچ گئی تھی۔چھائونی شہر سے بہت زیادہ دور نہیں بلکہ قریب ہی واقع ہے لیکن اس تباہ کن زلزلے کے باوجود چھائونی محفوظ رہی۔جب یہ سوال پروفیسر دین محمد کاکڑ سے پوچھا گیا توان کا کہنا تھا کہ ایک وجہ اس کی یہ تھی کہ زلزلے کی جو فالٹ لائن تھی وہ شہر کے مغرب میں بروری کے علاقے سے گزری تھی اور یہ ایئرپورٹ روڈ سے قلات تک تھی۔ جس علاقے سے فالٹ لائن گزری تھی وہاں سے زمین میں دراڑ پڑ گئی تھی جس کے آثار اب بھی ہیں اور یہ کوئٹہ سے چالیس سے پچاس کلومیٹر دور مستونگ کے علاقے میں زیادہ واضح ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک وجہ یہ تھی کہ چھائونی فالٹ لائن سے کچھ فاصلے پر تھی۔دوسری وجہ یہ تھی چھائونی جس علاقے میں قائم کی گئی تھی وہ پہاڑ کے قریب تھا جہاں زمین سخت ہے۔’’چٹانوں کی وجہ سے زمین کا جو حصہ سخت ہوتا ہے وہاں زلزلے کے لہروں کی رفتار تیز ہوتی ہے جس کے باعث وہاں نقصان کم ہوتا ہے‘‘۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ چھائونی اور شہر کے درمیان حبیب نالہ سمیت ایک دونالے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ زلزلے سے دوتین قسم کی لہریں نکلتی ہیں جو کہ زمین کی سطح کے اوپر آرہی ہوتی ہیں’’ چونکہ حبیب نالے اور دوسرے نالوں کی وجہ سے ان میں بریک آئی اور ان نالوں نے چھائونی سے پہلے زلزلے کی انرجی کو کافی حد تک کم کیا تھا‘‘۔انہوں نے بتایا کہ چھائونی میں جو تعمیرات کی گئی تھیں ان کی چھتیں چادر کی تھیں اور وہاں اس وقت کوئی آرسی سی بلڈنگ نہیں تھی۔ان کا کہنا تھا کہ ان وجوہات کی وجہ سے چھائونی زلزلے سے کافی محفوظ رہی۔ انہوں نے بتایا کہ چھائونی کے مقابلے میں شہر فالٹ لائن سے نہ صرف قریب تھا بلکہ شہر جس علاقے میں قائم تھا چھائونی کے مقابلے میں وہاںزمین کی مٹی کی تہہ زیادہ تھی۔’’ جہاں زمین کی مٹی کی تہہ زیادہ ہوتو وہاں زلزلے کے لہروں کی رفتار کم ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شہر میں جو مکانات بنے تھے ان کو محفوظ طریقے سے نہیں بنایا گیا تھا۔’’ ان وجوہات کی بنیاد پر شہر میں نقصانات بہت زیادہ ہوئے‘‘۔چھائونی کے برعکس ایئرفورس کی تنصیبات شہر کے شمال مغرب میں تھیں جو کہ فالٹ لائن کے قریب ہونے وجہ سے بری طرح سے تباہ ہوگئی تھیں۔ایئرفورس کی نفری کا نصف یا تو ہلاک یا زخمی ہوئی تھی جبکہ طیاروں میں سے صرف تین بچ گئے تھے۔

اس وقت کوئٹہ گیریژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ(جی او سی) جنرل کارسلیک تھے۔انہوں نے زلزلے کے فوراً بعد کنٹرول روم سے رابطہ کیا تھا تو انہیں بتایا گیا کہ شہر گردوغبار سے اٹا ہوا ہے۔ہرطرف چیخ و پکار کی آوازیں آرہی ہیں اورخیال یہ ہے کہ شہر تباہ ہوگیا ہے۔جنرل کارسلیک نے فوری طور پر ایمرجنسی کا اعلان کیا اورفوج کو اسٹینڈ بائی رکھنے کا حکم جاری کیا تاہم ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کی رپورٹ کے مطابق فوج نے آدھے گھنٹے میں شہر کی جانب پیش قدمی کی۔ زلزلے کی اطلاع 31 مئی کو شملہ پہنچی تھی اس وقت وائسرائے کی جانب سے پریس کو ایک مختصر بیان جاری کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ کوئٹہ شہرتباہ ہوگیا ہے اور چند ہزار نفوس بچ گئے ہیں۔

ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کوئٹہ کیپٹن ایل اے جی پنہے کی رپورٹ کے مطابق چونکہ شدید زلزلے کی وجہ سے بجلی گھر تباہ ہوا تھا اس لیے زلزلے کے بعد شہر مکمل تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ چھائونی سے نکلنے والے فوجی جب اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر چھائونی سے متصل بروس روڈ (موجودہ جناح روڈ ) کے کونے پر پہنچے تو گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی ہیڈ لائٹس وہ واحد ذریعہ تھی جن سے انہوں نے شہر کی تباہی کا پہلا نظارہ کیا۔زلزلے سے شہر کی پولیس فورس اور سویلین انتظامیہ مکمل ختم ہوگئی تھیں۔ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کی رپورٹ کے مطابق شہر کی پولیس اور سویلین انتظامیہ کا صفایا ہوگیا تھا۔ شہر میںایک عارضی پولیس فورس قائم کی گئی تاکہ ٹریفک کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی مدد کریں جو شہر سے باہر جانا چاہتے تھے یا ان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں۔اس عارضی پولیس فورس کو چلانے کی ذمہ داری ان فوجی سٹوڈنٹس افسروں کوسونپی گئی جو کورس کے لیے اسٹاف کالج آئے تھے۔

ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کی رپورٹ کے مطابق ایجنٹ ٹو گورنر جنرل سر نارمن نے یہ محسوس کیا کہ افسروں اور اہلکاروں کی کمی کی وجہ سے سویلین انتظامیہ شہر کے انتظام کو نہیں چلاسکتی اس لیے انہوں نے 31 مئی کو ہی شہر کا کنٹرول جنرل کلارسک کے حوالے کیا چونکہ سویلین انتظامیہ عملاً ختم ہوگئی تھی جس پر شہر میں مارشل لاء نافذ کیا گیا۔جہاں شہر میں عارضی پولیس فورس قائم کی گئی وہاں بیک وقت پنجاب اور سابق این ڈبلیو ایف پی (موجودہ خیبر پختونخوا) کی حکومتوں نے کوئٹہ کے لیے اسپیشل پولیس فورس بھیج دی۔ان دونوں علاقوں سے پولیس فورس آنے کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ اب سویلین اتھارٹی دوبارہ شہر کا انتظام سنبھال سکتی ہے تو مارشل لاء کو طول نہیں دیا گیا صرف چار ہفتے بعد یعنی 28جون کو مارشل لاء اُٹھا لیا گیا۔

ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کی رپورٹ کے مطابق زلزلے کے بعد جو چھ ترجیحات طے کی گئیں ان میں سے پہلی یہ تھی کہ جو لوگ زندہ بچ گئے ہیں ان کو ریسکیو کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے شہر کو 8 سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا اور فوج کے مختلف یونٹوں کو اس کام پر لگا دیا گیا۔ تاہم خوش قسمتی سے چھائونی میں فوج کی گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ افسروں کی پرائیویٹ گاڑیاں تھیں جنکو شہر میں ریسکیو اور فوج کی نقل و حمل کے لیے استعمال میں لایا گیا۔اس کے علاوہ بگائی موٹر سروس نے بنوں اور پنجاب سے 80گاڑیوں پر مشتمل ایک فلیٹ بھیج دی۔ ان گاڑیوں کو ایک ماہ کے لیے مفت فراہم کیا گیا تاہم ان کو ایندھن حکومت کی جانب سے فراہم کیا جاتا رہا۔مشکل صورتحال میں یہ سخاوت مددگار ثابت ہوگئی۔31مئی کو صبح چھ بجے سے دن رات زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے کے لیے کام جاری رکھا گیا جبکہ یکم جون کو شہر کو سویلین افراد کی آمد ورفت کے لیے بند کیا گیا۔ ریسکیو کا کام 12جون تک جاری رکھا گیا جس دن شہر کو سیل کیا گیا تو باہر سے کسی کو اندر نہیں آنے دیا گیا ماسوائے متاثرین کے اگر ان میں سے کوئی اپنے گھر یا املاک پرآنا چاہتا تو ان کو کھدائی کے لیے معاونت فراہم کی جاتی تھی۔

3جون کی شام کو طبی مشورے پر لاشوں کے گلنے سڑنے کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والا ریسکیو کا کام روک دیا گیا اور شہر کو مکمل خالی کرایا گیا اور تمام پناہ گزینوں کو ریس کورس کیمپ منتقل کیا گیا جہاں ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔کوئٹہ شہر اور نواحی علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کو راشن ، کپڑوں اور طبی امداد کی فراہمی کا کام اسٹاف کالج کوئٹہ کے کرنل ہواس کو سونپا گیا۔اس مقصد کے لیے دو لاریاں استعمال میں لائی گئیں جن میں سے ایک میں خوراک  تھی جبکہ دوسری میں طبی اشیاء۔یہ لاریاں ابتدائی دو ہفتوں تک لگاتار دیہاتوں کی چکر لگاتی رہیں۔خوراک کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ تھا جسے ابتدا ہی میں حل کیا جانا تھا۔ خوراک کی موبلائزیشن کو یقینی بنانے کے لیے اس کے ذخائر ہر وقت ڈپو میں ہوتے تھے۔حکام نے پہلے یہ قدم اٹھایا کہ خوراک کو کس طرح بچایا جائے اور اس مقصد کے لیے سویلین آبادی کے لیے خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے فوج کے راشن میں کمی کی گئی۔ لوگوں کو مفت خوراک کی فراہمی کے لیے ایک تنظیم بنائی گئی۔جو پناہ گزین ریس کورس گرائونڈ میں تھے ان کو ہر روز دوپہر کو راشن فراہم کیا جاتا تھا۔کیمپوں میں لوگوں کی تعداد دس ہزار تھی۔

اگر ریلویز فعال نہیں ہوتا تو یہ تعداد بہت زیادہ بڑھ سکتی تھی۔ دو جون ہی سے ٹرینوں میں لوگ سندھ اور پنجاب جاتے رہے۔دو جون کو لوگوں سے بھری 6 ٹرینیں کوئٹہ سے سندھ اور پنجاب کے لیے روانہ ہوئیں اور رضاکاروں نے مختلف اسٹیشنوں پر انہیں خوراک فراہم کی۔چار جون تک پانچ ہزار افراد کو سندھ اور پنجاب کے لیے نکال دیا گیا۔کوئٹہ سے باہر بالخصوص لاہور اور کراچی کے اسٹیشنوں پر حکام اور ریلیف آرگنائیزیشنز کی جانب سے بیمار اور زخمی افراد کے لیے شاندار انتظامات کیے گئے تھے۔

ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کی رپورٹ کے مطابق آخری مسئلہ جو درپیش تھا وہ لوٹ مار کو روکنے کا انتظام تھا۔چار جون کو شہر کے گرد ڈبل خاردار تار بچھائی گئی اور اس کے ساتھ ساتھ دن رات گشت کا سلسلہ بھی جاری رہا جبکہ رات کو خاردار تاروں پر پر روشنی کابھی انتظام کیا گیا۔چند استثناعات کے سوا یہ انتظام ناپسندیدہ اور غیرضروری افراد کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے میں کامیاب ہوگیا۔اس کے علاوہ شہر کے داخلی راستوں پرکیولری کا گشت بھی جاری رہا۔شروع کے دنوں میں بعض قبائلیوں کو شہر کی جانب آتے دیکھا گیا تھا لیکن ان انتظامات کو دیکھ کر ان کو مایوس لوٹنا پڑا تھا اور کوئٹہ کے نواح میں جو قبائل رہتے تھے ان سے کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

سابق ڈائریکٹر جنرل محکمہ تعلقات عامہ نورخان محمد حسنی کی تحقیق کے مطابق پہلی رپورٹ میں جلدی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد صحیح معنوں میں نہیں بتائی گئی۔تین ماہ بعد شائع ہونے والی اس رپورٹ میں مرنے والوں کی تعداد 15اور20 ہزار لکھی گئی۔ اس کے پندرہ ماہ بعد شائع ہونے والی رپورٹ میں شہر کی آبادی 50 ہزاراور مرنے والوں کی تعداد چالیس ہزار بیان کی گئی۔

نورخان محمد حسنی کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد کم ظاہر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت ہند پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ زلزلہ کے بعدامدادی کام میں تاخیر کی گئی ’’ ملبے سے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے میں مجرمانہ طور پر تاخیر کی گئی اور پہلے کئی گھنٹے چند سو برطانوی خاندانوں کو تلاش کرنے اور ان کو محفوظ مقام پر پہنچانے میں صرف کیے گئے‘‘۔

نورخان محمد حسنی کے مطابق اسٹاف کالج میں کورس کرنے والے ایک برطانوی افسر نے جو زلزلے کے بعد کوئٹہ میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے ساتھ امدادی کام کرتے رہے لکھا ہے کہ 70ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔کوئٹہ کے زلزلے کے حوالے سے ایک انگریز افسر کی جانب سے 30 سیکنڈ کے نام سے مرتب کی جانے والی ایک کتاب کے دیباچے کے مطابق کوئٹہ کو انگریزوں نے خان قلات سے لیز پر حاصل کیا اور خان قلات کو اس شہر سے جو آمدنی حاصل ہوتی تھی وہ اس سے دگنی پر حاصل کی گئی۔انگریزوں کی آمد کے بعد یا ان کی آمد کے ساتھ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے لوگ آئے۔

نورخان محمد حسنی کی تحقیق کے مطابق چونکہ زلزلے کے وقت شہر کی آبادی کثیر المذاہب افراد پر مشتمل تھی اس لیے امدادی کاموں اورلاشوںکی شناخت کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔عیسائیوں کو کوئین میری روڈ کے قبرستان،پارسیوں کو اسمنگلی روڈ کے قبرستان اور مسلمانوں کو کاسی قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔اس زلزلے میں بہت سارے نابغہ روزگار لوگ بھی جاں بحق ہوئے جن میں نواب یوسف عزیز خان مگسی بھی شامل تھے۔ان کا شمار انگریزوں اور ان کے ایجنٹوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے سرخیل رہنمائوں میں ہوتا تھا۔

ان میں بہت سارے ہلاک ہونے والوں کی یادگاریں بھی تعمیر کی گئیں جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں۔ ہلاک ہونے والے مسیحوں کی یاد میں ایک یادگار حالی روڈ پر اب بھی موجود ہے جس پر ہلاک ہونے والے افراد کے نام کندہ ہیں۔اس زلزلے میں ریلوے کے 154ملازمین اوران کے 489 رشتہ دار ہلاک جبکہ 98ملازمین اور181رشتہ دار زخمی ہوئے تھے۔ ریلوے کے جو ملازمین ہلاک ہوئے تھے ان کے نام ریلوے اسٹیشن کے داخلی راستے پر کندہ ہیں۔ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ اس سانحے میں ہلاک ہوئے تھے ان کی لاشوں کے حوالے سے مذہبی رسومات پوری کی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے ہندوبرادری سے تعلق رکھنے والے افراد کی لاشوں کو جلانے کے بعد ان کے رشتہ داروں یا دوستوں کے حوالے کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ہندوئوں کی جو لاوارث لاشیں تھیں ان کی راکھ کو گنگا میں بہانے کے لیے سرکاری خرچ پر بھیج دیا گیا۔ 

کوئٹہ کا شمار بلوچستان کے علاقوں میںہوتا ہے جو کہ زلزلے کے خطرناک زون میں واقع ہیں۔1935ء کے تباہ کن زلزلے کے بعد بلڈنگ کوڈ کا نفاذ کیا گیا اور پروفیسر دین محمد کے مطابق 70 کی دہائی تک اس پر عملدرآمد ہوتا رہا تاہم اس کے بعد بڑے پیمانے پر اس کی خلاف ورزی کی گئی۔ زلزلے کے زون میں ہونے کی وجہ سے خطرات اور خدشات کے پیش نظر بلوچستان ہائیکورٹ وقتاً فوقتاًبلڈنگ کورٹ پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کا حکم دیتی رہی ہے لیکن ان پر زیادہ عملدرآمد نہیں ہوتا۔ماہرین کے مطابق بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی کی وجہ سے کوئٹہ میں کسی بڑے زلزلے کے باعث خدانخواستہ زیادہ نقصانات کا اندیشہ ہے۔


ای پیپر