Khalid Minhas, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
07 جون 2021 (11:09) 2021-06-07

عمران خان کی حکومت میں سب برا نہیں ہو رہا کچھ چیزیں اچھی بھی ہو رہی ہیں۔ جو یہ کہتے ہیں کہ سب کچھ خراب ہے وہ اصل میں اپنے آپ کا ایک بار پھر سے جائزہ لیں۔ سیاسی نظریہ ہر ایک کا اپنا اپنا ہے مگر راقم نہ کسی سیاسی جماعت کا کارکن ہے اور نہ ہی کسی پارٹی کے میڈیا سیل کا حصہ کہ ہر چیز میں کیڑے نکالے۔ جو صحیح نہیں ہو گا اس پر تنقید اور جو اچھا ہو گا اس کی تحسین بھی اپنے اوپر فرض ہے۔ جب خیبر پختونخوا میں ملین ٹری سونامی منصوبہ شروع ہوا تو اپوزیشن نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔اس منصوبے میں ہونے والی بدعنوانیوں کو بھی سامنے لایا گیا مگرحکومت کے علاوہ بہت کم ایسے لوگ تھے جنہوںنے اس منصوبے کو سراہا۔ تسلیم کہ جو اہداف مقرر کیے گئے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہو سکے مگر یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ اس سمت میں کچھ کام شروع ہوا ہے۔ ہم نے اپنے ماحول کو خراب کر کے اپنی فضا کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔جنگل کے جنگل کاٹ دیے گئے ۔اس پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان شدید بحران سے دوچار ہو جائے گا۔ عالمی ادارو ںنے خبردار کیا ہے کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پر ماحول کی خرابی کے بہت بر ے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ موجود ہے۔ بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا پانچ فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے حالانکہ ہر ملک کا اوسطا 31فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہونا چاہیے ۔اس لحاظ سے پاکستان ان چھ ممالک میں سے ایک ہے جہاں پرماحول کے تباہ کن اثرات سامنے آئیں گے۔ ماحول کو بچانے کے لیے منظم کوشش نہ ہوئی تو یہاں ایک طرف شدید سیلاب آئیں گے اور دوسری طرف ان آفات کے نتیجہ میں قحط سالی کا خطرہ بھی سر پر منڈلا رہا ہے۔ پاکستان آباد ی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اس لیے بھی ماحولیات کے مسائل شدید ہو نے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جتنی زیادہ آبادی میں اضافہ ہوتاہے اتنے ہی ماحولیات کو خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایک بڑی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درختوں پر آری چلانے کاعمل تیز ہو جاتا ہے۔عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 24فیصد سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے اور ایک بڑا حصہ وہ ہے جو اس وقت خط غربت پر موجود ہے۔جس تیزی کے ساتھ مہنگائی بڑھ رہی ہے وہ حصہ بھی غربت کی لکیر سے نیچے آ جائے گی اور ہم ان ممالک میں شامل ہو جائیں گے جس کی آبادی کا 40فیصد حصہ غریبوں پر مشتمل ہو گا۔ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے ایک پروجیکٹ کا حصہ ہے جس کے تحت ایکو سسٹم کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق ہر سال دنیا میں 10ملین ایکڑ 

پر مشتمل جنگلات کو کاٹ دیا جاتا ہے۔ ان سردیوں میں چلغوزہ کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی تھی حالانکہ چلغوزہ بلوچستان سے آتا ہے مگر وہاں پر لوگوں نے چلغوزے کے درختوں کو کھانا پکانے اور تعمیراتی کاموں کے لیے استعمال کیا۔اقوام متحدہ مقامی آبادی کے ساتھ مل کر چلغوزے کے درختوں کو بچانے کی کوشش میں مصروف ہے اور مقامی آبادی کی شرکت سے اس کے حوصلہ افزا نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مقامی آبادی اور کاشتکاروں کے تعاون سے کو ہ سلیمان کے260مربع کلومیٹر پر پھیلے چلغوزے کے درختوں کو بچا لیا گیا ہے۔ انہی جنگلات میں مار خور بھی موجود ہے جو ناپید ہو رہا تھا ۔ جنگلات کی افزائش سے مارخور کو بچانے میں بھی مدد ملے گی۔

ملین سونامی ٹری کے بعد اب خان نے دس بلین درخت لگانے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ اس وقت اس پروگرام کو دنیا کا سب سے بڑا درخت لگانے کا پروگرام قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے ایک طرف جنگلات میں اضافہ ہو گا، ملازمتوں کے مواقع نکلیں گے اور ساتھ ساتھ پاکستان کو اس مد میں دیے جانے والے قرضوں کی معافی بھی مل جائے گی۔ اسے بدقسمتی ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ ہم نے ابھی تک اس کو عام آدمی تک پہنچانے کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔ ہم انہیں اس بات پر قائل نہیں کر سکے کہ ایک درخت لگانے سے ناصرف ہمارا ماحول بہتر ہو گا بلکہ ہماری ملکی معیشت بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ اس وقت ملک میں دس بلین ٹری سونامی کا پہلا فیز چل رہا ہے یہ فیز 2023میں اختتام پذیر ہو گا اور اس مقصد کے لیے 125بلین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔اس کے مقاصد میں جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ، ایکو ٹورازم کی حوصلہ افزائی، مقامی آبادی کی شرکت اور ملازمتیں فراہم کرنا مقرر کیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جنگلات اور وائلڈ لائف کے محکموں میں 85ہزار ڈیلی ویجز کو بھرتی کیا گیا۔ 30جون 2021تک ون بلین ٹری لگانے کا ہدف پورا کر لیا جائے گا۔ گزشتہ برس ہم نے دیکھا کہ درخت لگانے کی اس مہم میں فوجی  اداروں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس منصوبے کو مکمل کرنا ہے تو تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کو اس میں شامل کیا جائے اور عوام کو درخت لگانے کی طرف راغب کیا جائے۔ 

گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی جس میں انہو ںنے ملک میںتیارہونے والے زیتون کے تیل کی شیشی اٹھا رکھی تھی۔ملک میں زیتون لگانے پر تیزی سے کام ہو رہاہے ۔ زیتون کی بڑے پیمانے پر کاشت سے ہم کھانے کے تیل کی ضرورت کو پورا کر سکیں گے۔ اس کے ساتھ سویابین اوراس طرح کی دوسری فصلوں کی کاشت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس دس بلین ٹری پروگرام میں ہمیں ان پودوں کا انتخاب کرنا ہے جو ہماری معیشت میں اپنا حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ ہماری غذائی ضروریات کو بھی پورا کر سکیں۔ انے واہ ایسے پودے نہ لگائیں جس کا فائدہ صرف یہ ہو کہ وہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے لگائے جارہے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم ان پودوں کی طرف جائیں جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں بھی اپنا حصہ ڈالیں۔

ڈاکٹر شہزاد بسرا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے پروفیسر ہیں وہ ایک عرصہ سے مقامی پودے سوہانجنا جیسے مورنگا کہتے ہیں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ دس بلین ٹری پروگرام میں اس پودے کو شامل کیا جائے۔ ایک تو یہ مقامی پودا ہے دوسرا دنیا میں اس پودے سے بننے والی مصنوعات کی تجارت کا حجم 5ارب ڈالر سے زائد ہے۔ بھارت اس پودے کی کاشت سے پیسہ کما رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ فلپائن اور دوسرے ممالک میں بھی اس پودے کی کاشت ہو رہی ہے۔پاکستان جو اس پودے کا مسکن ہے وہاں پر اس کی کاشت نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہ ابھی تک کیش کراپ نہیں بنی۔اس کرشماتی پودے کی کاشت سے انسانوں اور جانوروں میں غذائی ضرورت کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔خاص طور پر وہ آبادی اور بچے جوغذا کی کمی کا شکار ہو کر مختلف عارضوں میں مبتلا ہو رہے ہیں ان کی روزانہ کی خوراک میں اس پودے کو شامل کرنا ضروری ہے۔اس کی افادیت کو دیکھتے ہوئے افریقہ کے کئی ممالک میں بھی اس پودے کی کاشت شروع ہو چکی ہے۔

دس بلین ٹری کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک بڑی مہم کی ضرورت ہے۔ماضی میں ہم نے سفیدے کے درخت لگائے جس سے پانی کی سطح مزید نیچے چلی گئی اور ہم پانی کی کمی کا شکار ہو گئے۔ اب ہمیں ان پودوںکی طرف آنا ہے جو کم پانی استعمال کریں ۔ ہماری شاہراہوں کے کناروں پر پھل دار پودے لگانے کے مطالبہ بھی ایک عرصہ سے کیا جارہا ہے۔ موٹر ویز کے اطراف میں پھل دار درخت لگانے سے ہمارا ماحول بہتر ہو گا تو دوسری طرف قوم کو پھل بھی میسر ہوں گے۔اس وقت رونا آتا ہے جب حکومت ایک طرف دس بلین ٹری کے منصوبے کی بات کررہی تھی تو دوسری طرف ملتان ایک ہائوسنگ سکیم کے لیے آم کے درختوں کا قتل عام جاری تھا۔ اس سے لگتاہے کہ کمٹ منٹ کی کمی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں درختوں کی کٹائی کے بجائے انہیں بچانے یا دوسری جگہ منتقل کرنے کی سکیم شروع کی جائے ۔ اس جواز کو قبول نہ کیا جائے کہ اس درختوں کے بدلے میں ہم نئے درخت لگا دیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی شخص کو مارنے دیا جائے اس کی جگہ نیا بچہ پیدا کر دیں گے۔


ای پیپر